کرکٹ بورڈکی ’’آزاد پالیسی‘‘ تنازعات کوہوا دینے لگی

کھلاڑیوں اور آفیشلزکوٹی وی پرتبصروں کے ذریعے دہری کمائی کی کھلی چھٹی

پالیسی معاملات پر بات چیت سے پی سی بی کے لیے مسائل کا خدشہ پیدا ہوگیا فوٹو: فائل

پی سی بی کی ''آزاد پالیسی'' تنازعات کو ہوا دینے لگی، کنٹریکٹ یافتہ کرکٹرز اورعہدیداروں کو ٹی وی پر تبصروں کے ذریعے دہری کمائی کی کھلی چھٹی دیدی گئی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے سینٹرل کنٹریکٹ پانے والے کھلاڑیوں اور بھاری تنخواہوں پر تعینات عہدیداروں کو یوں تو اجازت لیے بغیر میڈیا سے گفتگوکرنے کی اجازت نہیں ہوتی لیکن اس بار آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں جاری ورلڈکپ کے دوران تبصروں کی کھلی آزادی دیدی گئی ہے،انجری کے سبب میگاایونٹ میں شرکت سے محروم رہ جانے والے محمد حفیظ، حال میں بولنگ ایکشن کلیئر کرانے کے بعد سعید اجمل،کنٹریکٹ یافتہ پلیئرز اظہرعلی اور فواد عالم مختلف ٹی وی چینلز پر ماہرانہ رائے دیتے نظر آتے ہیں۔


نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے ہیڈکوچ و سلیکٹر محمد اکرم، سلیکٹرز شعیب محمد،وجاہت اللہ واسطی،اعجاز احمد، جونیئر سلیکشن کمیٹی کے سربراہ باسط علی،کراچی میں پی سی بی کے ساتھ مختلف حیثیتوں سے وابستہ صلاح الدین صلو، توصیف احمد اور سلیم جعفربھی دہری کمائی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔قومی کرکٹرز اور عہدیداروں کو آزادی دینے کے نتیجے میں کئی معاملات میں پی سی بی کی انتظامی گرفت ڈھیلی پڑتی نظر آتی ہے،بھارت سے میچ کے بعد بورڈ نے فیصلہ کیا تھا کہ عمراکمل کا متنازع آؤٹ دینے والے اسٹیوڈیوس کی کوئی شکایت نہیں کی جائے گی۔

دوسری جانب سعید اجمل کاکہنا تھا کہ امپائر ہمیشہ پاکستان کیخلاف متنازع فیصلے دیتے ہیں۔ ایک غیرملکی خبر رساں ادارے نے محمد حفیظ کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ جاری کردی کہ ہیڈ کوچ وقار یونس اور چیف سلیکٹر معین خان کپتان مصباح الحق کو کنارے لگانے کی کوشش کررہے ہیں،بحث طول پکڑ جانے پر محمد حفیظ کو یہ وضاحت پیش کرنا پڑی کہ بھارتی میڈیا نے پاکستانی ٹیم کو بدنام کرنے کیلیے پروپیگنڈہ کیا، میں نے اس طرح کی کوئی بات نہیں کہی تھی،کھلاڑی اور مینجمنٹ متحد ہیں،ڈریسنگ روم میں کوئی سیاست یا اختلافات نہیں، آل راؤنڈر کا کہنا تھا کہ بیان مجھ سے منسوب کیا جانا ایک سنگین واقعہ ہے جس کے بارے میں پی سی بی کو آگاہ کروں گا۔
Load Next Story