جاوید میانداد نے ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کو ’’کمزور ترین‘‘ قرار دیدیا

کرکٹ بورڈکے تھنک ٹینک نے دستیاب بہترین کھلاڑیوں کا بھی انتخاب نہیں کیا، سابق کپتان

شعیب ملک، اظہر علی اور ذوالفقار بابر جیسے باصلاحیت کھلاڑیوں کو نظر اندازکردیا گیا۔ سابق قائد فوٹو: فائل

جاوید میانداد نے ورلڈ کپ میں شریک پاکستانی کرکٹ ٹیم کو ''کمزور ترین'' قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی سی بی کے تھنک ٹینک نے دستیاب بہترین پلیئرز کا بھی انتخاب نہیں کیا۔

تفصیلات کے مطابق سابق کپتان جاوید میانداد نے آئی سی سی کیلیے کالم میں تحریر کیا کہ اس بار پاکستان کو ورلڈکپ میں اپنی کمزور ترین ٹیم کی خدمات حاصل ہیں، اس کی وجہ یہ نہیں کہ دوسری ٹیمیں مضبوط ہوگئی ہیں، دراصل پی سی بی کے تھنک ٹینک نے دستیاب بہترین کھلاڑیوں کا انتخاب ہی نہیں کیا، شعیب ملک، اظہر علی اور ذوالفقار بابر جیسے باصلاحیت کھلاڑیوں کو نظر اندازکردیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ میگا ایونٹ کیلیے کوئی پلاننگ نظر نہیں آتی،یہ5میچز کی ون ڈے سیریز نہیں کہ تجربات کیے جائیں،ورلڈ کپ میں ہر پوزیشن کیلیے اسپیشلسٹ کھلاڑیوں کی ضرورت ہوتی ہے،ناصر جمشید کو بطور تیسرا اوپنر پہلے ہی اسکواڈ کے ساتھ روانہ کیا گیا ہوتا تو وہ اب تک کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہوچکے ہوتے،انھیں بھیجا بھی تو اب میدان میں اتارنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔


سابق کپتان نے کہا کہ بھارت کے ہاتھوں شکست نے خطرے کی گھنٹی بجا دی،امید ہے کہ مینجمنٹ نے غلطیوں سے سبق سیکھا ہوگا، گروپ آف ڈیتھ میں اب گرین شرٹس کے ساتھ ویسٹ انڈیز کو بھی بقا کی جنگ لڑنا ہوگی، میانداد نے کہا کہ میں یونس خان جیسے تجربہ کار کھلاڑی کو ڈراپ کرنے کے حق میں نہیں ہوں، تاہم آؤٹ آف فارم بیٹسمین کو اوپنر نہیں بھیجا جاتا بلکہ سیٹ ہونے کا موقع دیتے ہیں، انھیں لوئر آرڈرمیں بھیجا جاسکتا ہے جب گیند پرانی ہوچکی ہو۔

جاوید میانداد کا کہنا تھا کہ اس وقت تو مصباح الحق کے سوا ہمارے بیشتر بیٹسمین جدوجہد کررہے ہیں، انھوں نے کہا کہ ویسٹ انڈیز کی جانب سے آئرلینڈ کیخلاف لوئر آرڈر نے بھی مزاحمت کی، لینڈل سمنز اور ڈیرن سیمی نے پُر اعتماد انداز میں بیٹنگ کی، پاکستان کو ابتدا میں ان فارم کھلاڑیوں کو بھیجنا چاہیے، کسی بیٹسمین کو ڈراپ کرنے کے بجائے یاسرشاہ کو باہر بٹھایا جا سکتا ہے، ہولڈر ناتجربہ کار کپتان ہیں اس کا گرین شرٹس کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔
Load Next Story