رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2 ارب 30 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ہوگیا
گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 23کروڑ ڈالر کم رہا، اسٹیٹ بینک آف پاکستان
سات ماہ کے دوران اشیا کی ایکسپورٹ میں نمو کے بجائے 2.5فیصد تنزلی رہی جبکہ درآمدات میں ایک فیصد تک اضافہ ہوا۔ فوٹو: فائل
رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ کو 2ارب 30کروڑ 70لاکھ ڈالر خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 23کروڑ ڈالر کم رہا۔ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں کرنٹ اکاؤنٹ کو 2ارب 53کروڑ 70لاکھ ڈالر خسارے کا سامنا تھا۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایک ارب 64کروڑ 70لاکھ ڈالر تھا جس میں دوسری سہ ماہی کے دوران 56 کروڑ 50لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔
دسمبر کے مہینے میں کرنٹ اکاؤنٹ 22کروڑ 60لاکھ ڈالر سے سرپلس رہا تاہم جنوری 2015میں 9کروڑ 50لاکھ ڈالر خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ کرنٹ اکاؤنٹ کے عدم توازن میں تجارتی خسارے نے اہم کردار ادا کیا، بے قابو درآمدات اور برآمدت میں نمو نہ ہونے سے توازن ادائیگی کوسات ماہ میں 10ارب 69کروڑ60لاکھ ڈالر خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ سات ماہ کے دوران اشیا کی ایکسپورٹ میں نمو کے بجائے 2.5فیصد تنزلی رہی جبکہ درآمدات میں ایک فیصد تک اضافہ ہوا۔ اشیا و خدمات کی تجارت کا مجموعی خسارہ 12ارب 15کروڑ 70لاکھ ڈالر رہا۔
سات ماہ کے دوران 10ارب 35کروڑ 90لاکھ ڈالر کی ترسیلات نے جاری کھاتے کو کافی حد تک سنبھالا دیا تاہم غیرملکی سرمایہ کاری میں کمی اور بیرونی ادائیگیوں کی وجہ سے فنانشل اکاؤنٹ 2ارب 36کروڑ 80لاکھ ڈالر خسارے میں رہا۔ سات ماہ کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 1.4فیصد کے برابر ہے گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کا 1.8فیصد رہا تھا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 23کروڑ ڈالر کم رہا۔ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں کرنٹ اکاؤنٹ کو 2ارب 53کروڑ 70لاکھ ڈالر خسارے کا سامنا تھا۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایک ارب 64کروڑ 70لاکھ ڈالر تھا جس میں دوسری سہ ماہی کے دوران 56 کروڑ 50لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔
دسمبر کے مہینے میں کرنٹ اکاؤنٹ 22کروڑ 60لاکھ ڈالر سے سرپلس رہا تاہم جنوری 2015میں 9کروڑ 50لاکھ ڈالر خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ کرنٹ اکاؤنٹ کے عدم توازن میں تجارتی خسارے نے اہم کردار ادا کیا، بے قابو درآمدات اور برآمدت میں نمو نہ ہونے سے توازن ادائیگی کوسات ماہ میں 10ارب 69کروڑ60لاکھ ڈالر خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ سات ماہ کے دوران اشیا کی ایکسپورٹ میں نمو کے بجائے 2.5فیصد تنزلی رہی جبکہ درآمدات میں ایک فیصد تک اضافہ ہوا۔ اشیا و خدمات کی تجارت کا مجموعی خسارہ 12ارب 15کروڑ 70لاکھ ڈالر رہا۔
سات ماہ کے دوران 10ارب 35کروڑ 90لاکھ ڈالر کی ترسیلات نے جاری کھاتے کو کافی حد تک سنبھالا دیا تاہم غیرملکی سرمایہ کاری میں کمی اور بیرونی ادائیگیوں کی وجہ سے فنانشل اکاؤنٹ 2ارب 36کروڑ 80لاکھ ڈالر خسارے میں رہا۔ سات ماہ کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 1.4فیصد کے برابر ہے گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کا 1.8فیصد رہا تھا۔