کوئٹہ میں بھی انسداد دہشت گردی فورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ
دہشت گردی جس طرح اپنی خوفناک صورت میں ملکی سلامتی اور اداروں کے تحفظ کے لیے چیلنج بن چکی ہے۔
ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار دہشت گردی کی وارداتوں سے خوفزدہ ہو کر یہاں سرمایہ کاری کرنے کے لیے آمادہ دکھائی نہیں دیتے، فوٹو : پرائم منسٹر آفس
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو جمعرات کو کوئٹہ میں انسداد دہشت گردی فورس کے پہلے اسپیشل کمبیٹ یونٹ کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم اور قومی ادارے متحد ہو کر قومی لائحہ عمل کے تحت ملک سے دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہیں، ہم نے دہشتگردی کے خلاف جنگ ہر حال میں جیتنا ہے، یہ ہماری معاشی و معاشرتی زندگی کا مسئلہ اور آیندہ نسلوں کی بقاء کا سوال ہے، اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ہمیشہ کے لیے اس دھرتی کو دہشت گردی کی لعنت سے پاک نہیں کر دیا جاتا،جلد مرکز اور صوبوں میں امن قائم ہوگا اور انشاء اللہ پاکستان اس دہشت گردی سے جلد آزاد ہوگا۔
دہشت گردی جس طرح اپنی خوفناک صورت میں ملکی سلامتی اور اداروں کے تحفظ کے لیے چیلنج بن چکی ہے وہ اس امر کی متقاضی ہے کہ اس سے نمٹنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔ حکومت نے اس امر کا ادراک کرتے ہوئے صوبوں میں انسداد دہشت گردی فورس تشکیل دینے کا آغاز کر دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے بلوچستان میں 18 خواتین سمیت 200 ارکان پر مشتمل پولیس یونٹ کو دو ماہ تک سخت تربیت کے مرحلے سے گزارنے کے بعد دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔31 جنوری کو لاہور میں بھی کاؤنٹر ٹیرر ازم فورس کے 421 کارپورلز پر مشتمل پہلے دستے کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب ہوئی تھی جس میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے شرکت کی تھی۔
برادر ملک ترکی نے ان کارپورلز کی انٹیلی جنس' آپریشنز اور انویسٹی گیشن کے حوالے سے خصوصی تربیت کے لیے بھرپور تعاون کیا اور ترک نیشنل پولیس کے 45 سینئر افسران بھجوائے تھے۔ آج پاکستان کو جو چیلنجز درپیش ہیں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ایسی ہی تربیت یافتہ فورس کی ضرورت ہے تاکہ ملک بھر سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔ حکومت' فوج اور پوری قوم متحد ہو کر یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ ملک کو دہشت گردی کے ناسور سے پاک کرنے کے لیے اس کے خلاف جاری جنگ ہر حال میں جیتنی ہے کیونکہ یہ ملکی معیشت' ترقی' معاشرتی زندگی اور آیندہ آنے والی نسلوں کی بقا کا مسئلہ ہے۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف بارہا اس عزم کا اظہار کر چکے ہیں کہ وہ اس دھرتی کو دہشت گردی کی لعنت سے پاک کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔ فوج تو دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر جنگ لڑ رہی ہے اس کے ساتھ ساتھ اس امر کو بھی محسوس کیا جا رہا تھا کہ سول سطح پر بھی دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے انتہائی تربیت یافتہ فورس تیار کی جائے۔
اس مقصد کے لیے کاؤنٹر ٹیرر ازم فورس کی تشکیل کی گئی ہے۔ اس فورس کا دائرہ کار ملک کے تمام حصوں میں پھیلایا جانا ناگزیر ہے۔ انٹیلی جنس کا نظام جس قدر موثر ہو گا اور دہشت گردوں کے خلاف جس سرعت سے آپریشن کیا جائے گا' دہشت گرد اتنے ہی کمزور ہوتے چلے جائیں گے۔ کبھی ترکی کے اندر دہشت گردوں کا خطرہ اسی طرح محسوس کیا جاتا تھا جس طرح آج پاکستان میں محسوس کیا جا رہا ہے لیکن ترکی نے بہتر حکمت عملی کے باعث اس خطرے پر قابو پا لیا۔
پاکستان بھی اب اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے ترکی کے تجربات اور انسداد دہشت گردی فورس کی تربیت کے لیے ترک پولیس افسروں سے استفادہ کر رہا ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اس امید کا اظہار کر چکے ہیں کہ جلد مرکز اور صوبوںمیں امن قائم ہو گا اور انشاء اللہ پاکستان اس دہشت گردی سے جلد آزاد ہو گا۔ دہشت گردی کے خاتمے سے یقیناً اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ اور ملک سے غربت کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
دہشت گردی کی وارداتوں کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہونے سے عوام اور حکومت میں اب خوف پیدا ہونے کے بجائے اس عفریت کے خاتمے کے لیے جوش و جذبہ پیدا ہوا ہے اور انھوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک کو اس لعنت سے پاک کرنے کے لیے خواہ کتنی بڑی قربانی کیوں نہ دینی پڑے اس سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ وہ مذہبی جماعتیں جو انتہا پسندوں سے کسی نہ کسی سطح پر مختلف طریقوں سے اپنی حمایت کا اظہار کرتی رہتی ہیں انھیں بھی اب یہ سوچنا چاہیے کہ یہ انتہا پسند آج جہاں ملکی سلامتی اور بقا کے لیے خطرہ بن چکے ہیں کل وہ ان مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دوسروں کو ڈسوانے کے لیے جو سانپ پالے جائیں وہ اپنی جان کے لیے بھی اسی طرح خطرہ ہوتے ہیں۔ ملکی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ دہشت گردی کا عنصر بھی ہے۔
ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار دہشت گردی کی وارداتوں سے خوفزدہ ہو کر یہاں سرمایہ کاری کرنے کے لیے آمادہ دکھائی نہیں دیتے۔ یہ اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں کہ ملکی معاشی سرگرمیاں کمزور پڑنے کے باعث یہاں کا سرمایہ کار بڑے پیمانے پر اپنا سرمایہ بیرون ملک منتقل کر رہا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پوری قوم متحد ہوکر دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے حکومت اور فوج کا ساتھ دے۔
دہشت گردی جس طرح اپنی خوفناک صورت میں ملکی سلامتی اور اداروں کے تحفظ کے لیے چیلنج بن چکی ہے وہ اس امر کی متقاضی ہے کہ اس سے نمٹنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔ حکومت نے اس امر کا ادراک کرتے ہوئے صوبوں میں انسداد دہشت گردی فورس تشکیل دینے کا آغاز کر دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے بلوچستان میں 18 خواتین سمیت 200 ارکان پر مشتمل پولیس یونٹ کو دو ماہ تک سخت تربیت کے مرحلے سے گزارنے کے بعد دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔31 جنوری کو لاہور میں بھی کاؤنٹر ٹیرر ازم فورس کے 421 کارپورلز پر مشتمل پہلے دستے کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب ہوئی تھی جس میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے شرکت کی تھی۔
برادر ملک ترکی نے ان کارپورلز کی انٹیلی جنس' آپریشنز اور انویسٹی گیشن کے حوالے سے خصوصی تربیت کے لیے بھرپور تعاون کیا اور ترک نیشنل پولیس کے 45 سینئر افسران بھجوائے تھے۔ آج پاکستان کو جو چیلنجز درپیش ہیں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ایسی ہی تربیت یافتہ فورس کی ضرورت ہے تاکہ ملک بھر سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔ حکومت' فوج اور پوری قوم متحد ہو کر یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ ملک کو دہشت گردی کے ناسور سے پاک کرنے کے لیے اس کے خلاف جاری جنگ ہر حال میں جیتنی ہے کیونکہ یہ ملکی معیشت' ترقی' معاشرتی زندگی اور آیندہ آنے والی نسلوں کی بقا کا مسئلہ ہے۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف بارہا اس عزم کا اظہار کر چکے ہیں کہ وہ اس دھرتی کو دہشت گردی کی لعنت سے پاک کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔ فوج تو دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر جنگ لڑ رہی ہے اس کے ساتھ ساتھ اس امر کو بھی محسوس کیا جا رہا تھا کہ سول سطح پر بھی دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے انتہائی تربیت یافتہ فورس تیار کی جائے۔
اس مقصد کے لیے کاؤنٹر ٹیرر ازم فورس کی تشکیل کی گئی ہے۔ اس فورس کا دائرہ کار ملک کے تمام حصوں میں پھیلایا جانا ناگزیر ہے۔ انٹیلی جنس کا نظام جس قدر موثر ہو گا اور دہشت گردوں کے خلاف جس سرعت سے آپریشن کیا جائے گا' دہشت گرد اتنے ہی کمزور ہوتے چلے جائیں گے۔ کبھی ترکی کے اندر دہشت گردوں کا خطرہ اسی طرح محسوس کیا جاتا تھا جس طرح آج پاکستان میں محسوس کیا جا رہا ہے لیکن ترکی نے بہتر حکمت عملی کے باعث اس خطرے پر قابو پا لیا۔
پاکستان بھی اب اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے ترکی کے تجربات اور انسداد دہشت گردی فورس کی تربیت کے لیے ترک پولیس افسروں سے استفادہ کر رہا ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اس امید کا اظہار کر چکے ہیں کہ جلد مرکز اور صوبوںمیں امن قائم ہو گا اور انشاء اللہ پاکستان اس دہشت گردی سے جلد آزاد ہو گا۔ دہشت گردی کے خاتمے سے یقیناً اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ اور ملک سے غربت کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
دہشت گردی کی وارداتوں کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہونے سے عوام اور حکومت میں اب خوف پیدا ہونے کے بجائے اس عفریت کے خاتمے کے لیے جوش و جذبہ پیدا ہوا ہے اور انھوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک کو اس لعنت سے پاک کرنے کے لیے خواہ کتنی بڑی قربانی کیوں نہ دینی پڑے اس سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ وہ مذہبی جماعتیں جو انتہا پسندوں سے کسی نہ کسی سطح پر مختلف طریقوں سے اپنی حمایت کا اظہار کرتی رہتی ہیں انھیں بھی اب یہ سوچنا چاہیے کہ یہ انتہا پسند آج جہاں ملکی سلامتی اور بقا کے لیے خطرہ بن چکے ہیں کل وہ ان مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دوسروں کو ڈسوانے کے لیے جو سانپ پالے جائیں وہ اپنی جان کے لیے بھی اسی طرح خطرہ ہوتے ہیں۔ ملکی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ دہشت گردی کا عنصر بھی ہے۔
ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار دہشت گردی کی وارداتوں سے خوفزدہ ہو کر یہاں سرمایہ کاری کرنے کے لیے آمادہ دکھائی نہیں دیتے۔ یہ اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں کہ ملکی معاشی سرگرمیاں کمزور پڑنے کے باعث یہاں کا سرمایہ کار بڑے پیمانے پر اپنا سرمایہ بیرون ملک منتقل کر رہا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پوری قوم متحد ہوکر دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے حکومت اور فوج کا ساتھ دے۔