بلدیاتی الیکشن سے گریز قابل افسوس ہے
بلدیاتی نظام کی افادیت سےچنداں انکارممکن نہیں اورتمام صوبوں کی سیاسی پارٹیاں بھی بظاہربلدیاتی نظام کےحق میں نظرآتی ہیں
تمام جمہوری حکومتوں نے اب تک بلدیاتی نظام سے گریز کی راہ کو اپنایا ہے لیکن اب سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے بعد بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ناگزیر ہو چکا ہے۔ فوٹو: فائل
بلدیاتی انتخابات کے انعقاد اور اس سے گریز کی راہ پر گامزن صوبائی حکومتوں کے طرز عمل پر نہ صرف عوام بلکہ سپریم کورٹ بھی نالاں دکھائی دیتی ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے بارہا بلدیاتی انتخابات کے انعقاد اور حتمی تاریخوں کے اعلان کے احکامات کے باوجود صوبائی حکومتیں اب بھی ٹال مٹول سے کام لے رہی ہیں۔
جمعرات کو سپریم کورٹ نے بلدیاتی الیکشن کے عدم انعقاد کا پھر نوٹس لیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ بلدیاتی ادارے نہ ہونے کی وجہ سے آئین بے معنی اور پولیس آرڈر مجریہ 2002ء غیر موثر ہو چکا ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے پولیس کی ایذا رسانیوں اور ایف آئی آر درج نہ کرنے کی شکایات کے مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے آبزرویشن دی کہ پولیس کے ظلم کے شکار افراد کی شکایات کا ازالہ نہ ہونے کی وجہ سے نظام پر لوگوں کا اعتماد اٹھ رہا ہے اور ناامیدی بڑھتی جا رہی ہے جس کا نتیجہ معاشرے میں تشدد کی شکل میں نکل رہا ہے۔
پبلک سیفٹی کمیشن 9 سال سے غیر فعال ہے کیونکہ بلدیاتی الیکشن ہی نہیں ہوئے، 9 سال سے آئین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، 5 سال سے سپریم کورٹ ہدایت پر ہدایات دے رہی ہے لیکن عمل نہیں ہو رہا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ آئین بے معنی ہو چکا ہے۔ جسٹس سپریم کورٹ کی یہ تمام باتیں چشم کشا اور صوبائی حکومتوں کی لاپرواہی کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جمہوری اقدار اور آئینی تقاضوں کا حکومت کتنا احترام کرتی ہے۔
جب کہ جمہوریت توآئین و قانون کے احترام اور پابندی پر استوار ہوتی ہے۔ بلدیاتی نظام کی افادیت سے چنداں انکار ممکن نہیں اور تمام صوبوں کی سیاسی پارٹیاں بھی بظاہر بلدیاتی نظام کے حق میں نظر آتی ہیں لیکن درپردہ عوامی امنگوں کے ترجمان اس نظام کے نفاذ میں رکاوٹ بھی یہی صوبائی حکومتیں ڈال رہی ہیں کیونکہ بلدیاتی نظام نافذ ہونے کے بعد کرپشن کے کئی دروازے نہ صرف بند ہو جائیں گے بلکہ اختیارات کی منتقلی کے بعد کئی ''جمہوریت نوازوں'' کی ڈکٹیٹرشپ پر قدغن لگے گی۔
یہی وجہ ہے کہ تمام جمہوری حکومتوں نے اب تک بلدیاتی نظام سے گریز کی راہ کو اپنایا ہے لیکن اب سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے بعد بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ناگزیر ہو چکا ہے۔ مناسب ہو گا کہ تمام صوبائی حکومتیں جلد از جلد بلدیاتی الیکشن کے انعقاد میں حائل رکاوٹیں دور کرتے ہوئے حلقہ بندیوں سمیت تمام متنازعہ مسائل کو نمٹا کر بلدیاتی انتخابات کی حتمی تاریخ کا اعلان کریں۔ عوام کے بہتر مفاد کے لیے یہی راست اقدام ہو گا۔
جمعرات کو سپریم کورٹ نے بلدیاتی الیکشن کے عدم انعقاد کا پھر نوٹس لیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ بلدیاتی ادارے نہ ہونے کی وجہ سے آئین بے معنی اور پولیس آرڈر مجریہ 2002ء غیر موثر ہو چکا ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے پولیس کی ایذا رسانیوں اور ایف آئی آر درج نہ کرنے کی شکایات کے مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے آبزرویشن دی کہ پولیس کے ظلم کے شکار افراد کی شکایات کا ازالہ نہ ہونے کی وجہ سے نظام پر لوگوں کا اعتماد اٹھ رہا ہے اور ناامیدی بڑھتی جا رہی ہے جس کا نتیجہ معاشرے میں تشدد کی شکل میں نکل رہا ہے۔
پبلک سیفٹی کمیشن 9 سال سے غیر فعال ہے کیونکہ بلدیاتی الیکشن ہی نہیں ہوئے، 9 سال سے آئین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، 5 سال سے سپریم کورٹ ہدایت پر ہدایات دے رہی ہے لیکن عمل نہیں ہو رہا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ آئین بے معنی ہو چکا ہے۔ جسٹس سپریم کورٹ کی یہ تمام باتیں چشم کشا اور صوبائی حکومتوں کی لاپرواہی کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جمہوری اقدار اور آئینی تقاضوں کا حکومت کتنا احترام کرتی ہے۔
جب کہ جمہوریت توآئین و قانون کے احترام اور پابندی پر استوار ہوتی ہے۔ بلدیاتی نظام کی افادیت سے چنداں انکار ممکن نہیں اور تمام صوبوں کی سیاسی پارٹیاں بھی بظاہر بلدیاتی نظام کے حق میں نظر آتی ہیں لیکن درپردہ عوامی امنگوں کے ترجمان اس نظام کے نفاذ میں رکاوٹ بھی یہی صوبائی حکومتیں ڈال رہی ہیں کیونکہ بلدیاتی نظام نافذ ہونے کے بعد کرپشن کے کئی دروازے نہ صرف بند ہو جائیں گے بلکہ اختیارات کی منتقلی کے بعد کئی ''جمہوریت نوازوں'' کی ڈکٹیٹرشپ پر قدغن لگے گی۔
یہی وجہ ہے کہ تمام جمہوری حکومتوں نے اب تک بلدیاتی نظام سے گریز کی راہ کو اپنایا ہے لیکن اب سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے بعد بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ناگزیر ہو چکا ہے۔ مناسب ہو گا کہ تمام صوبائی حکومتیں جلد از جلد بلدیاتی الیکشن کے انعقاد میں حائل رکاوٹیں دور کرتے ہوئے حلقہ بندیوں سمیت تمام متنازعہ مسائل کو نمٹا کر بلدیاتی انتخابات کی حتمی تاریخ کا اعلان کریں۔ عوام کے بہتر مفاد کے لیے یہی راست اقدام ہو گا۔