عدالتی دائرہ اختیار قبائلی علاقوں تک بڑھانے کا فیصلہ  

قبائلی علاقوں کو اعلی عدالتوں کے دائرہ اختیار میں لانے کا فیصلہ انتہائی درجہ کے انقلابی اقدام کی حیثیت رکھتا ہے۔

اب وطن عزیز کا وہ خطہ جس کے لیے عرف عام میں علاقہ غیر کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے اب وہ علاقہ غیر نہیں رہے گا بلکہ وہ پاکستان کا اپنا علاقہ بن جائے گا، فوٹو : فائل

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انصاف و قانون نے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر کا قبائلی عاقوں کے لوگوں کے بنیادی حقوق کو تحفظ دینے کے لیے سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار قبائلی علاقوں تک بڑھانے کے لیے آئین میں ترمیم کا بل متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ بل میں تجویز کیا گیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل247 کی شق 7 کو ختم کیا جائے، یہ شق اعلیٰ عدالتوں کا اختیار قبائلی علاقوں میں لاگو کرنے سے روکتی تھی اور سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کو قبائلی علاقوں میں بنیادی حقوق کے حوالے سے اختیار سماعت سے محروم کرتی تھی۔

اس شق کے خاتمے کے بعد قبائلی علاقوں کے لوگ اپنے بنیادی حقوق کے بارے اب اعلیٰ عدالتو ں سے رجوع کر سکیں گے۔ قبائلی علاقوں کو اعلی عدالتوں کے دائرہ اختیار میں لانے کا فیصلہ انتہائی درجہ کے انقلابی اقدام کی حیثیت رکھتا ہے جس سے محسوس ہوا ہے کہ ارباب بست و کشاد کو قیام پاکستان کے سات عشروں کے بعد بالاخر قبائلی علاقوں کی بنیادی محرومی کا خیال آ ہی گیا اور توقع کی جانی چاہیے کہ اب وطن عزیز کا وہ خطہ جس کے لیے عرف عام میں علاقہ غیر کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے اب وہ علاقہ غیر نہیں رہے گا بلکہ وہ پاکستان کا اپنا علاقہ بن جائے گا جہاں زندگی کی بنیادی سہولتیں پہنچا دی جائیں گی اور قبائلی باشندوں کی محرومیوں کا بطریق احسن مداوا ہو سکے گا۔


ویسے تو زیادہ بہتر یہ ہو گا کہ وفاق کے زیر انتظام تمام علاقے (فاٹا) کو رسمی طور پر صوبہ خیبر پختونخوا میں شامل کر لیا جائے اور وہاں پر تھانے اور کچہریاں قائم ہوں، اسکول کالج اور شفاخانے بنائے جائیں تاکہ وہ ہمارے ہم وطن بھی نارمل زندگی کی سہولتوں سے متمتع ہو سکیں اور انھیں انتہا پسندی کا راستہ اختیار کرنے کی احتیاج ہی نہ رہے۔ واضح رہے قائمہ کمیٹی برائے انصاف و قانون کا اجلاس گزشتہ روز کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر کاظم خان کی صدارت میں ہوا۔ مجوزہ بل کے مطابق آئین کا آرٹیکل1(c) قبائلی علاقوں کو بھی پاکستان کی سرزمین میں شامل رکھتا ہے، چنانچہ بنیادی حقوق کے حوالے سے قبائلی علاقوں کے لوگوں کو وہی حقوق حاصل ہوں گے جو پاکستان کے دوسرے حصوں کے لوگوں کو حاصل ہیں۔

بٍِل کے محرک سینیٹر فرحت اللہ بابر نے ترمیمی بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ نے اگر یہ ترمیم منظور کی تو 22 ویں آئینی ترمیم ہو گی اور فوری طور پر نافذالعمل ہو گی۔ بعد ازاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اب یہ حکومت سیاسی جماعتوں اور پارلیمنٹ کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔ انھوں نے توقع ظاہر کی کہ اس بل کی اندر سے بھی مخالفت نہیں ہو گی کیونکہ تمام سیاسی جماعتیں فاٹا میں اصلاحات کی حامی ہیں۔ اس بل کے منظور ہونے سے نیشنل سیکیورٹی کو بھی تقویت ملے گی۔
Load Next Story