پاکستان میں اسکواش کی صورتحال دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے جہانگیر خان
ہاں میں ہاں ملانے والوں کو عہدے مل جاتے ہیں، غیر سیاسی فیصلے کرنا ہوں گے، سابق اسٹار
ہاں میں ہاں ملانے والوں کو عہدے مل جاتے ہیں، غیر سیاسی فیصلے کرنا ہوں گے، سابق اسٹار۔ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
سابق عالمی اسکواش چیمپئن جہانگیر خان نے فیڈریشن عہدیداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں کھیل کی بہتری کیلیے کچھ نہیں ہورہا اور صرف ہاں میں ہاں ملانے والوں کو نوازا جا رہا ہے۔
ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دنیائے اسکواش کے سابق عظیم کھلاڑی نے کہا کہ ملک میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں لیکن پی ایس ایف میں اہل عہدیدار نہ ہونے کی وجہ سے کھیل کی بہتری کیلیے کچھ نہیں ہورہا، 1997تک دنیا بھر کے تمام اعزازات پاکستان کے پاس تھے لیکن اب صورتحال یکسر مختلف ہے، عالمی مقابلوں میں ہمارے کھلاڑی کوارٹر فائنل میں بھی رسائی حاصل کرلیں تو بڑا کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے کہ ماضی میں ہمیشہ ٹاپ پوزیشن پر براجمان رہنے والے ملک کے پلیئرز کو اب ٹاپ 50 میں شامل ہونے کیلیے بھی سخت دشواری کا سامنا ہے۔
سابق چیمپیئن نے کہا کہ ہاں میں ہاں ملانے والوں کو عہدوں سے نوازا جارہا ہے جس کی وجہ سے متعدد بار آفرز کے باوجود فیڈریشن میں عہدہ قبول نہیں کیا کیونکہ میرے خیال میں ایسے حالات میں اسکواش کی بہتری کے لیے کچھ نہیں ہوسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں2 مرتبہ ورلڈ اسکواش فیڈریشن کا صدر بنا لیکن کبھی بھی سیاست کا سہارا نہیں لیا، ملک کی خدمات بھی اسی طور پر کرنا چاہتا ہوں۔
جہانگیر خان نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کی وجہ سے کھیلوں پر بُرا اثر پڑا ہے، گراس روٹ لیول سے نیا ٹیلنٹ سامنے نہیں آرہاکیونکہ جب کسی بھی ملک میں بین الاقوامی ایونٹ ہوں تو وہاں کے نوجوانوں کو ایک نیا جذبہ ملتا ہے، ماضی کے مقابلے میں اب سہولیات بھی بہتر ہیں لیکن اس کے باوجود کھلاڑیوں کی کارکردگی ناقص ہے، انھوں نے کہ اسکواش کو پاؤں پر کھڑا کرنے کیلیے سخت محنت کی ضرورت ہے جس کیلیے اہل لوگوں کو فیڈریشن میں اہم ذمہ داریاں ملنی چاہئیں۔
سابق عالمی اسکواش چیمپئن جہانگیر خان نے فیڈریشن عہدیداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں کھیل کی بہتری کیلیے کچھ نہیں ہورہا اور صرف ہاں میں ہاں ملانے والوں کو نوازا جا رہا ہے۔
ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دنیائے اسکواش کے سابق عظیم کھلاڑی نے کہا کہ ملک میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں لیکن پی ایس ایف میں اہل عہدیدار نہ ہونے کی وجہ سے کھیل کی بہتری کیلیے کچھ نہیں ہورہا، 1997تک دنیا بھر کے تمام اعزازات پاکستان کے پاس تھے لیکن اب صورتحال یکسر مختلف ہے، عالمی مقابلوں میں ہمارے کھلاڑی کوارٹر فائنل میں بھی رسائی حاصل کرلیں تو بڑا کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے کہ ماضی میں ہمیشہ ٹاپ پوزیشن پر براجمان رہنے والے ملک کے پلیئرز کو اب ٹاپ 50 میں شامل ہونے کیلیے بھی سخت دشواری کا سامنا ہے۔
سابق چیمپیئن نے کہا کہ ہاں میں ہاں ملانے والوں کو عہدوں سے نوازا جارہا ہے جس کی وجہ سے متعدد بار آفرز کے باوجود فیڈریشن میں عہدہ قبول نہیں کیا کیونکہ میرے خیال میں ایسے حالات میں اسکواش کی بہتری کے لیے کچھ نہیں ہوسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں2 مرتبہ ورلڈ اسکواش فیڈریشن کا صدر بنا لیکن کبھی بھی سیاست کا سہارا نہیں لیا، ملک کی خدمات بھی اسی طور پر کرنا چاہتا ہوں۔
جہانگیر خان نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کی وجہ سے کھیلوں پر بُرا اثر پڑا ہے، گراس روٹ لیول سے نیا ٹیلنٹ سامنے نہیں آرہاکیونکہ جب کسی بھی ملک میں بین الاقوامی ایونٹ ہوں تو وہاں کے نوجوانوں کو ایک نیا جذبہ ملتا ہے، ماضی کے مقابلے میں اب سہولیات بھی بہتر ہیں لیکن اس کے باوجود کھلاڑیوں کی کارکردگی ناقص ہے، انھوں نے کہ اسکواش کو پاؤں پر کھڑا کرنے کیلیے سخت محنت کی ضرورت ہے جس کیلیے اہل لوگوں کو فیڈریشن میں اہم ذمہ داریاں ملنی چاہئیں۔