مثبت پیش رفت

خطے میں قیام امن کے لیے پاکستان اور افغانستان کا ایک دوسرے کے ساتھ تعاون انتہائی ضروری ہے۔

پاکستان اور چین کی کوشش ہے کہ افغانستان کی حکومت اور افغان طالبان مذاکرات کی میز پر بیٹھیں تا کہ افغانستان میں امن قائم ہو سکے، فوٹو : فائل

پاکستان دہشت گردوں کے خلاف شمالی وزیرستان میں آپریشن کر رہا ہے، گزشتہ روز شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز علاقے کا محاصرہ کر کے تلاشی لے رہی تھیں کہ دہشت گردوں نے فائرنگ کر دی جس کی زد میں آ کر پاک فوج کا میجر شہید ہو گیا۔ سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 5 دہشت گرد مارے گئے، آپریشن ضرب عضب کے دوران پاک فوج نے بے مثال قربانیاں پیش کی ہیں اور شمالی وزیرستان کے بیشتر علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کر دیا ہے۔

ظاہر ہے کہ جب کہیں آپریشن ہوتا ہے تو اس میں جانی نقصان لازمی چیز ہوتی ہے۔ پاکستانی قوم قربانیاں پیش کر رہی ہے۔ اس وقت دہشت گرد کہیں خود کش حملے کر رہے ہیں اور کہیں ان کے سرپرست ایسا پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیں جس سے انھیں تقویت مل رہی ہے۔ بہر حال پاک فوج نے انتہائی کم عرصے میں شمالی وزیرستان کو دہشت گردوں سے آزاد کرا لیا ہے۔ جو یقیناً اہم پیش رفت ہے۔ اس آپریشن کے نتیجے میں دہشت گرد تنہا ہوئے ہیں، ادھر ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ جب سے شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب شروع ہوا ہے اور افغانستان میں کرزئی حکومت کا خاتمہ ہوا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی نوعیت خاصی بہتر ہوئی ہے اور دونوں ملکوں کی قیادت حالات کی سنگینی کا اندازہ لگاتے ہوئے دہشت گردوں کے خاتمے پر متفق نظر آتی ہے اور ایک دوسرے سے تعاون کیا جا رہا ہے۔ اس خطے میں قیام امن کے لیے پاکستان اور افغانستان کا ایک دوسرے کے ساتھ تعاون انتہائی ضروری ہے۔ یہ اطلاعات بھی خوش آیند ہیں کہ پاکستان اور چین کی کوششوں سے کابل اور افغان طالبان کے درمیان رابطے بھی ہوئے ہیں اور صدر اشرف غنی کے نمایندے طالبان سے رابطے میں ہیں۔ پاکستان خاصے عرصے سے اس معاملے میں افغانستان سے تعاون کر رہا ہے لیکن کرزئی انتظامیہ اپنے مفادات کے تابع معاملات کو بگاڑ رہی تھی لیکن جب سے اشرف غنی صدر اور عبداللہ عبداللہ چیف ایگزیکٹو بنے ہیں، افغانستان کی پالیسی میں مثبت تبدیلی آئی ہے، ادھر افغان صدر اشرف غنی نے تعاون پر پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔


جس کے نتیجے میں طالبان باغیوں کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھل گیا ہے اور جو دونوں ممالک میں تعلقات کی بہتری کا تازہ اشارہ ہے۔ صدر اشرف غنی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں امن و مصالحت کی راہ ہموار کرنے میں جو کوششیں کی ہیں وہ قابل ستائش ہیں اور ہم پاکستان کے اس بیان کا بھی خیرمقدم کرتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کے دشمن کو پاکستان کا دشمن سمجھا جائے گا۔ صدر اشرف غنی نے کہا کہ دو حالیہ بڑے حملوں نے دونوں ملکوں کو قریب لانے میں نمایاں کردار ادا کیا ان میں ایک نومبر میں افغانستان کے علاقے یحییٰ خیل کا حملہ تھا جس میں 50 افراد موت کا شکار ہوئے اور دوسرا پاکستان کے آرمی پبلک اسکول پر دسمبر میں ہونے والا ہولناک حملہ جس میں اسکول کے بچوں سمیت 153 افراد جاں بحق ہو گئے۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی کا یہ بیان پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے اس بیان کے بعد آیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات اتنے اچھے پہلے کبھی بھی نہیں تھے جتنے اب ہیں۔ چوہدری نثار علی خان نے ان خیالات کا اظہار واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے ساتھ اپنی ملاقات میں کیا۔ حالیہ برسوں میں افغان طالبان، افغانستانی اور امریکی حکام کے مابین مذاکرات کرانے کی متعدد کوششیں کی گئی ہیں مگر وہ بار آور ثابت نہیں ہو سکیں۔ صدر اشرف غنی نے اپنے بیان میں یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ بعض عناصر قیام امن کے خلاف ہیں اس لیے وہ عوام کو الجھاؤ اور بے چینی میں مبتلا کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔

بہر حال یہ بات طے ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہو جائے تو اس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوں گے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور چین کی کوشش ہے کہ افغانستان کی حکومت اور افغان طالبان مذاکرات کی میز پر بیٹھیں تا کہ افغانستان میں امن قائم ہو سکے۔ افغانستان میں لڑنے والے طالبان اگر امریکا اور افغانستان کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہے۔ اب شاید افغان طالبان کو احساس ہو چکا ہے کہ ان کے لیے بھی یہ بہتر ہے کہ کسی قابل قبول سمجھوتے پر پہنچا جائے اور ملک میں امن قائم کیا جائے۔

اگر افغان طالبان اور افغانستان کی حکومت ایسا کرنا چاہتے ہیں تو پاکستان کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ پاکستان کے لیے زیادہ ضروری یہ ہے کہ افغانستان کی حکومت اپنے علاقوں میں موجود پاکستانی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کر کے ان کے اڈے وہاں سے ختم کرے۔ اگر افغانستان کی حکومت ایسا کرتی ہے تو اس سے دہشت گردی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے گا جس کے نتیجے میں افغانستان اور پاکستان دونوں میں امن قائم ہو جائے گا۔
Load Next Story