کشتی تباہ کرنے کا بھارتی ڈرامہ فلاپ

حقیقت میں کشتی ڈرامہ کا اسکرپٹ تھا ہی کمزور اور مضحکہ خیز۔

بھارتی حکام اور میڈیا پاکستان سے مخاصمت کے پودے کو بھی ہرا بھرا دیکھنا چاہتے ہیں اور عدم معروضیت کے باعث ایسے ڈرامے تیار کرتے ہیں، فوٹو : فائل

دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت نے پاکستانی کشتی تباہ کرنے کا جو ڈرامہ رچایا تھا وہ اپنے انجام کو پہنچ گیا اور وہ آہستہ آہستہ منظر عام پر آ رہا ہے۔ بھارتی حکومت سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کی تحقیقات سے پاکستان کو آگاہ کرے، انھوں نے بھارت پر واضح کیا کہ پاکستان بھارت سے مذاکرات کے لیے نہیں کترا رہا۔ عصری حقیقتوں کا تقاضہ ہے کہ بھارتی حکام دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کے بیان میں موجود سنجیدگی اور اخلاص کا ادراک کریں جس میں انھوں نے مفروضہ کشتی سمیت افغان حکومت کی طالبان سے مصالحتی عمل کو آگے بڑھانے اور پاکستان کے سہولت کار کا کردار ادا کرنے پر تیاری کا عندیہ دیا ہے۔

ادھر پاک بھارت معطل شدہ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی باضابطہ تیاریاں شروع ہو گئی ہیں، بھارتی سیکریٹری خارجہ جے شنکر آیندہ ماہ وزیراعظم نریندر مودی کا نیک خواہشات پر مبنی مکتوب لے کر اسلام آباد پہنچیں گے اور ان کے پاکستانی ہم منصب نواز شریف کو پیش کریں گے۔ رپورٹ کے مطابق جے شنکر کا اس دورے میں اپنے پاکستانی ہم منصب چوہدری اعزاز کے ساتھ بات چیت کو مزید آگے بڑھانے کے لیے جائزہ لینے کا بھی امکان ہے۔


حقیقت میں کشتی ڈرامہ کا اسکرپٹ تھا ہی کمزور اور مضحکہ خیز۔ کیونکہ اگر بھارتی کوسٹ گارڈ ڈی آئی جی لوشالی کے بیان پر یقین کیا جائے کہ میں نے کشی کو اڑانے کا حکم دیا تھا تو بھارتی حکام کے اس بیان کو کون سچ سمجھے گا کہ کشتی کے عملہ نے خود اسے دھماکے سے اڑا دیا۔ ستم ظریفی دیکھئے ٹائمز آف انڈیا نے اپنی رپورٹ میں اسے ''سفینۂ دہشت'' لکھا۔ سب سے زیادہ سبکی کا سامان اس میڈیائی شور و غلغلہ نے مہیا کیا جو پاکستان دشمنی میں خود ساختہ الزامات و بہتان طرازی کو رائی کا پہاڑ بنانے میں کسی اخلاقیات پر یقین نہیں رکھتا۔

اس ضمن میں دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نئے سمندری ڈرامہ کی تردید پاکستان نے فوراً کر دی تھی اور اب بھارتی ساحلی محافظین کا سربراہ اپنے تحریری بیان میں اپنے پہلے بیان سے منحرف ہو چکا ہے جس میں ان سے منسوب کیا گیا کہ کشتی کو اڑا دو ، ہم انھیں بریانی پیش نہیں کرنا چاہتے۔

اسی میڈیا نے گزشتہ روز امریکی صدر بارک اوباما کے لگائے ہوئے پودے کے مرجھانے پر شور مچایا، ایک رپورٹ کے مطابق پودے پر بھارت میں چیخ و پکار مچی ہوئی ہے، تاہم سرکاری حکام وضاحتیں دیتے پھر رہے ہیں کہ پودا مرا نہیں بلکہ پت جھڑ کی وجہ سے ایسا لگ رہا ہے۔ بات صرف یہ ہے کہ بھارتی حکام اور میڈیا پاکستان سے مخاصمت کے پودے کو بھی ہرا بھرا دیکھنا چاہتے ہیں اور عدم معروضیت کے باعث ایسے ڈرامے تیار کرتے ہیں کہ ان کے اپنے تماش بین ان کی ناکامی پر برہمی کا اظہار کرتے ہیں۔
Load Next Story