حارث جاویدکوجلانے میں کالعدم تنظیم کے ملوث ہونے کا امکان

 واقعے کی تفتیش کے لیے2 ڈی ایس پیز اور4 انسپکٹرزپر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی قائم

رکشا ڈرائیورکا زخمی نوجوان کوپہچاننے سے انکار،حارث کاجلدبیان ریکارڈکیا جائیگا فوٹو: فائل

بلوچ کالونی سے طالب علم کو اغوا اور جلانے کے بعد پھینک کر فرار ہونے کے واقعے میں کالعدم تنظیم کے ملوث ہونے کا عنصرموجودہے،رکشا ڈرائیور نے بھی زخمی نوجوان کو پہچاننے سے انکارکردیا ۔

واقعے کی تفتیش کے لیے2 ڈی ایس پیز اور4 انسپکٹرز پر مشتمل ایک اورتحقیقاتی کمیٹی قائم کردی گئی ہے،مغوی نوجوان کے ابتدائی بیان کی روشنی میں تحقیقات کو آگے بڑھایا جارہاہے،تفصیلات کے مطابق جمعرات کو بلوچ کالونی تھانے کے علاقے محمود آباد میں نامعلوم ملزمان حارث جاوید کوتشدد کا نشانہ بنانے اور جلانے کے بعد پھینک کر فرار ہوگئے تھے۔


فوری طور پر تفتیش میں کسی قسم کی کوئی اہم پیش رفت نہ ہوسکی،ایس ایس پی انویسٹی گیشن ساؤتھ زون ون فیض اﷲ کوریجو نے ایکسپریس کو بتایا کہ زخمی نوجوان کے والد کی جانب سے پولیس کے سامنے لائے جانے والے رکشا ڈرائیور فیاض کو گزشتہ روز اسپتال لے جایا گیا تھا جہاں رکشا ڈرائیور کی نوجوان سے ملاقات کرائی گئی تھی جس کے بعد رکشا ڈرائیور نے زخمی نوجوان حارث کو پہچاننے سے انکار کرتے کہا کہ16فروری کو حارث نہیں بلکہ کوئی دوسرا نوجوان اس کے رکشے میں سوار ہوا تھا، انھوں نے بتایا کہ اب تک کی تفتیش کے دوران زخمی نوجوان کا ابتدائی بیان سچ معلوم ہوتا ہے اور نوجوان کو جلانے کے بعد پھینک کر فرار ہونے کے واقعے میں کالعدم تنظیم کے ملوث ہونے کا عنصر موجود ہے۔

پولیس تفتیش کے لیے فارنسک ، جیو فینسنگ اور موبائل فون کا ریکارڈ سمیت تمام وسائل اور جدید طریقہ استعمال کررہے جبکہ تحقیقات کے لیے سی ڈی ٹی پولیس سے بھی مدد حاصل کر لی گئی ہے،پولیس جلد کسی نہ کسی نتیجے پر پہنچ جائے گی،واقعے کی تفتیش کے لیے2 ڈی ایس پی اور4انسپکٹرز پرمشتمل ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ۔

جس میں ڈی ایس پی محمود آباد شفقت شہانی،ڈی ایس پی انویسٹی گیشن ظفر اقبال،ایس آئی او بلوچ کالونی چوہدری امتیاز حسین ،ایس آئی او کلفٹن چوہدری لطیف ، ایس ایچ او بلوچ کالونی انسپکٹر سہیل اختر اور ایس ایچ او ڈیفنس کینسن ڈین شامل ہیں سی ٹی ڈی کے سینئر افسر راجہ عمر خطاب کا کہنا ہے کہ زخمی نوجوان کے حوالے سے متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں اور جب تک سی ٹی ڈی پولیس زخمی نوجوان کا تفصیلی بیان ریکارڈ نہیں کر لیتی اس وقت تک تفتیش میں آگے بڑھنا ممکن نہیں ہے،زخمی نوجوان اسپتال میں غنودگی کی حالت میں ہے جسے ہی اسے ہوش آئے گا اس کا بیان ریکارڈ کرلیا جائے گا۔
Load Next Story