ٹیم جیتے یا ہارے ہمیں ’’پیسوں سے پیار‘‘ ہے

افسوس اس بات کا ہے کہ افسوسناک شکست کے بعد بھی کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی

skhaliq@express.com.pk

ISLAMABAD:
''ایک رن پر چار کھلاڑی آؤٹ'' مجھے نہیں یاد پڑتاکہ کبھی گلی میں دوستوں کے ساتھ کرکٹ کھیلتے ہوئے بھی ہمارے ساتھ ایسا ہوا ہو، مگر یہ '' کارنامہ'' ہماری قومی ٹیم نے ورلڈکپ میں انجام دے دیا، افسوس اس بات کا ہے کہ اب بھی کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی، سب ویسے ہی مزے میں ہیں،15کھلاڑیوں کے ساتھ12 رکنی ٹیم مینجمنٹ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں عوام کے پیسوں پر عیش کر رہی ہے، اسے کسی بات کی کوئی پرواہ ہی نہیں، سب جانتے ہیں کہ ٹیم جیتے یا ہارے، ہمارا ڈیلی الاؤنس تو پکا ہے، بزنس کلاس کی نشست پر بیٹھ کر جب واپس وطن آئیں گے تو ایئرپورٹ کے دوسرے راستے سے نکل کر عوامی غیض و غصب سے بھی بچ جائیں گے۔

عوام کا کوئی نہیں سوچ رہا، بیچارے شائقین رات کو 3 بجے اس امید کے ساتھ اٹھے کہ اپنے کھلاڑیوں کو چوکے چھکے لگاتے اور وکٹیں اڑاتے دیکھیں گے، مگر انھوں نے پہلے کیچز چھوڑتے، رنز بنواتے اور پھر مایوسی سے سر جھکائے پویلین واپس جاتے دیکھا، اب تک میگا ایونٹ میں اتنا بُرا کھیل اسکاٹ لینڈ، آئرلینڈ اور بنگلہ دیش نے بھی پیش نہیں کیا جیسی ہماری کارکردگی رہی ہے، ٹیم سلیکشن میں جو غلطیاں ہوئیں انھیں بعد میں بھی ٹھیک نہ کیا گیا جس کا خمیارہ بھگتنا پڑ رہا ہے، مصباح الحق اور وقار یونس نے جن2کھلاڑیوں کیلیے سلیکشن کمیٹی سے فائٹ کی، ان کا کھیل سب کے سامنے ہے۔

بلاول بھٹی کو تو نیوزی لینڈ سے ہی واپس بھیجنا پڑا جبکہ ناصر جمشید سے کیچز لیے جا رہے ہیں نہ بیٹنگ ہو رہی ہے، چھوٹے سے گراؤنڈ میں ویسٹ انڈین پلیئرز جب چاہتے باؤنڈریز مل جاتیں مگر ہمارے بیٹسمینوں کو نجانے ایسا کیا ہو گیا کہ رنز ہی نہیں بنا سکے، یونس خان خود اپنے شاندار کیریئر کو داغدار بنا رہے ہیں، انھیں اب از خود1،2 میچزمیں ''آرام'' کر لینا چاہیے، اتنا عظیم بیٹسمین بے بسی کی تصویر بنے پہلی گیند پر آؤٹ ہو رہا ہے، نجانے یہ منظر دیکھ کر ان کے پرستاروں پر کیا بیتی ہو، چلیں مان لیتے ہیں کہ مصباح کو ون ڈاؤن پوزیشن پر بیٹنگ پسند نہیں مگر جب ایک رن پر2وکٹیں گر چکی ہوں تو حارث سہیل کو قربانی کا بکرا بنانے کی کیا منطق تھی، کپتان نے کیوں خود ذمہ داری اپنے کندھوں پر نہیں لی؟


ویسے تو وہ پچ پر آکر رنز بنانا بھول جاتے ہیں آج کیا جلدی تھی کہ غیرضروری شاٹ کھیل کر وکٹ گنوا دی، اگر بغور دیکھا جائے تو وکٹیں لینے میں ویسٹ انڈین بولرز سے زیادہ کردار خود ہمارے بیٹسمینوں کا تھا جو عجیب و غریب انداز میں آؤٹ ہوتے گئے، ایک مثبت بات صہیب مقصود اور عمر اکمل کی عمدہ بیٹنگ رہی، ورنہ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ شائد43رنز پر آؤٹ ہونے کا اپنا ریکارڈ ٹوٹ جائے گا، آفریدی بھی بہتر کھیل رہے تھے مگر سیٹ ہو کر وکٹ گنوا دی، ٹیم کا ایک بڑا مسئلہ آل راؤنڈرز کی کمی ہے، عبدالرزاق کی فٹنس سے سلیکٹرز مطمئن نہیں مگر شعیب ملک نے کیا قصور کیا تھا۔

وہ غیر ملکی لیگز اور ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ پرفارمنس کے بعد کم بیک کے حقدار تھے مگر بھارت میں میچز پر تبصرہ کرنے پر مجبور کر دیا گیا، چار اسپیشلسٹ بولرز کے ساتھ کھیلنے کا نقصان ویسٹ انڈیز کیخلاف310رنز بنوا کر بھگتنا پڑا، مسلسل دوسرے میچ میں پاکستانی بولنگ اٹیک کو300رنز کی پٹائی برداشت کرنا پڑی، اس سے معیار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے،حارث سہیل نے گوکہ2وکٹیں لیں مگر9اوورز میں62رنز بھی دے دیے، سب سے بڑی خامی فیلڈنگ میں نظر آئی،6کیچز چھوڑ کر میچ جیتنے کا سوچنا بھی نہیں چاہیے، گرانٹ لیوڈن نے بھاری تنخواہ لے کر نجانے کھلاڑیوں کو کیا سکھایا کہ اب آسان کیچز بھی نہیں تھامے جاتے، اسی طرح گرانٹ فلاور کی کوچنگ میں بیٹسمین بیٹنگ ہی بھول گئے۔

بھارت سے میچ میں عمر اکمل سے وکٹ کیپنگ کرانے کا خمیازہ ویرات کوہلی کی سنچری سے بھگتنا پڑا تھا، افسوس کی بات یہ ہے کہ مینجمنٹ سے اس سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور ویسٹ انڈیز کیخلاف بھی سرفراز احمد کو باہر بٹھایا، نتیجہ عمر اکمل نے مزید کیچز ڈراپ کر کے شائقین کو سر پیٹنے پر مجبور کر دیا، یہ پتا نہیں چل رہا کہ ٹیم جیتنے کیلیے کھیل رہی ہے یا ہارنے کیلیے،اتنی بڑی بڑی غلطیاں کیوں دہرائی جا رہی ہیں سمجھ سے باہر ہے، یونس خان اچھی فارم میں نہیں مگر مسلسل کھلایا جا رہا ہے، کسی کی ہمت نہیں کہ انھیں ڈراپ کرے کیونکہ سب ڈرتے ہیں کہ بعد میں کہا جائے گا کہ یونس کو نہ کھلا کر غلط کیا گیا، میری وقار یونس اور مصباح الحق سے درخواست ہے کہ اگر آپ کو سرفراز کسی بھی وجہ سے پسند نہیں تو بھی اسے کھلائیں۔

، یہ ورلڈکپ ہے یہاں ذاتیات کو ملک پر ترجیح نہیں دینی چاہیے، اگر یہی کارکردگی جاری رہی تو اگلے میچز میں زمبابوے اور یو اے ای بھی بھاری پڑ جائیں گے، جنوبی افریقہ اور آئرلینڈ تو دور کی بات ہیں، پی سی بی کے چیئرمین شہریار خان اور دیگر دیگر عہدیدار ان دنوں خاموشی سے ٹیم کی تباہی کا تماشہ دیکھ رہے ہیں، یہ انہی لوگوں کا کیا دھرا ہے جو اب ناقص کارکردگی کی صورت میں سامنے آنے لگا، انھیں اب ہوش کے ناخن لینے چاہئیں کیونکہ ابھی تو ناراض عوام نے ملتان میں ہی ردعمل کا اظہار کیا ہے قذافی اسٹیڈیم بھی ان سے دور نہیں ہوگا، ہارنے کا غم نہیں مگر کم از کم کچھ فائٹ تو کرو، موجودہ کارکردگی کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔
Load Next Story