پشاور اسکول حملے کیلیے خودکش جیکٹیں تیار کرنیوالے کمانڈر سمیت5دہشت گرد گرفتار
خفیہ اطلاع پر2دہشت گردوں کو رزمک بازارسے، 2کومحاصرہ کرکے سرچ آپریشن کے دوران پکڑاگیا
دہشت گرد بصیردوآبہ سے گرفتار، خودکش جیکٹس، ریموٹ کنٹرول بم، بارودی سرنگیں بنانے کا ماہرہے، پشاوراسکول کا ایک اورزخمی بچہ دم توڑ گیا۔ فوٹو : ایکسپریس
شمالی وزیرستان اورہنگو میں فورسزکی کارروائی میں پشاوراسکول حملے کے دہشت گردوں کے لیے خودکش جیکٹیں تیارکرنے والے دہشت گردسمیت 5اہم شدت پسندوں کوگرفتار کرلیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق رزمک میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع ملنے پر 4دہشت گردوں کاپیچھا کیا۔ ان میں سے 2کو رزمک بازارمیں گرفتار کرلیا گیاجبکہ 2دہشت گرد ایک قریبی کمپاؤنڈ میں جاچھپے۔ ان کا بھی پیچھا کرکے محاصرہ کیاگیا اورسرچ آپریشن کے دوران انھیں بھی پکڑ لیاگیا جنھیں تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ان دہشت گردوں سے اہم معلومات ملنے کا امکان ہے۔ ادھرہنگو سے نمائندے کے مطابق ہنگوکے علاقے دوآبہ میں سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کرکے بارودی سرنگیں اور خودکش جیکٹس بنانے والے دہشت گرد بصیرکو گرفتار کرلیا۔ صوبائی حکومت نے اس کے سرکی قیمت 5لاکھ روپے مقرر کررکھی تھی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ملزم نے پشاوراسکول پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کے لیے خودکش جیکٹیں تیارکی تھیں۔
ہفتے کوفورسز نے ایک گھرپر چھاپہ مارا۔ اس دوران دہشت گردبصیر قریبی پہاڑی کی طرف فرار ہوگیا۔ فورسزنے پیچھا کرکے اسے گرفتار کرلیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گرد کمانڈر بصیر خود کش جیکٹس، ریموٹ کنٹرول بم، بارودی سرنگیں بنانے کاماسٹر ہے۔ علاوہ ازیں آرمی پبلک اسکول پشاور پر دہشت گردوں کے حملے کا ایک اورزخمی بارہویں جماعت کا طالبعلم اسحاق امین 2ماہ بعد زندگی کی بازی ہارگیا جس کے ساتھ اس سانحے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 154ہوگئی۔
اس کادوسرا زخمی بھائی عامرامین کراچی کے آغاخان اسپتال میں زیرعلاج ہے۔ ادھرایک نجی نیوزچینل کے مطابق اسحاق امین کے والدکہتے ہیں کہ ہمارے بچوں کاکوئی پرسان حال نہیں۔ دوسری جانب شہداغازی فورم نے اعلان کیا ہے کہ سانحہ پشاورکے حوالے سے لیگل بورڈ تشکیل دیکر وزیراعظم اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے خلاف ایف آئی آ ردرج کرائی جائے گی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق رزمک میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع ملنے پر 4دہشت گردوں کاپیچھا کیا۔ ان میں سے 2کو رزمک بازارمیں گرفتار کرلیا گیاجبکہ 2دہشت گرد ایک قریبی کمپاؤنڈ میں جاچھپے۔ ان کا بھی پیچھا کرکے محاصرہ کیاگیا اورسرچ آپریشن کے دوران انھیں بھی پکڑ لیاگیا جنھیں تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ان دہشت گردوں سے اہم معلومات ملنے کا امکان ہے۔ ادھرہنگو سے نمائندے کے مطابق ہنگوکے علاقے دوآبہ میں سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کرکے بارودی سرنگیں اور خودکش جیکٹس بنانے والے دہشت گرد بصیرکو گرفتار کرلیا۔ صوبائی حکومت نے اس کے سرکی قیمت 5لاکھ روپے مقرر کررکھی تھی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ملزم نے پشاوراسکول پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کے لیے خودکش جیکٹیں تیارکی تھیں۔
ہفتے کوفورسز نے ایک گھرپر چھاپہ مارا۔ اس دوران دہشت گردبصیر قریبی پہاڑی کی طرف فرار ہوگیا۔ فورسزنے پیچھا کرکے اسے گرفتار کرلیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گرد کمانڈر بصیر خود کش جیکٹس، ریموٹ کنٹرول بم، بارودی سرنگیں بنانے کاماسٹر ہے۔ علاوہ ازیں آرمی پبلک اسکول پشاور پر دہشت گردوں کے حملے کا ایک اورزخمی بارہویں جماعت کا طالبعلم اسحاق امین 2ماہ بعد زندگی کی بازی ہارگیا جس کے ساتھ اس سانحے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 154ہوگئی۔
اس کادوسرا زخمی بھائی عامرامین کراچی کے آغاخان اسپتال میں زیرعلاج ہے۔ ادھرایک نجی نیوزچینل کے مطابق اسحاق امین کے والدکہتے ہیں کہ ہمارے بچوں کاکوئی پرسان حال نہیں۔ دوسری جانب شہداغازی فورم نے اعلان کیا ہے کہ سانحہ پشاورکے حوالے سے لیگل بورڈ تشکیل دیکر وزیراعظم اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے خلاف ایف آئی آ ردرج کرائی جائے گی۔