دہشت گردی اور عالمی طاقتوں کی پالیسی

پاکستان نے اقوام متحدہ اور امریکا سے متعدد بار مطالبہ کیا کہ مسئلہ کشمیر کا پر امن حل تلاش کیا جائے۔

جب تک عالمی قوتیں ان اسباب کو دور نہیں کریں گی جو دہشت گردی اور انتہا پسندی کو جنم دے رہی ہیں یہ عفریت ختم نہیں ہو گا، فوٹو : اے ایف پی

DUBAI:
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی صدر اوباما کے اس بیان کا خیر مقدم کیا کہ دہشت گردی کا کسی مذہب سے تعلق نہیں۔انھوں نے کہا کہ امریکی صدر کے اس واضح موقف سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مدد ملے گی،پاکستان کا شروع ہی سے موقف رہا ہے کہ دہشت گردی کا کسی مذہب سے تعلق نہیں ہوتا،امریکی صدر کے بیان سے ہمارے موقف کی تائید ہو گئی ہے،بارک اوباما کا بیان عسکریت پسندی کے خلاف متحدہ محاذ قائم کرنے میں نمایاں پیش رفت ہے،دہشت گردوں کو ان کی مذہبی وابستگیوں کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے برے کاموں سے یاد کیا جانا چاہیے۔

واشنگٹن میں تین روزہ عالمی کانفرنس ہوئی جس کا مقصد انتہا پسندی کو روکنے کے لیے راستہ تلاش کرنا تھا۔ چوہدری نثار نے بتایا کہ کانفرنس میں اس بات پر اتفاق پایا گیا کہ صرف فوجی طاقت کے ذریعے دہشت گردی کا خاتمہ نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کا شروع ہی سے یہ موقف رہا ہے کہ دہشت گردی میں ملوث افراد کا مذہب سے تعلق نہ جوڑا جائے۔ اسلام امن کا مذہب ہے وہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ہے۔ اس وقت دہشت گرد عالمی سطح پر ایک خطرہ بن چکے ہیں اور پوری دنیا اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے غور کر رہی ہے۔

مبصرین کے ایک حلقے کا کہنا ہے کہ آج عالمی قوتیں دہشت گردی کے خلاف اکٹھی ہو رہی ہیں مگر وہ ان اسباب کو قطعی طور پر دور کرنے کے لیے تیار نہیں جو دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں۔ عراق،لیبیا،شام،یمن اور افغانستان کے جو حالات ہیں وہ انھیں عالمی قوتوں کے پیدا کردہ ہیں۔ ان ملکوں نے اپنے مفادات کے لیے خاص منصوبہ بندی کے تحت مسلم ممالک میں خانہ جنگی اور انتشار کو جنم دیا اور انھیں کمزور کر دیا۔ فلسطین کا مسئلہ بھی عالمی قوتوں ہی کی آشیر باد سے پیدا ہوا۔

اسرائیل نے فلسطینیوں کا قتل عام کیا مگر اقوام متحدہ،امریکا اور دیگر عالمی قوتوں نے کبھی اسرائیل کے خلاف کارروائی نہیں کی بلکہ جب کبھی اسرائیل کے خلاف اقوام متحدہ میں قرار داد پیش ہوئی تو امریکا نے اسے ویٹو کر دیا۔ امریکا آج بھی بڑے پیمانے پر اسرائیل کو امداد اور اسلحہ دے رہا ہے۔ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں موجود چھ لاکھ بھارتی فوج نے ظلم و ستم کا بازار گرم رکھا ہے۔ کشمیری نوجوانوں کو بے گناہ گرفتار کر کے ہلاک کر دیا جاتا،ان کے گھروں کو آگ لگا دی جاتی ہے۔ کشمیریوں اور پاکستان کے بھرپور احتجاج کے باوجود ان مظالم میں کمی نہیں آرہی۔


پاکستان نے اقوام متحدہ اور امریکا سے متعدد بار مطالبہ کیا کہ مسئلہ کشمیر کا پر امن حل تلاش کیا جائے مگر اس جانب کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ چوہدری نثار علی خان نے فلسطین اور کشمیر کا خصوصی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شدت پسندی اور عسکریت پسندی کے فروغ میں ان دو بنیادی مسائل نے بھی اہم کردار ادا کیا،ان تنازعات کا حل ضروری ہے۔ پاکستان میں جنم لینے والی دہشت گردی بھی امریکی جنگ کا شاخسانہ ہے۔ اس خطے میں پاکستان کے دو ہمسایہ ممالک افغانستان اور بھارت دہشت گردی اور انتہا پسندی کا باعث بنے ہیں۔

چوہدری نثار نے واضح کیا کہ پڑوسی ملک نے پاکستان میں دہشت کی آگ بھڑکائی۔ کراچی اور بلوچستان میں آج جو حالات ہیں ان میں بھارتی ہاتھ ملوث ہے،پاکستان اس کے ثبوت بھی منظرعام پر لا چکا ہے مگر عالمی قوتیں بھارت کو اس گھناؤنے فعل سے روکنے کے بجائے اس کے ساتھ اپنے تجارتی،معاشی اور فوجی تعلقات مضبوط بنا رہی ہیں۔ اسی صورت حال کو واضح کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ عالمی برادری کے اراکین کے ساتھ تعلقات امریکا کا استحقاق ہے لیکن بھارت کے ساتھ بعض معاہدوں سے پاکستان متاثر ہو رہا ہے،امریکا کے لیے ضروری ہے کہ خطے میں اسٹرٹیجک توازن برقرار رکھے۔

بھارت امریکا دفاعی معاہدوں پر پاکستان اپنی تشویش کا اظہار کر چکا ہے مگر امریکا کے اپنے مفادات ہیں جن کی تکمیل کے لیے وہ بھارت سے تعلقات بڑھا رہا ہے۔ امریکا پاکستان کی اسٹرٹیجک اہمیت سے بخوبی آگاہ ہے اس لیے وہ اسے اپنا اہم اتحادی قرار دے رہا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ ساری نوازشات کی بارش بھارت پر کر رہا ہے جب کہ پاکستان کو بیانات کی حد تک میٹھی گولی دے رہا ہے۔ امریکی حکام دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار اور اس کی قربانیوں کا بارہا اعتراف کر چکے ہیں مگر موجودہ صورت حال میں وہ پاکستان کے مقابل بھارت پر کرم فرمائیاں کر رہے ہیں۔

جہاں تک بھارت کا معاملہ ہے تو پاکستان متعدد بار اس عزم کا اظہار کر چکا ہے کہ وہ اس سے بہتر تعلقات قائم کرنے کا خواہاں ہے مگر بھارت نے مثبت جواب دینے کے بجائے سرحدوں پر کشیدگی کو پیدا کر رکھا ہے اور آئے دن گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ شروع کر دیتا ہے۔ خارجہ سیکریٹری کی سطح پر مذاکرات سے انکار میں پہل بھارت ہی نے کی۔ اب بھارت نے عالمی دباؤ پر ان مذاکرات کو شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

چوہدری نثار نے بھارتی سیکریٹری خارجہ کے متوقع دورے کے حوالے سے حکومتی پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم بلیم گیم کے بجائے بھارتی سیکریٹری خارجہ کے ساتھ کھلے ذہن کے ساتھ ملیں گے اور توقع رکھتے ہیں کہ بھارت بھی خطے میں دیرپا امن کے لیے اسی طرح مثبت جذبے کا مظاہرہ کرے گا''۔ یہ اظہر من الشمس ہے کہ جب تک عالمی قوتیں ان اسباب کو دور نہیں کریں گی جو دہشت گردی اور انتہا پسندی کو جنم دے رہی ہیں یہ عفریت ختم نہیں ہو گا۔ جنگ اس مسئلے کا حل نہیں کیونکہ عالمی طاقتوں کی کارروائیوں سے دہشت گردی کم ہونے کے بجائے مزید پھیلی ہے اور اس کا نشانہ مسلم ممالک ہی بنے ہیں۔
Load Next Story