افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا میں تاخیر کا امکان
امریکی وزیر دفاع کا دورہ کابل ایسےوقت میں عمل میں آیا ہےجب افغانستان میں13سالہ جنگ کاسب سےزیادہ خونریز دور گزررہا ہے۔
افغان لیڈر بھی امریکا پر زور دے رہے ہیں کہ فوج کے انخلا میں جلدی نہ کرے، فوٹو : اے ایف پی
امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے اپنے دورہ کابل کے موقع پر اعلان کیا ہے کہ امریکا افغانستان سے فوجیں واپس بلانے کے عمل میں تاخیر کرنے کے لیے سنجیدگی سے غور کر رہا ہے کیونکہ اس ملک کو طالبان کی بڑھتی ہوئی سرکشی کا سامنا ہے۔ امریکی وزیر دفاع کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان میں فوج کی ایک مناسب تعداد مستقل طور پر رکھنے اور اپنے فوجی مستقر بعجلت خالی نہ کرنے کا مشورہ افغان صدر اشرف غنی اور ان کے کمانڈروں کی طرف سے دیا گیا ہے۔
افغان لیڈروں سے ملاقات کے بعد سیکریٹری آف ڈیفنس ایشٹن کارٹر نے کہا کہ صدر اوباما نے افغانستان میں کٹھن محنت کے بعد کامیابی حاصل کی ہے اور اب وہ کسی قسم کے تجاہل سے اسے ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتے اس لیے امریکی فوجیوں کی واپسی کے لیے دی گئی ''ٹائم لائن'' میں ممکنہ طور پر تبدیلی کر سکتے ہیں۔ مسٹر کارٹر نے صدر اشرف غنی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ امریکی فوجی انخلا کے نظام اوقات پر ایک اور نظر ڈالنے کی ضرورت ہے اور اس طرح امریکی فوجی مستقروں کو بند کرنے پر بھی دوبارہ غور و خوض کرنا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں صرف اکیلے امریکا کی فوجیں ہی نہیں ہیں بلکہ اس میں اس کے اتحادیوں کے فوجی دستے بھی شامل ہیں لہٰذا انخلا کے حتمی فیصلے میں ان سب کی آمادگی شامل ہونی چاہیے اور ان سب کو بعض طویل مدتی فیصلے بھی کرنا ہوں گے تا کہ افغانستان کی اقتصادی اور دفاعی ضروریات کی کفالت کی ضمانت فراہم کی جا سکے جو اشد ضروری ہے تا کہ افغان فورسز شدت پسندوں کے خلاف حتمی کامیابی حاصل کر سکیں۔ امریکی وزیر دفاع مسٹر کارٹر کا دورہ کابل ایسے وقت میں عمل میں آیا ہے جب افغانستان میں 13 سالہ جنگ کا سب سے زیادہ خونریز دور گزر رہا ہے اور وسیع پیمانے پر ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ریکارڈ کے مطابق سویلین ہلاکتوں کی شرح میں 2014ء کی نسبت 22 فیصد اضافہ ہو چکا ہے جب کہ افغان فورسز اور سرکشوں میں زمینی جھڑپوں میں بھی غیر معمولی طور پر اضافہ ہو چکا ہے۔ ادھر امریکی صدر افغانستان میں اپنی فوج کی تعداد 10,000 سے کم کر کے 5 ہزار تک کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں جو 2015ء کے اختتام تک وہاں موجود رہے گی بعد ازاں صدر اوباما اور دفاعی حکام ممکن ہے امریکی فوج کے افغانستان میں قیام کی مدت میں مزید دو سال کی توسیع کر دیں۔ افغان لیڈر بھی امریکا پر زور دے رہے ہیں کہ فوج کے انخلا میں جلدی نہ کرے۔
افغان لیڈروں سے ملاقات کے بعد سیکریٹری آف ڈیفنس ایشٹن کارٹر نے کہا کہ صدر اوباما نے افغانستان میں کٹھن محنت کے بعد کامیابی حاصل کی ہے اور اب وہ کسی قسم کے تجاہل سے اسے ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتے اس لیے امریکی فوجیوں کی واپسی کے لیے دی گئی ''ٹائم لائن'' میں ممکنہ طور پر تبدیلی کر سکتے ہیں۔ مسٹر کارٹر نے صدر اشرف غنی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ امریکی فوجی انخلا کے نظام اوقات پر ایک اور نظر ڈالنے کی ضرورت ہے اور اس طرح امریکی فوجی مستقروں کو بند کرنے پر بھی دوبارہ غور و خوض کرنا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں صرف اکیلے امریکا کی فوجیں ہی نہیں ہیں بلکہ اس میں اس کے اتحادیوں کے فوجی دستے بھی شامل ہیں لہٰذا انخلا کے حتمی فیصلے میں ان سب کی آمادگی شامل ہونی چاہیے اور ان سب کو بعض طویل مدتی فیصلے بھی کرنا ہوں گے تا کہ افغانستان کی اقتصادی اور دفاعی ضروریات کی کفالت کی ضمانت فراہم کی جا سکے جو اشد ضروری ہے تا کہ افغان فورسز شدت پسندوں کے خلاف حتمی کامیابی حاصل کر سکیں۔ امریکی وزیر دفاع مسٹر کارٹر کا دورہ کابل ایسے وقت میں عمل میں آیا ہے جب افغانستان میں 13 سالہ جنگ کا سب سے زیادہ خونریز دور گزر رہا ہے اور وسیع پیمانے پر ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ریکارڈ کے مطابق سویلین ہلاکتوں کی شرح میں 2014ء کی نسبت 22 فیصد اضافہ ہو چکا ہے جب کہ افغان فورسز اور سرکشوں میں زمینی جھڑپوں میں بھی غیر معمولی طور پر اضافہ ہو چکا ہے۔ ادھر امریکی صدر افغانستان میں اپنی فوج کی تعداد 10,000 سے کم کر کے 5 ہزار تک کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں جو 2015ء کے اختتام تک وہاں موجود رہے گی بعد ازاں صدر اوباما اور دفاعی حکام ممکن ہے امریکی فوج کے افغانستان میں قیام کی مدت میں مزید دو سال کی توسیع کر دیں۔ افغان لیڈر بھی امریکا پر زور دے رہے ہیں کہ فوج کے انخلا میں جلدی نہ کرے۔