چارٹر آف اکانومی کی توثیق

کونسل کے اس پانچویں اجلاس میں اقتصادی اصلاحات کو جاری رکھنے پر بھی اتفاق کا اظہار کیا گیا۔

یہ بات خوش آیند ہے کہ اقتصادی مشاورتی کونسل نے چارٹر آف اکانومی پر دستخط کیے ہیں‘اس سے قومی معیشت کی ایک سمت مقرر ہو جائے گی، فوٹو : فائل

اقتصادی مشاورتی کونسل نے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈر کی اس تجویز کی توثیق کر دی ہے جو انھوں نے کافی عرصہ سے دے رکھی ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں سے ''چارٹر آف اکانومی'' یا میثاق معیشت پر دستخط کرائے جائیں۔ کونسل کے تمام اراکین نے اس بات پر مکمل اعتماد اور اتفاق کا اظہار کیا کہ اقتصادی ترقی باقی تمام ترجیحات سے بلند و بالا ہونی چاہیے اور اس حوالے سے حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود اس میں کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے۔ کونسل کے اس پانچویں اجلاس میں اقتصادی اصلاحات کو جاری رکھنے پر بھی اتفاق کا اظہار کیا گیا۔


وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ملک کی موجود اقتصادی صورت حال کا ایک اجمالی جائزہ پیش کیا اور ملکی تعمیر و ترقی پر آئی ایم ایف کے پروگرام کے حوالے سے روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ حکومت کے نجکاری کے پروگرام کو بھی اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ای اے سی نے اپنے گزشتہ اجلاس میں بجٹ سے پہلے جو تجاویز پیش کی تھیں انھیں 2014-15ء کے بجٹ میں خصوصیت سے شامل کر لیا گیا تھا اور ان کو نافذ العمل کرنے کی بھی فعال کوشش کرتے ہوئے انھیں بجٹ کا حصہ بنا دیا گیا۔

وزیر خزانہ نے توانائی کے بحران کے حل اور لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کی کوششوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور دعویٰ کیا کہ 2018ء تک قومی گرڈ میں 7000 میگاواٹ اضافی بجلی شامل کر دی جائے گی۔ کونسل نے اقتصادی ترقی کے مختلف پہلوؤں پر بھی اطمینان کا اظہار کیا اور سالانہ اقتصادی جائزہ اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے شیڈول میں توازن کا ذکر بھی کیا۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا افراط زر میں استحکام پیدا ہو چکا ہے جب کہ اقتصادی شرح نمو 5 فیصد تک رہنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ یہ بات خوش آیند ہے کہ اقتصادی مشاورتی کونسل نے چارٹر آف اکانومی پر دستخط کیے ہیں'اس سے قومی معیشت کی ایک سمت مقرر ہو جائے گی اور حکومتوں کے آنے اور جانے سے اقتصادی و معاشی پالیسیوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
Load Next Story