ٹیم نے اُمید کا دیا روشن رکھنے کیلیے سر جوڑ لیے
پلیئرز نے پریکٹس کے بجائے تدابیر پر توجہ مرکوز رکھی، خراب کارکردگی کو بھلا کر توقعات پر پورا اتریں، مینجمنٹ کی ہدایت
اسکواڈ میں کوئی گروہ بندی نہیں،گرین شرٹس بقیہ میچز جیت کر کوارٹر فائنل میں رسائی حاصل کرلیں گے، چیئرمین بورڈ کو امید۔ فوٹو: فائل
KABUL:
قومی کرکٹ ٹیم نے ورلڈ کپ میں امید کا دیا روشن رکھنے کیلیے سر جوڑ لیے جب کہ پلیئرز نے پریکٹس کے بجائے شکستوں کی کھائی سے نکلنے کیلیے تدابیر پر توجہ مرکوز رکھی۔
تفصیلات کے مطابق ورلڈ کپ میں بھارت اور ویسٹ انڈیز سے شکستوں کے بعد قومی کرکٹ ٹیم برسبین میں ڈیرے ڈال چکی ہے، اتوار کو یہاں زمبابوے سے مقابلہ ہوگا، کھلاڑیوں اور آفیشلز نے پیر کو میدان میں سرگرم ہونے کے بجائے صلاح مشوروں میں وقت گزارا، مینجمنٹ کا کہنا ہے کہ ٹیم کا پریکٹس سیشن آرام کی غرض سے منسوخ کیا گیا تاہم پلیئرز جمنازیم میں معمول کی ورزش کرتے رہے۔
ذرائع کے مطابق کرکٹرز اور ٹیم آفیشلز کی میٹنگ میں شکستوں کے اسباب پر غور کیا گیا تاہم اس موقع پر معین خان موجود نہیں تھے، مینجمنٹ نے غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے پلیئرز کو ہدایت دی کہ وہ گذشتہ میچز میں خراب کارکردگی کو بھول کر آئندہ مقابلوں پر توجہ مبذول رکھیں، شکست کا خوف دل سے نکال کر عوامی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ دوسری جانب چیئرمین شہریار خان نے مینجمنٹ اور کھلاڑیوں کو ٹیلی فون کرکے یقین دلایا کہ بورڈ ٹیم کے ساتھ ہے، حوصلہ رکھیں اور دباؤ میں آئے بغیر ذمہ دارانہ انداز میں کھیلیں۔
بعد ازاں لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کسی کھلاڑی، مینجمنٹ یا کپتان پر تنقید نہیں کریں گے کیونکہ ناکامی کے ذمے دار سب ہیں، انھیں یہ احساس بھی ہے کہ قوم کو مایوس کیا، فی الحال کئی سوالات کے جواب ڈھونڈھنے کا مناسب وقت نہیں، ورلڈ کپ کے بعد احتساب کرینگے، البتہ ایک بات واضح کرنا ضروری ہے کہ کارکردگی خراب ضرور لیکن ٹیم میں کوئی گروہ بندی نہیں، ہیڈکوچ وقار یونس، چیف سلیکٹر معین خان، کپتان مصباح الحق اور منیجر نوید اکرم چیمہ سب نے فون پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیم میں کوئی انتشار نہیں ہے۔ شہریار خان نے کہا کہ کھلاڑیوں کے جذبے میں کوئی کمی نہیں آئی، وہ بھی شکستوں سے پریشان اور مسائل پر قابو پانے کیلیے کوشاں ہیں۔
امید ہے کہ آئندہ میچز میں ذمے داری سے کھیلیں گے، گرین شرٹس کو بورڈ کی مکمل سپورٹ حاصل ہے اور کھلاڑی مثبت سوچ کے ساتھ گراؤنڈ میں جائیں تو پرفارمنس اچھی ہوگی، اگلے میچز جیت کر کوارٹر فائنل میں جاسکتے ہیں۔ چیئرمین پی سی بی نے کہاکہ ٹیم کی پرفارمنس پرشرمندگی اور میچ ہارنے پرعوام کا غصہ بھی جائز ہے، البتہ ہم کسی کو قربانی کا بکرا نہیں بنائیں گے،اسی ٹیم کی سلیکشن پر 99فیصد میڈیا اور مبصرین متفق تھے۔ تاہم اب مختلف باتیں سامنے آرہی ہیں،تنقید میں کوئی برائی نہیں لیکن مثبت اور تعمیری ہونی چاہیے۔
ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ ہم عالمی رینکنگ میں ساتویں نمبر پر ہیں، ہماری صلاحیت بھی اتنی ہے، اس سے آگے بڑھ جائیں تو اچھی بات ہوگی، بھارت کے ساتھ موازنہ اس لیے بھی درست نہیں کہ بلو شرٹس 4ماہ سے آسٹریلیا میں موجود اور مسلسل شکستوں کے بعد اب کنڈیشنز سے مطابقت پیدا کر چکے ہیں، اس لیے پاکستان کے بعد جنوبی افریقہ کو بھی ہرا دیا۔
قومی کرکٹ ٹیم نے ورلڈ کپ میں امید کا دیا روشن رکھنے کیلیے سر جوڑ لیے جب کہ پلیئرز نے پریکٹس کے بجائے شکستوں کی کھائی سے نکلنے کیلیے تدابیر پر توجہ مرکوز رکھی۔
تفصیلات کے مطابق ورلڈ کپ میں بھارت اور ویسٹ انڈیز سے شکستوں کے بعد قومی کرکٹ ٹیم برسبین میں ڈیرے ڈال چکی ہے، اتوار کو یہاں زمبابوے سے مقابلہ ہوگا، کھلاڑیوں اور آفیشلز نے پیر کو میدان میں سرگرم ہونے کے بجائے صلاح مشوروں میں وقت گزارا، مینجمنٹ کا کہنا ہے کہ ٹیم کا پریکٹس سیشن آرام کی غرض سے منسوخ کیا گیا تاہم پلیئرز جمنازیم میں معمول کی ورزش کرتے رہے۔
ذرائع کے مطابق کرکٹرز اور ٹیم آفیشلز کی میٹنگ میں شکستوں کے اسباب پر غور کیا گیا تاہم اس موقع پر معین خان موجود نہیں تھے، مینجمنٹ نے غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے پلیئرز کو ہدایت دی کہ وہ گذشتہ میچز میں خراب کارکردگی کو بھول کر آئندہ مقابلوں پر توجہ مبذول رکھیں، شکست کا خوف دل سے نکال کر عوامی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ دوسری جانب چیئرمین شہریار خان نے مینجمنٹ اور کھلاڑیوں کو ٹیلی فون کرکے یقین دلایا کہ بورڈ ٹیم کے ساتھ ہے، حوصلہ رکھیں اور دباؤ میں آئے بغیر ذمہ دارانہ انداز میں کھیلیں۔
بعد ازاں لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کسی کھلاڑی، مینجمنٹ یا کپتان پر تنقید نہیں کریں گے کیونکہ ناکامی کے ذمے دار سب ہیں، انھیں یہ احساس بھی ہے کہ قوم کو مایوس کیا، فی الحال کئی سوالات کے جواب ڈھونڈھنے کا مناسب وقت نہیں، ورلڈ کپ کے بعد احتساب کرینگے، البتہ ایک بات واضح کرنا ضروری ہے کہ کارکردگی خراب ضرور لیکن ٹیم میں کوئی گروہ بندی نہیں، ہیڈکوچ وقار یونس، چیف سلیکٹر معین خان، کپتان مصباح الحق اور منیجر نوید اکرم چیمہ سب نے فون پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیم میں کوئی انتشار نہیں ہے۔ شہریار خان نے کہا کہ کھلاڑیوں کے جذبے میں کوئی کمی نہیں آئی، وہ بھی شکستوں سے پریشان اور مسائل پر قابو پانے کیلیے کوشاں ہیں۔
امید ہے کہ آئندہ میچز میں ذمے داری سے کھیلیں گے، گرین شرٹس کو بورڈ کی مکمل سپورٹ حاصل ہے اور کھلاڑی مثبت سوچ کے ساتھ گراؤنڈ میں جائیں تو پرفارمنس اچھی ہوگی، اگلے میچز جیت کر کوارٹر فائنل میں جاسکتے ہیں۔ چیئرمین پی سی بی نے کہاکہ ٹیم کی پرفارمنس پرشرمندگی اور میچ ہارنے پرعوام کا غصہ بھی جائز ہے، البتہ ہم کسی کو قربانی کا بکرا نہیں بنائیں گے،اسی ٹیم کی سلیکشن پر 99فیصد میڈیا اور مبصرین متفق تھے۔ تاہم اب مختلف باتیں سامنے آرہی ہیں،تنقید میں کوئی برائی نہیں لیکن مثبت اور تعمیری ہونی چاہیے۔
ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ ہم عالمی رینکنگ میں ساتویں نمبر پر ہیں، ہماری صلاحیت بھی اتنی ہے، اس سے آگے بڑھ جائیں تو اچھی بات ہوگی، بھارت کے ساتھ موازنہ اس لیے بھی درست نہیں کہ بلو شرٹس 4ماہ سے آسٹریلیا میں موجود اور مسلسل شکستوں کے بعد اب کنڈیشنز سے مطابقت پیدا کر چکے ہیں، اس لیے پاکستان کے بعد جنوبی افریقہ کو بھی ہرا دیا۔