ٹیم آسٹریلیا میں موجود لیکن ماہرنفسیات سے شہریار خان کے مشورے
پلیئرزکرکٹ کو جنگ نہ سمجھیں، مثبت ذہن سے کھیل کا لطف اٹھائیں، چیئرمین
آفریدی کے ڈراپ کیچز کے پیچھے کوئی خاص وجہ تلاش کرنا درست نہیں ہوگا، چیرمین پی سی بی۔ فوٹو: اے ایف پی
QUETTA:
ورلڈکپ میں شریک قومی کرکٹ ٹیم آسٹریلیا و نیوزی لینڈ میں شکستوں کا شکار ہورہی ہے لیکن ماہر نفسیات سے مشورے چیئرمین پی سی بی شہریار خان پاکستان میں کررہے ہیں۔
گذشتہ روز لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے کہا کہ گرین شرٹس کی مایوس کن کارکردگی کے حوالے سے ایک ماہر نفسیات سے بات ہوئی، اس کا کہنا ہے کہ ٹیم شکست کا خوف سوارکرکے کھیلے تو ناکامی ہوتی ہے، کھلاڑیوں کو یہی بتانا چاہیے کہ کرکٹ کو جنگ نہ سمجھیں،مثبت ذہن کے ساتھ کھیل کا لطف اٹھاتے ہوئے اپنی بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کریں تو اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔
بورڈ کے سربراہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپنے سفارتکاری کے حربے بھی استعمال کیے،سابق سیکریٹری خارجہ اپنے کمرے سے گراؤنڈ فلورپر آئے، ابتدائی وضاحتی بیان کے بعد میڈیا کے نمائندوں نے ان پر معین خان اسکینڈل سمیت قومی ٹیم کے اہم معاملات پر تندوتیز سوالات کی بوچھاڑ کر دی،شہریار خان جذبات کی لہر میں بہنے کے بجائے مخصوص سفارتی زبان استعمال کرتے ہوئے بیشتر مسائل پر کوئی حتمی رائے دینے سے گریز کرتے رہے۔
دریں اثنا پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے کہا ہے کہ ویسٹ انڈیز کیخلاف میچ میں شاہد آفریدی کے ڈراپ کیچز کے پیچھے کوئی خاص وجہ تلاش کرنا درست نہیں ہوگا۔گذشتہ روز ایک صحافی نے اس حوالے سے سوال اٹھایا تھا، شہریار خان نے اس سے پوچھا کہ کیا آپ نے کبھی کرکٹ کھیلی ہے،یہ ایک ایسا کھیل ہے جس میں کبھی کبھی بہترین فیلڈرز سے بھی کیچز ڈراپ ہوجاتے ہیں، شاہدآفریدی ایک بہترین کرکٹر ہیں،اس اتفاق کے پیچھے اگر آپ کوئی اور وجہ تلاش کرنے کی کوشش کریںگے تو درست نہیں ہوگا۔
ورلڈکپ میں شریک قومی کرکٹ ٹیم آسٹریلیا و نیوزی لینڈ میں شکستوں کا شکار ہورہی ہے لیکن ماہر نفسیات سے مشورے چیئرمین پی سی بی شہریار خان پاکستان میں کررہے ہیں۔
گذشتہ روز لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے کہا کہ گرین شرٹس کی مایوس کن کارکردگی کے حوالے سے ایک ماہر نفسیات سے بات ہوئی، اس کا کہنا ہے کہ ٹیم شکست کا خوف سوارکرکے کھیلے تو ناکامی ہوتی ہے، کھلاڑیوں کو یہی بتانا چاہیے کہ کرکٹ کو جنگ نہ سمجھیں،مثبت ذہن کے ساتھ کھیل کا لطف اٹھاتے ہوئے اپنی بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کریں تو اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔
بورڈ کے سربراہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپنے سفارتکاری کے حربے بھی استعمال کیے،سابق سیکریٹری خارجہ اپنے کمرے سے گراؤنڈ فلورپر آئے، ابتدائی وضاحتی بیان کے بعد میڈیا کے نمائندوں نے ان پر معین خان اسکینڈل سمیت قومی ٹیم کے اہم معاملات پر تندوتیز سوالات کی بوچھاڑ کر دی،شہریار خان جذبات کی لہر میں بہنے کے بجائے مخصوص سفارتی زبان استعمال کرتے ہوئے بیشتر مسائل پر کوئی حتمی رائے دینے سے گریز کرتے رہے۔
دریں اثنا پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے کہا ہے کہ ویسٹ انڈیز کیخلاف میچ میں شاہد آفریدی کے ڈراپ کیچز کے پیچھے کوئی خاص وجہ تلاش کرنا درست نہیں ہوگا۔گذشتہ روز ایک صحافی نے اس حوالے سے سوال اٹھایا تھا، شہریار خان نے اس سے پوچھا کہ کیا آپ نے کبھی کرکٹ کھیلی ہے،یہ ایک ایسا کھیل ہے جس میں کبھی کبھی بہترین فیلڈرز سے بھی کیچز ڈراپ ہوجاتے ہیں، شاہدآفریدی ایک بہترین کرکٹر ہیں،اس اتفاق کے پیچھے اگر آپ کوئی اور وجہ تلاش کرنے کی کوشش کریںگے تو درست نہیں ہوگا۔