فوجی عدالتوں کے سواکوئی آپشن نہیں سپریم کورٹ میں وفاق کاجواب
حالت جنگ اورغیرمعمولی صورتحال سے نمٹنے کیلیے آئین اورآرمی ایکٹ میں ترامیم کی گئی ہیں، وفاق
دہشت گرد مذہب کے لبادے میں وہ اپناایجنڈا پوری قوم پرمسلط کرناچاہتے ہیں، اٹارنی جنرل۔ فوٹو: فائل
وفاقی حکومت نے 21ویں آئینی ترمیم اورفوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف مقدمے میں اپنا جامع جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا ہے۔ جسٹس انورظہیر جمالی جسٹس شیخ عظمت سعیداور جسٹس مشیرعالم پرمشتمل بینچ آج سماعت کرے گا۔
اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں 21ویں آئینی ترمیم اورفوجی عدالتوں کے خلاف دائر درخواستیں ناقابل سماعت قراردیتے ہوئے خارج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ وفاقی حکومت نے موقف اپنایاکہ مجلس شوریٰ نے حالت جنگ اور غیرمعمولی صورتحال سے نمٹنے کے لیے آئین اورآرمی ایکٹ میں آئین وقانون کے مطابق ترامیم کی ہیں۔ پارلیمنٹ کو آئین کی کسی بھی شق میں تبدیلی کا مکمل اختیار ہے جسے چیلنج نہیں کیاجا سکتا۔
کچھ دہشت گردوں اوران کی تنظیموں نے ریاست کے خلاف جنگ مسلط کی۔ ریاست کے ادارے، عبادت گاہیں، درسگاہیں، فوج اورفوجی تنصیبات ان دہشت گردوں کے ہدف پرہیں۔ اسلام کی ان کی اپنی تعریف ہے، مذہب کے لبادے میں وہ اپناایجنڈا پوری قوم پرمسلط کرناچاہتے ہیں، دہشت گردریاست، آئین اورقانون سے انکاری ہیں۔
اس جنگ میں اب تک 50ہزار لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ آرمی ہیڈ کوارٹرز، نیوی اور ایئرفورس کے بیسزپر حملے کیے جاچکے ہیں، ملکی معیشت کاپہیہ رک چکاہے، سماجی وسیاسی ڈھانچہ بری طرح متاثرہے، غیرملکی سرمایہ کاربھاگ رہے ہیں، متعدد غیرملکی ایئرلائنوں نے پاکستان کے لیے پروازیں بندکردی ہیں، ملکی ترقی کے اہم منصوبے بند ہوگئے ہیں، غیرملکی انجینئراور ہنرمند پاکستان آنے سے کترارہے ہیں، یہ ایک غیرمعمولی صورتحال ہے جس کاتعلق ملک کی بقاو سلامتی سے ہے۔
جواب میں کہا گیاہے کہ آرمی پبلک اسکول میں 146بچوںکووحشیانہ طریقے سے مارنے کے بعدپوری قوم ان دہشت گردوں کے خلاف متحدہے اورپارلیمنٹ قوم کے اجتماعی شعورکی آواز بن کراٹھ کھڑی ہوئی ہے۔
اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں 21ویں آئینی ترمیم اورفوجی عدالتوں کے خلاف دائر درخواستیں ناقابل سماعت قراردیتے ہوئے خارج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ وفاقی حکومت نے موقف اپنایاکہ مجلس شوریٰ نے حالت جنگ اور غیرمعمولی صورتحال سے نمٹنے کے لیے آئین اورآرمی ایکٹ میں آئین وقانون کے مطابق ترامیم کی ہیں۔ پارلیمنٹ کو آئین کی کسی بھی شق میں تبدیلی کا مکمل اختیار ہے جسے چیلنج نہیں کیاجا سکتا۔
کچھ دہشت گردوں اوران کی تنظیموں نے ریاست کے خلاف جنگ مسلط کی۔ ریاست کے ادارے، عبادت گاہیں، درسگاہیں، فوج اورفوجی تنصیبات ان دہشت گردوں کے ہدف پرہیں۔ اسلام کی ان کی اپنی تعریف ہے، مذہب کے لبادے میں وہ اپناایجنڈا پوری قوم پرمسلط کرناچاہتے ہیں، دہشت گردریاست، آئین اورقانون سے انکاری ہیں۔
اس جنگ میں اب تک 50ہزار لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ آرمی ہیڈ کوارٹرز، نیوی اور ایئرفورس کے بیسزپر حملے کیے جاچکے ہیں، ملکی معیشت کاپہیہ رک چکاہے، سماجی وسیاسی ڈھانچہ بری طرح متاثرہے، غیرملکی سرمایہ کاربھاگ رہے ہیں، متعدد غیرملکی ایئرلائنوں نے پاکستان کے لیے پروازیں بندکردی ہیں، ملکی ترقی کے اہم منصوبے بند ہوگئے ہیں، غیرملکی انجینئراور ہنرمند پاکستان آنے سے کترارہے ہیں، یہ ایک غیرمعمولی صورتحال ہے جس کاتعلق ملک کی بقاو سلامتی سے ہے۔
جواب میں کہا گیاہے کہ آرمی پبلک اسکول میں 146بچوںکووحشیانہ طریقے سے مارنے کے بعدپوری قوم ان دہشت گردوں کے خلاف متحدہے اورپارلیمنٹ قوم کے اجتماعی شعورکی آواز بن کراٹھ کھڑی ہوئی ہے۔