ورلڈ کپ 2019 میں ٹیموں کی تعداد کم کرنے پر عاقب بھی ناخوش
ویسٹ انڈیز، بنگلہ دیش اور زمبابوے نے 10 سال میں کیا پایا؟ یو اے ای کوچ کا استفسار
میرے خیال میں ایسوسی ایٹ اور فل ممبران ٹیموں کے درمیان فرق کم ہوتا جارہا ہے، عاقب جاوی۔ فوٹو: فائل
یو اے ای کے کوچ اور سابق پاکستانی پیسر عاقب جاوید نے آئندہ ورلڈ کپ میں ٹیموں کی تعداد کم کرنے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صرف میگا ایونٹ ہی نہیں بلکہ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ویسٹ انڈیز، بنگلہ دیش اور زمبابوے نے گذشتہ 10 برسوں میں کیا پایا؟ ان پر کارکردگی بہتر بنانے یا پھر تنزلی کا سامنا کرنے کیلیے دباؤ کیوں نہیں ہے۔
تفصیلات کے مطابق آئی سی سی نے آئندہ ورلڈ کپ میں ٹیموں کی تعداد 14 سے کم کرکے 10 کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، گذشتہ دنوں ورلڈ گورننگ باڈی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈیورچرڈسن نے بھی اس فیصلے کو دہرایا تھا، مگر یواے ای کے کوچ اور سابق پاکستانی پیسر عاقب جاوید اس سے مطمئن دکھائی نہیں دیتے، انھوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ میرے خیال میں ایسوسی ایٹ اور فل ممبران ٹیموں کے درمیان فرق کم ہوتا جارہا ہے، میں اس بات پر بہت حیران ہوں کہ آئی سی سی نے پہلے ہی آئندہ ورلڈ کپ میں 10 ٹیموں کو شامل رکھنے کا فیصلہ کرلیا ہے، وہ ٹیمیں کون سی ہوں گی؟
اگر آپ کچھ سائیڈزکی پرفارمنس دیکھیں تو ان کاگراف نیچے کی جانب جارہا ہے، جیسا کہ ویسٹ انڈیز، بنگلہ دیش اور زمبابوے ہیں، میں یہ بات ورلڈ کپ کے حوالے سے نہیں کررہا بلکہ مجموعی طور پر ان ممالک کی کارکردگی کو دیکھا جائے تو گذرے 10 برسوں میں انھوں نے کیا حاصل کیا؟ ایسے میں ان پر پرفارمنس بڑھانے یا تنزلی کا سامنا کرنے کیلیے دباؤ کیوں نہیں ہے۔
یاد رہے کہ آئی سی سی نے 2ایسوسی ایٹ ممالک آئرلینڈ اور افغانستان کو سسٹم میں شامل کرتے ہوئے انھیں دیگر فل ممبران کے ہمراہ رینکنگ بہتر بنانے پر 2019 کے ورلڈ کپ میں براہ راست جگہ بنانے کا موقع فراہم کیا ہے۔
رینکنگ کی بنیاد پر ٹاپ 8 ممالک کوآئندہ میگا ایونٹ میں شرکت کا پروانہ مل جائے گا جب کہ دیگر 2 پوزیشنز کا تعین 2018 میں بنگلہ دیش میں شیڈول کوالیفائنگ ٹورنامنٹ سے ہوگا، ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آئرلینڈ اور افغانستان کو دیگر ٹیسٹ ممبران سے اتنی بڑی تعداد میں ون ڈے میچز کھیلنے کا موقع مل پائے گا جس کی بنیاد پروہ اپنی رینکنگ میں نمایاں بہتری لاسکیں۔
تفصیلات کے مطابق آئی سی سی نے آئندہ ورلڈ کپ میں ٹیموں کی تعداد 14 سے کم کرکے 10 کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، گذشتہ دنوں ورلڈ گورننگ باڈی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈیورچرڈسن نے بھی اس فیصلے کو دہرایا تھا، مگر یواے ای کے کوچ اور سابق پاکستانی پیسر عاقب جاوید اس سے مطمئن دکھائی نہیں دیتے، انھوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ میرے خیال میں ایسوسی ایٹ اور فل ممبران ٹیموں کے درمیان فرق کم ہوتا جارہا ہے، میں اس بات پر بہت حیران ہوں کہ آئی سی سی نے پہلے ہی آئندہ ورلڈ کپ میں 10 ٹیموں کو شامل رکھنے کا فیصلہ کرلیا ہے، وہ ٹیمیں کون سی ہوں گی؟
اگر آپ کچھ سائیڈزکی پرفارمنس دیکھیں تو ان کاگراف نیچے کی جانب جارہا ہے، جیسا کہ ویسٹ انڈیز، بنگلہ دیش اور زمبابوے ہیں، میں یہ بات ورلڈ کپ کے حوالے سے نہیں کررہا بلکہ مجموعی طور پر ان ممالک کی کارکردگی کو دیکھا جائے تو گذرے 10 برسوں میں انھوں نے کیا حاصل کیا؟ ایسے میں ان پر پرفارمنس بڑھانے یا تنزلی کا سامنا کرنے کیلیے دباؤ کیوں نہیں ہے۔
یاد رہے کہ آئی سی سی نے 2ایسوسی ایٹ ممالک آئرلینڈ اور افغانستان کو سسٹم میں شامل کرتے ہوئے انھیں دیگر فل ممبران کے ہمراہ رینکنگ بہتر بنانے پر 2019 کے ورلڈ کپ میں براہ راست جگہ بنانے کا موقع فراہم کیا ہے۔
رینکنگ کی بنیاد پر ٹاپ 8 ممالک کوآئندہ میگا ایونٹ میں شرکت کا پروانہ مل جائے گا جب کہ دیگر 2 پوزیشنز کا تعین 2018 میں بنگلہ دیش میں شیڈول کوالیفائنگ ٹورنامنٹ سے ہوگا، ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آئرلینڈ اور افغانستان کو دیگر ٹیسٹ ممبران سے اتنی بڑی تعداد میں ون ڈے میچز کھیلنے کا موقع مل پائے گا جس کی بنیاد پروہ اپنی رینکنگ میں نمایاں بہتری لاسکیں۔