پائپ کو آخری سرے سے بند کرنے کی کوشش
عوام کے خون پسینے سے کیا کچھ حفاظتی آلات اور ایجادات ڈھیروں ڈھیر پڑے ہوئے ہیں
barq@email.com
KARACHI:
اللہ معافی دے، آج کل ہمارے ذہن میں بڑے ''فاسد'' قسم کے خیالات آرہے ہیں۔ ان میں کچھ تو عوامی خیالات ہوتے ہیں لیکن کچھ تو اتنے زیادہ خطرناک، شرم ناک اور وحشت ناک ہوتے ہیں جیسے ان تمام فاسد خیالات کے لیڈر ہوں، بلکہ بعض تو اتنے زیادہ اور ٹاپ کوالٹی کے فاسد خیالات ہوتے ہیں کہ اگر ہم سنانے لگیں تو ہمارا منہ اور آپ کے کان ایک ساتھ جل جائیں گے، ایسے فاسد خیالات ظاہر ہے کہ ہم کالم میں تو نہیں لکھ سکتے ورنہ صبح ہاکر اخبار کی جگہ آپ کے دروازے پر مٹھی بھر راکھ ہی پہنچا پائے گا ۔گویا
عرض کیجیے جوہر اندیشہ کی گرمی کہاں
کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا
ظاہر ہے کہ ایسے فاسد خیالات کے ساتھ ہم وہی سلوک کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جو سلوک زمانہ جاہلیت کے عرب اپنی بیٹیوں کے ساتھ کرتے تھے۔ ہم بھی ایسے خیالات کو پیدا ہوتے ہی گلا گھونٹ کر دل کے کسی گڑھے میں مٹی تلے دبا دیتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر وہ فاسد خیالات ہم آپ تک نہیں پہنچا سکتے تو ان کی پیدائش کی وجہ بھی نہ بتا سکیں۔
اصل میں اپنے یہاں گزشتہ کچھ عرصے سے جو نہایت ہی بدہضم قسم کی سیاست ہو رہی ہے اور جس قسم کی ثقیل الہضم سیاسی جلیبیاں تقریباً ہر سیاسی حلوائی، ہر سیاسی دکان پر بنا رہا ہے، ان پر بھلے ہی یہ لوگ بیان بازی کے نقری ورق چپکائیں، ہیں تو وہی سڑے ہوئے سامان سے بنائی ہوئی جلیبیاں جو اتنے زیادہ عرصے سے پکائی جارہی ہیں کہ اس کے خمیر سے بدبو اٹھنے لگی ہے۔
سیاسی جلیبیوں کا معاملہ بالکل ویسا ہی ہے جو پشاور میں مرغی کے ''پانچوں'' کا ہوتا ہے، ایک تحقیق کے مطابق ان ''پانچوں'' کے شوربے میں ابھی تک ان پانچوں کے شوربے کا شوربہ چل رہا ہے جو احمد شاہ ابدالی کے لشکری یہاں سے گزرتے ہوئے کھا چکے تھے۔ ان پانچوں کے ساتھ ''گرم یخنی'' میں بھی اس مرغی کا شوربہ ابھی تک چل رہا ہے جو مہاراجہ کنشکا کے لیے حکیموں نے تجویز کی تھی لیکن بے چارا وہ شوربا نہیں پی سکا تھا کیونکہ حکیموں نے اسے دو رضائیوں میں لپیٹ کر سی لیا تھا تاکہ پسینہ آنے کے بعد مرغی کی گرم یخنی نوش فرمائے۔
ظاہر ہے کہ ان پانچوں اور مرغی کی گرم یخنی کے ہم عصر ''خمیر'' سے جو سیاسی ''جلیبییاں'' پکائی جارہی ہیں، ان کے کھانے پر ویسے ہی فاسد خیالات آسکتے ہیں جیسے آج کل ہمارے دل و دماغ میں آرہے ہیں کیونکہ دنیا کے ''ہر پیتھک'' کے ماہر حکماء کا کہنا ہے کہ ''ڈراؤنے خواب'' پیٹ کی خرابی کا نتیجہ ہوتے ہیں اور ظاہر ہے کہ ہمارے فاسد خیالات بھی ''دماغ کا پیٹ'' خراب ہونے ہی کا نتیجہ ہوں گے ورنہ ''پیٹ کی خرابی'' دور کرنے کے لیے تو علامہ بریانی عرف برڈ فلو کا مشہور خاندانی چورن ہماری دسترس میں ہے۔
اگرچہ اب وہ بھی ترقی کر کے نہ جانے ''کیا کیا ہضم'' چورن ہو چکا ہے اور صرف بڑے لوگوں، سابق و موجودہ وزیروں، قوم کے منتخب نمایندوں، ٹھیکیداروں اور کرپشن کا ''خاتمہ'' کرنے والوں کے لیے مخصوص ہو چکا ہے لیکن علامہ اتنے بے درد بھی نہیں کہ پڑوسی کو ایک دو چٹکیاں مفت عطا فرما دیں، لیکن اس میں پرابلم یہ ہے کہ علامہ کے چورن کا تعلق انسان کے پیٹ کی بدہضمی سے ہے یعنی اگر کوئی اپنے منہ سے کچھ بھی کھا لے، لکڑ پتھر سیمنٹ سریا فنڈ بجٹ قرضہ وغیرہ تو اس کو تیر بہدف ہے۔
جب کہ یہاں ہمارے دماغ کا پیٹ خراب ہے اور منہ سے کچھ انٹ شنٹ کھانے کے باعث نہیں بلکہ ''کانوں'' سے باتدبیران ملک و قوم کی سیاسی جلیبیاں کھا کھا کر خراب ہوا ہے اور اس کا علاج علامہ تو کیا حکیم لقمان بھی کیا آج کے اشتہاری حکیمی نسخوں، دوا خانوں اور ہر بل خانوں کے پاس بھی نہیں ہے۔
مجھے وہ دل کا روگ ہے کہ جس کا کوئی علاج نہیں
''علاج ہے'' مگر اس ملک میں رواج نہیں
ذرا اپنے دل بلکہ اپنے سر پر ہاتھ رکھیے جس کے اندر اگرچہ کوئی دماغ نہیں ہے لیکن پھر بھی ایک سر ایک ہندسہ اور ایک ووٹ تو ہے کہ یہ جو ہمارے اردگرد ہو رہا ہے اور جس کے لیے ہمارے ''باتدبیر'' جس قسم کی تدبیری جلیبیاں بنا رہے ہیں ، اس سے دماغ کا پیٹ تو کیا سارا نظام ہاضمہ تلپٹ ہو گا یا نہیں، مثال کے طور پر یہ تدبیر لے لیجیے کہ ہر استاد کو اسکول میں پڑھانے جاتے وقت اپنے ساتھ اسلحہ ضرور رکھنا چاہیے ۔
کیا خوب صورت منظر ہو گا کہ ٹیچر کھڑا ہو کر پڑھا رہا ہے یا بلیک بورڈ پر لکھ رہا ہے اور اس نے کاندھے سے پستول یا کلاشن کوف یا دو نالی بندوق بھی لٹکا رکھی ہے، اس منظر پر ہم تو کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے لیکن باتدبیروں میں سے پوچھنا پڑے گا لیکن آپ تو کہتے ہیں کہ ہمیں قوم کے ہاتھ سے اسلحہ چھین کر قلم دینا ہے لیکن یہ کیا ہے آپ تو قلم چھین کر پھر اسلحہ تھما رہے ہیں ۔کہاں گیا وہ
''قلم گوئد کہ من شاہ جہانم''
آپ ہی بتایئے کہ ایسی حالت میں ہمارے دماغ کا پیٹ خراب نہیں ہو گا تو اور کیا ہو گا اور فاسد خیال نہیں آئیں گے تو کیا آئے گا، بتایئے بتایئے ہم آپ سے پوچھ رہے ہیں کوئی جواب ہے، آپ کے پاس؟ اور پھر اس کی کیا ضمانت ہے کہ آپ کے کاندھے پر بندوق رکھ کر ''وہ'' کرنے والے وہ نہیں کریں گے جو کرتے آئے ہیں، کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے ،کیا وہ اندھے ہیں جو سیدھے سیدھے بندوق کے سامنے چھاتی کھول کر آئیں گے کہ لو یہ ہم ہیں گولی مار کر ہم سے اپنی حفاظت کر لو۔
دوست غم خواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا؟
زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ آئیں گے کیا
یہ سارے حفاظتی انتظامات، یہ کانٹا تاریں، یہ بندوق، یہ سیمنٹ کی سیلبیں، یہ حفاظتی خول، یہ رکاوٹیں سب کچھ پہلے بھی تھا، یہ تلاشیاں یہ ہر سڑک پر ہرے ڈیٹکٹر یہ آلے یہ حربے یہ وسیلے یہ ذریعے تو ہمیشہ سے رہے ہیں لیکن پھر بھی کرنے والے کر جاتے ہیں، خودکش بھی جہاں چاہیں پہنچ جاتے ہیں ، اسلحہ بارود بھی جہاں چاہتے ہیں پہنچا دیتے ہیں اور جو چاہتے ہیں وہ کر بھی دیتے ہیں حالانکہ بظاہر ایسا ہونا تو نہیں چاہیے کیونکہ بظاہر تو ہر سڑک پر ہر طرح کی چھلنیاں لگی ہوئی ہیں۔
عوام کے خون پسینے سے کیا کچھ حفاظتی آلات اور ایجادات ڈھیروں ڈھیر پڑے ہوئے ہیں ، حساس سڑکوں کو دیواریں تعمیر کر کے ہمیشہ کے لیے بند کیا جا چکا ہے، قوم کی ''قیمتی متاعوں'' کے دفاتر گھر اور راستے محفوظ کیے جا چکے ہیں۔ شہر میں آنے جانے کے سارے راستوں پر ''حفاظتی'' انتظامات ہیں لیکن پھر بھی وہ کر جاتے ہیں جو کرنا چاہتے اور جہاں کرنا چاہتے ہیں، تو کیا اب اساتذہ کو مسلح کرنے کے بعد وہ رک جائیں گے اور کیا بندوق بردار استاد بچوں کو یہ پڑھا سکے گا کہ دیکھو قلم میں بندوق سے زیادہ طاقت ہے۔
ویسے اب جب یہ شروع ہو چکا ہے تو ختم تو نہیں ہو گا تو کیوں نہ ایک اور اچھی سی تدبیر اختیار کی جائے، پیسے کی کمی تو ہے نہیں کیونکہ ہم چلتے پھرتے اٹھارہ کروڑ تیل کے کنوؤں کے مالک ہیں اس لیے کچھ ایسا کیا جائے کہ کسی باہر کے ملک سے کوئی ایسی چیز بنوائی جائے جو ٹو ان ون ہو، یعنی بیک وقت قلم بھی ہو اور بندوق بھی، لکھ بھی سکتا ہو اور فائر بھی کر سکتا ہو مثلاً ایسا کوئی پستول ایجاد کرنا زیادہ مشکل نہیں ہے جس کی نالی قلم جیسی ہو یا اس میں قلم کو فٹ کیا جا سکتا ہو۔
فائدہ اس کا یہ ہو گا کہ استاد اسے پکڑ کر بلیک بورڈ پر لکھ رہا ہو گا اور اگر اچانک ضرورت پڑ جائے تو ایک بٹن دبا کر اس سے دھنا دھن گولیاں بھی برسانا شروع کر دے گا، اور اس میں کوئی خاص مشکل بھی پیش نہیں آئے گی صرف اتنا کرنا ہو گا کہ اٹھارہ کروڑ تیل کے کنوؤں سے کچھ زیادہ تیل نکالا جائے گا کیونکہ اس آلے کو بنوانے اور یہاں تک پہنچانے والے لوگ بھی تو چولی کے پیچھے ایک عدد پیٹ اور چنری کے نیچے ایک جیب رکھتے ہیں، اور ایسا ایک دن ضرورکرنا پڑے گا کیونکہ جب تک ایک تیز رفتار انتہائی پریشر سے پانی خارج کرنے والے پائپ کو اس طرف سے بند کرنے کی کوشش ہوتی رہے گی۔
ایسا ہی ہوتا رہے گا۔ اس طریقے سے آپ پائپ کو کتنا بھی بند کیوں نہ کریں، وہ ان سب کو بہا کر لے جائے گا کیونکہ پانی بند کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ موٹر کا سوئچ بند کر دیا جائے۔ اب سوئچ کہاں ہے، اسے کیسے بند کیا جانا چاہیے، یہ تو باتدبیروں اور سیاسی جلیبیاں بنانے والے حلوائیوں کا کام ہے، ہمارا تو دماغ کا پیٹ ہی خراب ہے۔
اللہ معافی دے، آج کل ہمارے ذہن میں بڑے ''فاسد'' قسم کے خیالات آرہے ہیں۔ ان میں کچھ تو عوامی خیالات ہوتے ہیں لیکن کچھ تو اتنے زیادہ خطرناک، شرم ناک اور وحشت ناک ہوتے ہیں جیسے ان تمام فاسد خیالات کے لیڈر ہوں، بلکہ بعض تو اتنے زیادہ اور ٹاپ کوالٹی کے فاسد خیالات ہوتے ہیں کہ اگر ہم سنانے لگیں تو ہمارا منہ اور آپ کے کان ایک ساتھ جل جائیں گے، ایسے فاسد خیالات ظاہر ہے کہ ہم کالم میں تو نہیں لکھ سکتے ورنہ صبح ہاکر اخبار کی جگہ آپ کے دروازے پر مٹھی بھر راکھ ہی پہنچا پائے گا ۔گویا
عرض کیجیے جوہر اندیشہ کی گرمی کہاں
کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا
ظاہر ہے کہ ایسے فاسد خیالات کے ساتھ ہم وہی سلوک کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جو سلوک زمانہ جاہلیت کے عرب اپنی بیٹیوں کے ساتھ کرتے تھے۔ ہم بھی ایسے خیالات کو پیدا ہوتے ہی گلا گھونٹ کر دل کے کسی گڑھے میں مٹی تلے دبا دیتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر وہ فاسد خیالات ہم آپ تک نہیں پہنچا سکتے تو ان کی پیدائش کی وجہ بھی نہ بتا سکیں۔
اصل میں اپنے یہاں گزشتہ کچھ عرصے سے جو نہایت ہی بدہضم قسم کی سیاست ہو رہی ہے اور جس قسم کی ثقیل الہضم سیاسی جلیبیاں تقریباً ہر سیاسی حلوائی، ہر سیاسی دکان پر بنا رہا ہے، ان پر بھلے ہی یہ لوگ بیان بازی کے نقری ورق چپکائیں، ہیں تو وہی سڑے ہوئے سامان سے بنائی ہوئی جلیبیاں جو اتنے زیادہ عرصے سے پکائی جارہی ہیں کہ اس کے خمیر سے بدبو اٹھنے لگی ہے۔
سیاسی جلیبیوں کا معاملہ بالکل ویسا ہی ہے جو پشاور میں مرغی کے ''پانچوں'' کا ہوتا ہے، ایک تحقیق کے مطابق ان ''پانچوں'' کے شوربے میں ابھی تک ان پانچوں کے شوربے کا شوربہ چل رہا ہے جو احمد شاہ ابدالی کے لشکری یہاں سے گزرتے ہوئے کھا چکے تھے۔ ان پانچوں کے ساتھ ''گرم یخنی'' میں بھی اس مرغی کا شوربہ ابھی تک چل رہا ہے جو مہاراجہ کنشکا کے لیے حکیموں نے تجویز کی تھی لیکن بے چارا وہ شوربا نہیں پی سکا تھا کیونکہ حکیموں نے اسے دو رضائیوں میں لپیٹ کر سی لیا تھا تاکہ پسینہ آنے کے بعد مرغی کی گرم یخنی نوش فرمائے۔
ظاہر ہے کہ ان پانچوں اور مرغی کی گرم یخنی کے ہم عصر ''خمیر'' سے جو سیاسی ''جلیبییاں'' پکائی جارہی ہیں، ان کے کھانے پر ویسے ہی فاسد خیالات آسکتے ہیں جیسے آج کل ہمارے دل و دماغ میں آرہے ہیں کیونکہ دنیا کے ''ہر پیتھک'' کے ماہر حکماء کا کہنا ہے کہ ''ڈراؤنے خواب'' پیٹ کی خرابی کا نتیجہ ہوتے ہیں اور ظاہر ہے کہ ہمارے فاسد خیالات بھی ''دماغ کا پیٹ'' خراب ہونے ہی کا نتیجہ ہوں گے ورنہ ''پیٹ کی خرابی'' دور کرنے کے لیے تو علامہ بریانی عرف برڈ فلو کا مشہور خاندانی چورن ہماری دسترس میں ہے۔
اگرچہ اب وہ بھی ترقی کر کے نہ جانے ''کیا کیا ہضم'' چورن ہو چکا ہے اور صرف بڑے لوگوں، سابق و موجودہ وزیروں، قوم کے منتخب نمایندوں، ٹھیکیداروں اور کرپشن کا ''خاتمہ'' کرنے والوں کے لیے مخصوص ہو چکا ہے لیکن علامہ اتنے بے درد بھی نہیں کہ پڑوسی کو ایک دو چٹکیاں مفت عطا فرما دیں، لیکن اس میں پرابلم یہ ہے کہ علامہ کے چورن کا تعلق انسان کے پیٹ کی بدہضمی سے ہے یعنی اگر کوئی اپنے منہ سے کچھ بھی کھا لے، لکڑ پتھر سیمنٹ سریا فنڈ بجٹ قرضہ وغیرہ تو اس کو تیر بہدف ہے۔
جب کہ یہاں ہمارے دماغ کا پیٹ خراب ہے اور منہ سے کچھ انٹ شنٹ کھانے کے باعث نہیں بلکہ ''کانوں'' سے باتدبیران ملک و قوم کی سیاسی جلیبیاں کھا کھا کر خراب ہوا ہے اور اس کا علاج علامہ تو کیا حکیم لقمان بھی کیا آج کے اشتہاری حکیمی نسخوں، دوا خانوں اور ہر بل خانوں کے پاس بھی نہیں ہے۔
مجھے وہ دل کا روگ ہے کہ جس کا کوئی علاج نہیں
''علاج ہے'' مگر اس ملک میں رواج نہیں
ذرا اپنے دل بلکہ اپنے سر پر ہاتھ رکھیے جس کے اندر اگرچہ کوئی دماغ نہیں ہے لیکن پھر بھی ایک سر ایک ہندسہ اور ایک ووٹ تو ہے کہ یہ جو ہمارے اردگرد ہو رہا ہے اور جس کے لیے ہمارے ''باتدبیر'' جس قسم کی تدبیری جلیبیاں بنا رہے ہیں ، اس سے دماغ کا پیٹ تو کیا سارا نظام ہاضمہ تلپٹ ہو گا یا نہیں، مثال کے طور پر یہ تدبیر لے لیجیے کہ ہر استاد کو اسکول میں پڑھانے جاتے وقت اپنے ساتھ اسلحہ ضرور رکھنا چاہیے ۔
کیا خوب صورت منظر ہو گا کہ ٹیچر کھڑا ہو کر پڑھا رہا ہے یا بلیک بورڈ پر لکھ رہا ہے اور اس نے کاندھے سے پستول یا کلاشن کوف یا دو نالی بندوق بھی لٹکا رکھی ہے، اس منظر پر ہم تو کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے لیکن باتدبیروں میں سے پوچھنا پڑے گا لیکن آپ تو کہتے ہیں کہ ہمیں قوم کے ہاتھ سے اسلحہ چھین کر قلم دینا ہے لیکن یہ کیا ہے آپ تو قلم چھین کر پھر اسلحہ تھما رہے ہیں ۔کہاں گیا وہ
''قلم گوئد کہ من شاہ جہانم''
آپ ہی بتایئے کہ ایسی حالت میں ہمارے دماغ کا پیٹ خراب نہیں ہو گا تو اور کیا ہو گا اور فاسد خیال نہیں آئیں گے تو کیا آئے گا، بتایئے بتایئے ہم آپ سے پوچھ رہے ہیں کوئی جواب ہے، آپ کے پاس؟ اور پھر اس کی کیا ضمانت ہے کہ آپ کے کاندھے پر بندوق رکھ کر ''وہ'' کرنے والے وہ نہیں کریں گے جو کرتے آئے ہیں، کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے ،کیا وہ اندھے ہیں جو سیدھے سیدھے بندوق کے سامنے چھاتی کھول کر آئیں گے کہ لو یہ ہم ہیں گولی مار کر ہم سے اپنی حفاظت کر لو۔
دوست غم خواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا؟
زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ آئیں گے کیا
یہ سارے حفاظتی انتظامات، یہ کانٹا تاریں، یہ بندوق، یہ سیمنٹ کی سیلبیں، یہ حفاظتی خول، یہ رکاوٹیں سب کچھ پہلے بھی تھا، یہ تلاشیاں یہ ہر سڑک پر ہرے ڈیٹکٹر یہ آلے یہ حربے یہ وسیلے یہ ذریعے تو ہمیشہ سے رہے ہیں لیکن پھر بھی کرنے والے کر جاتے ہیں، خودکش بھی جہاں چاہیں پہنچ جاتے ہیں ، اسلحہ بارود بھی جہاں چاہتے ہیں پہنچا دیتے ہیں اور جو چاہتے ہیں وہ کر بھی دیتے ہیں حالانکہ بظاہر ایسا ہونا تو نہیں چاہیے کیونکہ بظاہر تو ہر سڑک پر ہر طرح کی چھلنیاں لگی ہوئی ہیں۔
عوام کے خون پسینے سے کیا کچھ حفاظتی آلات اور ایجادات ڈھیروں ڈھیر پڑے ہوئے ہیں ، حساس سڑکوں کو دیواریں تعمیر کر کے ہمیشہ کے لیے بند کیا جا چکا ہے، قوم کی ''قیمتی متاعوں'' کے دفاتر گھر اور راستے محفوظ کیے جا چکے ہیں۔ شہر میں آنے جانے کے سارے راستوں پر ''حفاظتی'' انتظامات ہیں لیکن پھر بھی وہ کر جاتے ہیں جو کرنا چاہتے اور جہاں کرنا چاہتے ہیں، تو کیا اب اساتذہ کو مسلح کرنے کے بعد وہ رک جائیں گے اور کیا بندوق بردار استاد بچوں کو یہ پڑھا سکے گا کہ دیکھو قلم میں بندوق سے زیادہ طاقت ہے۔
ویسے اب جب یہ شروع ہو چکا ہے تو ختم تو نہیں ہو گا تو کیوں نہ ایک اور اچھی سی تدبیر اختیار کی جائے، پیسے کی کمی تو ہے نہیں کیونکہ ہم چلتے پھرتے اٹھارہ کروڑ تیل کے کنوؤں کے مالک ہیں اس لیے کچھ ایسا کیا جائے کہ کسی باہر کے ملک سے کوئی ایسی چیز بنوائی جائے جو ٹو ان ون ہو، یعنی بیک وقت قلم بھی ہو اور بندوق بھی، لکھ بھی سکتا ہو اور فائر بھی کر سکتا ہو مثلاً ایسا کوئی پستول ایجاد کرنا زیادہ مشکل نہیں ہے جس کی نالی قلم جیسی ہو یا اس میں قلم کو فٹ کیا جا سکتا ہو۔
فائدہ اس کا یہ ہو گا کہ استاد اسے پکڑ کر بلیک بورڈ پر لکھ رہا ہو گا اور اگر اچانک ضرورت پڑ جائے تو ایک بٹن دبا کر اس سے دھنا دھن گولیاں بھی برسانا شروع کر دے گا، اور اس میں کوئی خاص مشکل بھی پیش نہیں آئے گی صرف اتنا کرنا ہو گا کہ اٹھارہ کروڑ تیل کے کنوؤں سے کچھ زیادہ تیل نکالا جائے گا کیونکہ اس آلے کو بنوانے اور یہاں تک پہنچانے والے لوگ بھی تو چولی کے پیچھے ایک عدد پیٹ اور چنری کے نیچے ایک جیب رکھتے ہیں، اور ایسا ایک دن ضرورکرنا پڑے گا کیونکہ جب تک ایک تیز رفتار انتہائی پریشر سے پانی خارج کرنے والے پائپ کو اس طرف سے بند کرنے کی کوشش ہوتی رہے گی۔
ایسا ہی ہوتا رہے گا۔ اس طریقے سے آپ پائپ کو کتنا بھی بند کیوں نہ کریں، وہ ان سب کو بہا کر لے جائے گا کیونکہ پانی بند کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ موٹر کا سوئچ بند کر دیا جائے۔ اب سوئچ کہاں ہے، اسے کیسے بند کیا جانا چاہیے، یہ تو باتدبیروں اور سیاسی جلیبیاں بنانے والے حلوائیوں کا کام ہے، ہمارا تو دماغ کا پیٹ ہی خراب ہے۔