سیاست زدہ پولیس

پولیس کا سیاست میں ملوث ہونا صرف سندھ تک محدود نہیں ہے بلکہ پورے ملک کی پولیس ہی سیاست زدہ ہو چکی ہے

ISLAMABAD:
وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت کراچی میں منعقدہ سندھ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں جو اہم فیصلے کیے گئے ہیں ان میں سب سے اہم فیصلہ یہ سامنے آیا ہے کہ کراچی پولیس میں سیاسی اثر و رسوخ ختم کیا جائے گا۔ اجلاس کے چھٹے نکتے کے مطابق یہ فیصلہ پہلے بھی مختلف سطحوں پر ہو چکا ہے مگر عمل کبھی نہیں ہوا۔

اس فیصلے کے متعلق پوچھنے پر سندھ کے وزیر اطلاعات نے لا علمی کا اظہارکیا۔ جب کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کراچی کے اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ کراچی میں قیام امن کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے اور کراچی میں جاری آپریشن کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ پولیس فورس کو غیر سیاسی بنایا جائے اس کے لیے پولیس میں مداخلت بند ہونی چاہیے اور تمام مجرموں کے خلاف کسی بھی امتیاز سے بالاتر ہو کر ہی کارروائی کی جائے۔

آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے اپنے ایک ٹوئیٹ کے ذریعے کہا ہے کہ سندھ میں اب فیصلے اپیکس کمیٹی کی منظوری سے ہوں گے اور سندھ میں پولیس میں تبادلے اور تقرریاں میرٹ پر ہوں گی۔

اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ خاموش رہے اور دو گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والے اجلاس میں وزیراعظم کے مخاطب کرنے پر صرف یہ کہا کہ جب بڑے موجود ہیں تو وہ کیا بولیں، اجلاس میں وزیر اعظم، آرمی چیف اور آصف علی زرداری جیسے بڑے موجود ہوں تو قائم علی شاہ کیا بول سکتے تھے اسی لیے آپریشن کے کپتان خاموش ہی رہے۔

اب یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ ملک کی پولیس عشروں سے سیاست زدہ چلی آ رہی ہے اور اس کو سیاست میں ملوث بھی ہمیشہ اب تک کی تمام حکومتوں اور سیاست دانوں نے کیا ہے اور سیاست زدہ پولیس اب اس قدر نا اہل، ناکارہ، کرپٹ اور سیاسی ہو چکی ہے کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف خاموش نہ رہ سکے اور پولیس کے متعلق وہ سب کچھ کہنے پر مجبور ہو گئے جو آج تک کسی آرمی چیف نے نہ کہا تھا۔

پولیس کا سیاست میں ملوث ہونا صرف سندھ تک محدود نہیں ہے بلکہ پورے ملک کی پولیس ہی سیاست زدہ ہو چکی ہے اور یہ ضرور ہے کہ اس سلسلے میں سندھ پولیس سب سے آگے ہے اور وہ ہر خرابی و خامی کا اپنا ہی سابقہ ریکارڈ توڑ چکی ہے۔

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان دعوے کرتے آ رہے ہیں کہ کے پی کے میں تبدیلی آ چکی ہے اور وہاں پولیس کو غیر سیاسی بنا دیا گیا ہے۔ عمران خان کے دعوے کی حقیقت تو کے پی کے کے عوام ہی جانتے ہیں مگر وہاں کی اپوزیشن اس حکومتی دعوے سے متفق نہیں ہے البتہ عوامی سطح پر پولیس میں کچھ تبدیلی ضرور آئی ہے۔

سیاست زدہ پولیس یوں تو ہر سیاسی اور فوجی حکومتوں کی ضرورت رہی ہے اور ملک پولیس اسٹیٹ اکثر بنا رہا ہے مگر اب صورت حال زیادہ تشویشناک ہو چکی ہے۔


پولیس کو سیاست میں ملوث خود ہمارے سیاست دانوں نے کیا ہے یہ سیاست دان ہی ہیں جو فوجی حکمرانوں کے ساتھ رہے۔ اپنے سیاسی مفاد کے لیے انھوں نے اپنی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے سے کبھی گریز نہیں کیا ان سیاست دانوں نے سیاسی حکومتوں میں ہمیشہ پولیس کو اپنے سے ملا کر رکھنے کی کوشش کی ملک کے تمام صوبوں میں وزرائے اعلیٰ کی ہمیشہ کوشش رہی کہ وزارت داخلہ ان ہی کے پاس رہے اور کسی اور کو وزیر داخلہ نہ بنایا جائے وزارت اعلیٰ کے بعد سب سے اہم محکمہ وزارت داخلہ کا ہے جس کے ذریعے صوبے کے تمام ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی ہی نہیں بلکہ تمام اعلیٰ پولیس افسران اور محکمہ داخلہ متعلقہ صوبے کے وزیر داخلہ کے کنٹرول میں ہوتا ہے۔

جس صوبے کا وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا اور رانا ثناء اﷲ جیسا مضبوط اور با اختیار ہو وہاں حالات بھی ضرور خراب ہوتے ہیں، ذوالفقار مرزا نے تین لاکھ اسلحہ لائسنس صرف لیاری میں اپنے حامیوں کو دیکر کراچی کو بد امنی میں پھنسایا تو پنجاب میں رانا ثناء اﷲ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن میں پولیس سے بے گناہوں کو مروا کر اپنی ہی حکومت کو جس مشکل میں ڈالا تھا اس کی سزا پورا ملک بھگت چکا ہے۔

حکومت کے حامی ایک سابق آئی جی پولیس نے راقم کے سامنے اعتراف کیا کہ رانا ثناء اﷲ نے خوامخواہ پولیس کو ماڈل ٹاؤن میں استعمال کر کے علامہ طاہر القادری کو مشتعل کر کے حکومت کے خلاف لانگ مارچ پر مجبور کرایا تھا۔

پورے ملک میں یہ حال ہے کہ ہر رکن اسمبلی یہ چاہتا ہے کہ اس کے حلقے یا ضلعے کا ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی اس کا پسندیدہ ہو اور اس کے کہنے پر چلے، اس کے علاقے کا ہر تھانیدار اور پٹواری اس کے ذاتی ملازم کی طرح اس کا فرمانبردار ہو اور صرف اسی کے حکم کی تعمیل میں اس کے مخالفین پر جھوٹے مقدمے ڈالے اور انھیں گرفتار کرے۔

پولیس میں شولڈر پروموشن ایک ایسا سیاسی ہتھیار ہے جس کے چکر میں آ کر پولیس افسر غیر قانونی ترقی سے اعلیٰ افسر تو بن جاتا ہے مگر بعد میں اسے اوپر کا ہر غیر قانونی حکم بھی ماننا پڑتا ہے جس کے نتیجے میں اسے بے گناہوں کو جعلی مقابلوں میں مروانا بھی پڑتا ہے اور رشوت سے حصہ بھی دینا پڑتا ہے۔

پولیس میں بھرتیاں صرف کہنے کی حد تک میرٹ پر ہوتی ہیں مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ پہلے صرف رشوت پر بھرتیاں ہوتی تھیں مگر اب سیاسی سفارش بھی بہت ہی ضروری ہے اور یہی وجہ ہے کہ ملک بھر میں پولیس کے سیاسی ہو جانے کی وجہ سے یہ محکمہ نااہل ہو چکا ہے اور پولیس اہلکاروں کا اولین مقصد عوام کی خدمت نہیں بلکہ عوام پر حکومت کرنا، حصول رشوت کے لیے ہر غیرقانونی کام خواہ وہ قتل بھی ہو، جعلی مقابلے دکھا کر بے گناہوں کو مار کے ترقیاں لینا رہ گیا ہے۔

پولیس میں سیاسی سفارش کے بغیر ترقی کا تصور ہی ختم ہو چکا ہے پولیس افسران اور سیاستدان ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم بن چکے ہیں۔ لاکھوں روپے رشوت سے پولیس اہلکار بھرتی ہوتا ہے سب انسپکٹر اور انسپکٹروں کو منہ مانگی ڈیمانڈ پر تھانے خرید کر ایس ایچ او بننا پڑتا ہے اور ان کے اوپر کے اعلیٰ افسروں کی تو بات ہی کیا وہ سیاسی سفارش سے اعلیٰ عہدے لیتے ہیں اور حکمرانوں کے کہنے پر سب کچھ کر گزرتے ہیں۔

آج پولیس میں سیاسی سفارشوں پر بھرتی ہونے اور سیاستدانوں خصوصاً حکمرانوں کو خوش کر کے پسندیدہ تقرر کرانے والوں کی بھرمار ہے۔ وزیروں اور ارکان اسمبلی کے عزیز پولیس کے اعلیٰ عہدوں پر موجود ہیں اور ان کے سیاسی سرپرست اپنی سیاسی طاقت سے ان پر کوئی آنچ نہیں آنے دیتے۔

پولیس سب انسپکٹر لاکھوں، ڈی ایس پی سے ایس ایس پی کروڑوں اور اوپر والے اربوں روپے کی ملکیت کے مالک ہونے کے ساتھ اکثر غیر ملکی شہریت کے حامل ہیں۔ متعدد کے خاندان اور سرمایا بیرون ملک ہے اور انھیں تحفظ دینے والے سیاستدان نہایت بااثر ہیں جو پولیس کو غیر سیاسی بنا کر اپنی سیاست کمزور نہیں ہونے دیں گے۔ ایسی صورتحال میں آرمی چیف غیر سیاسی پولیس کی خواہش ہی کر سکتے ہیں اور ان کی مخلصانہ خواہش کو حکمران سیاسی جماعتیں پورا ہونے دیں گی یہ خواب تو ہو سکتا ہے عملاً ناممکن نظر آ رہا ہے۔
Load Next Story