حصص مارکیٹ میں 33900 پوائنٹس کی حد بھی گرگئی
کاروباری حجم پیر کی نسبت2.94 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر16 کروڑ 69 لاکھ49 ہزار 390 حصص کے سودے ہوئے
کاروباری حجم پیر کی نسبت2.94 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر16 کروڑ 69 لاکھ49 ہزار 390 حصص کے سودے ہوئے فوٹو: آن لائن/فائل
خام تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کے علاوہ دیگر کموڈٹیز کی قیمتوں میں کمی اور حصص کی تجارت کے غیرواضح سمت کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں منگل کو دوسرے دن بھی اتارچڑھاؤ کے بعد مندی کے بادل چھائے رہے جس سے انڈیکس کی 33900 پوائنٹس کی حد بھی گرگئی، 67.81 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے مزید30 ارب63 کروڑ64 لاکھ98 ہزار502 روپے ڈوب گئے۔
ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی سطح پر خام تیل ودیگر کموڈٹیز کی قیمتوں میں کمی سے مقامی مارکیٹ بھی دباؤ کی زد میں آگئی ہے جبکہ کیپٹل مارکیٹ میں بھی آئل ودیگر متعلقہ شعبوں کی کمپنیوں کے حصص میں پرافٹ ٹیکنگ کا رحجان غالب رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ بعض لسٹڈ کمپنیوں کے اچھے مالیاتی نتائج کے بھی مثبت اثرات حصص کی تجارت پر مرتب نہ ہوسکے۔
ٹریڈنگ کے دوران مقامی کمپنیوں، میوچل فنڈز اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر44 لاکھ56 ہزار506 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کے نتیجے میں ایک موقع پر97.52 پوائنٹس کی تیزی سے انڈیکس کی34000 پوائنٹس کی حد بحال ہوگئی تھی لیکن اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے13 لاکھ 96 ہزار613 ڈالر، بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے5 لاکھ13 ہزار667 ڈالر، این بی ایف سیز کی جانب سے24 لاکھ41 ہزار451 ڈالراور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے1 لاکھ4 ہزار776 ڈالر مالیت کے سرمائے کے انخلا نے انڈیکس کی مذکورہ حد کے استحکام میں مزاحمت پیدا کی اور مارکیٹ مندی سے دوچار ہوئی اور کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 31.24 پوائنٹس کی کمی سے33895.46 پوائنٹس اورکے ایم آئی 30 انڈیکس131.64 پوائنٹس کی کمی سے54336.11 پوائنٹس ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 20.49 پوائنٹس کے اضافے سے 22147.35 ہوگیا۔
کاروباری حجم پیر کی نسبت2.94 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر16 کروڑ 69 لاکھ49 ہزار 390 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار376 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 102 کے بھاؤ میں اضافہ، 255 کے داموں میں کمی اور 19 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی سطح پر خام تیل ودیگر کموڈٹیز کی قیمتوں میں کمی سے مقامی مارکیٹ بھی دباؤ کی زد میں آگئی ہے جبکہ کیپٹل مارکیٹ میں بھی آئل ودیگر متعلقہ شعبوں کی کمپنیوں کے حصص میں پرافٹ ٹیکنگ کا رحجان غالب رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ بعض لسٹڈ کمپنیوں کے اچھے مالیاتی نتائج کے بھی مثبت اثرات حصص کی تجارت پر مرتب نہ ہوسکے۔
ٹریڈنگ کے دوران مقامی کمپنیوں، میوچل فنڈز اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر44 لاکھ56 ہزار506 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کے نتیجے میں ایک موقع پر97.52 پوائنٹس کی تیزی سے انڈیکس کی34000 پوائنٹس کی حد بحال ہوگئی تھی لیکن اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے13 لاکھ 96 ہزار613 ڈالر، بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے5 لاکھ13 ہزار667 ڈالر، این بی ایف سیز کی جانب سے24 لاکھ41 ہزار451 ڈالراور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے1 لاکھ4 ہزار776 ڈالر مالیت کے سرمائے کے انخلا نے انڈیکس کی مذکورہ حد کے استحکام میں مزاحمت پیدا کی اور مارکیٹ مندی سے دوچار ہوئی اور کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 31.24 پوائنٹس کی کمی سے33895.46 پوائنٹس اورکے ایم آئی 30 انڈیکس131.64 پوائنٹس کی کمی سے54336.11 پوائنٹس ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 20.49 پوائنٹس کے اضافے سے 22147.35 ہوگیا۔
کاروباری حجم پیر کی نسبت2.94 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر16 کروڑ 69 لاکھ49 ہزار 390 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار376 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 102 کے بھاؤ میں اضافہ، 255 کے داموں میں کمی اور 19 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔