کراچی اسٹاک مارکیٹ میں فروخت پر دباؤ سے 50 پوائنٹس گرگئے

انڈیکس 33895 ہوگیا، 59 فیصد حصص کی قیمتیں نیچے، انویسٹرزکے مزید 10 ارب ڈوب گئے

کاروبار368 کمپنیوں تک محدود رہا، 131 کے بھاؤ میں اضافہ، 218 فرمز کے داموں میں کمی۔ فوٹو: پی پی آئی/فائل

مستقبل کے سودوں کے تصفیوں میں فروخت کا حجم بڑھنے اور اسپاٹ مارکیٹ میں آئل، بینکنگ، فرٹیلائزر سیکٹر میں فروخت کی شدت کی وجہ سے کراچی اسٹاک ایکس چینج میں اتارچڑھاؤ کے بعد مندی کے اثرات غالب رہے۔

مندی کے باعث 59.23 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے مزید10 ارب64 کروڑ48 لاکھ59 ہزار روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ رول اوور ویک کی وجہ سے ریگولراسپاٹ مارکیٹ میں سرمایہ کاری دلچسپی انتہائی محدود ہوگئی ہے جس کی وجہ سے کاروباری حجم ومالیت میں بھی کمی واقع ہورہی ہے جبکہ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اتارچڑھاؤ کے سبب مقامی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے حصص میں بھی فروخت کا حجم بڑھ گیا ہے۔


ٹریڈنگ کے دوران مقامی کمپنیوں اور میوچل فنڈز کی جانب سے مجموعی طور پر51 لاکھ76 ہزار940 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری سے ایک موقع پر122 پوائنٹس کی تیزی سے انڈیکس ایک بارپھر34 ہزار پوائنٹس کی حد عبور کرگئی تھی لیکن تیسرے کاروباری سیشن میں بھی مزاحمت کے سبب انڈیکس کی مزکورہ حد برقرار نہ رہ سکی کیونکہ کاروباری دورانیے میں غیرملکیوں کی جانب سے6 لاکھ 22 ہزار 517 ڈالر، بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے5 لاکھ15 ہزارڈالر، این بی ایف سیز کی جانب سے3 لاکھ 98 ہزار613 ڈالر، انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے 27 لاکھ4 ہزار864 ڈالراور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے9 لاکھ35 ہزار944 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا جس سے مارکیٹ کا گراف تنزلی کی جانب گامزن ہوا، نتیجتا کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 50.16 پوائنٹس کی کمی سے 33895.46 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 36.46 پوائنٹس کی کمی سے 22110.89 اور کے ایم آئی30 انڈیکس25.79 پوائنٹس کی کمی سے 54310.32 ہوگیا۔

کاروباری حجم منگل کی نسبت 15.58 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر14 کروڑ9 لاکھ25 ہزار520 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار368 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں131 کے بھاؤ میں اضافہ 218 کے داموں میں کمی اور19 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
Load Next Story