ورلڈکپ کے ابتدائی میچز میں ہی کئی ریکارڈز چکنا چور
ابتدائی13میچزمیں سے11 کی ایک نہ ایک اننگز میں 300 یا زیادہ رنز بنے جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔
بھارت نے جنوبی افریقہ کیخلاف ہارنے کی روایت توڑ دی، میک کولم کی تیزترین ففٹی۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل
آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں جاری کرکٹ ورلڈ کپ کے ابتدائی میچز میں ہی کئی نئے عالمی ریکارڈز قائم ہوچکے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ورلڈ کپ کے 14 ویں ایڈیشن کو شروع ہوئے ابھی چند ہی ہفتے ہوئے لیکن کئی ایسے عالمی ریکارڈز بن چکے جو مبصرین کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوں گے۔ ابتدائی13میچزمیں سے11 کی ایک نہ ایک اننگز میں 300 یا زیادہ رنز بنے جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔ ابتدائی پانچ میچز میں سے ہر میں پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیم نے 300 یا زیادہ رنز بنائے۔ اب تک مخالف ٹیم کو سب سے بڑا ہدف دینے والی ٹیموں میں ویسٹ انڈیز 372 رنز کے ساتھ پہلے، آسٹریلیا342دوسرے اور جنوبی افریقہ 339تیسرے نمبر پر ہے۔
ویسٹ انڈیز کے زمبابوے کیخلاف 372 رنز میں مرکزی کردار کرس گیل کا رہا، جنھوں نے نہ صرف ورلڈ کپ کی پہلی ڈبل سنچری بنائی بلکہ سموئلز کے ساتھ دوسری وکٹ کی شراکت میں ریکارڈ 372 رنز بھی جوڑے، یہ نہ صرف ورلڈ کپ بلکہ ایک روزہ کرکٹ کی سب سے بڑی شراکت ہے، گیل نے اپنی اس اننگز میں16 چھکے لگائے جو ورلڈکپ کا ایک ریکارڈ ہے۔ انھوں نے ایک روزہ کرکٹ میں بھارت کے روہت شرما اور جنوبی افریقہ کے اے بی ڈی ویلیئرز کے اننگز میں سب سے زیادہ چھکوں کا ریکارڈ بھی برابر کیا۔
نیوزی لینڈ کے بیٹسمین برینڈن میک کولم بھی ریکارڈ بنانے میں کسی سے پیچھے نہیں رہے، انھوں 18 گیندوں پر ایونٹ کی تیز ترین نصف سنچری بنائی، یہ ریکارڈ اس وقت ٹوٹتے ٹوٹتے ہی رہ گیا تھا جب پاکستان کیخلاف ویسٹ انڈیز کے آندرے رسل نے 13 گیندوں پر 42 کی اننگز کھیلی۔ بھارت ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی بار جنوبی افریقہ کیخلاف فتح حاصل کرنے میں سرخرو ہوا، بولنگ کے شعبے میں نیوزی لینڈ کے ٹم ساؤتھی نے انگلینڈ کے خلاف 7 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، وہ یہ کارنامہ سرانجام دینے والے پہلے کیوی کھلاڑی بنے۔
تفصیلات کے مطابق ورلڈ کپ کے 14 ویں ایڈیشن کو شروع ہوئے ابھی چند ہی ہفتے ہوئے لیکن کئی ایسے عالمی ریکارڈز بن چکے جو مبصرین کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوں گے۔ ابتدائی13میچزمیں سے11 کی ایک نہ ایک اننگز میں 300 یا زیادہ رنز بنے جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔ ابتدائی پانچ میچز میں سے ہر میں پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیم نے 300 یا زیادہ رنز بنائے۔ اب تک مخالف ٹیم کو سب سے بڑا ہدف دینے والی ٹیموں میں ویسٹ انڈیز 372 رنز کے ساتھ پہلے، آسٹریلیا342دوسرے اور جنوبی افریقہ 339تیسرے نمبر پر ہے۔
ویسٹ انڈیز کے زمبابوے کیخلاف 372 رنز میں مرکزی کردار کرس گیل کا رہا، جنھوں نے نہ صرف ورلڈ کپ کی پہلی ڈبل سنچری بنائی بلکہ سموئلز کے ساتھ دوسری وکٹ کی شراکت میں ریکارڈ 372 رنز بھی جوڑے، یہ نہ صرف ورلڈ کپ بلکہ ایک روزہ کرکٹ کی سب سے بڑی شراکت ہے، گیل نے اپنی اس اننگز میں16 چھکے لگائے جو ورلڈکپ کا ایک ریکارڈ ہے۔ انھوں نے ایک روزہ کرکٹ میں بھارت کے روہت شرما اور جنوبی افریقہ کے اے بی ڈی ویلیئرز کے اننگز میں سب سے زیادہ چھکوں کا ریکارڈ بھی برابر کیا۔
نیوزی لینڈ کے بیٹسمین برینڈن میک کولم بھی ریکارڈ بنانے میں کسی سے پیچھے نہیں رہے، انھوں 18 گیندوں پر ایونٹ کی تیز ترین نصف سنچری بنائی، یہ ریکارڈ اس وقت ٹوٹتے ٹوٹتے ہی رہ گیا تھا جب پاکستان کیخلاف ویسٹ انڈیز کے آندرے رسل نے 13 گیندوں پر 42 کی اننگز کھیلی۔ بھارت ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی بار جنوبی افریقہ کیخلاف فتح حاصل کرنے میں سرخرو ہوا، بولنگ کے شعبے میں نیوزی لینڈ کے ٹم ساؤتھی نے انگلینڈ کے خلاف 7 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، وہ یہ کارنامہ سرانجام دینے والے پہلے کیوی کھلاڑی بنے۔