دہشت گردی لانگ ٹرم چیلنج ہے
سندھ ، کوئٹہ سمیت کراچی کے مختلف مقامات پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔
امید کی جانی چاہیے کہ دہشت گرد ایک ایک کرکے ضرور کیفرکردار کو پہنچ جائیں گے مگر اس کے لیے سیکیورٹی حکام آپریشن جاری رکھیں۔ فوٹو : فائل
سندھ ، کوئٹہ سمیت کراچی کے مختلف مقامات پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی جاری ہے اور ایکشن پلان کے تحت جرائم پیشہ عناصرکے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے ، یہ حقیقت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ طویل المدت ہے اور اس میں تمام صوبائی حکومتوں کو اشتراک عمل اور موثر بین الصوبائی انٹیلی جنس شیئرنگ کے ذریعے دہشت گردوں کے نیٹ ورک اور ان کے خفیہ ٹھکانوں کی بیخ کنی کرنا ہوگی، کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار نے کہا ہے کہ کراچی آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، ایک تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں انھوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی ایک لانگ ٹرم چیلنج ہے۔
جس کا مقابلہ کر رہے ہیں ، لیاری ان کا ٹیسٹ کیس ہے جس کے گینگ وار سرغنہ عذیر بلوچ کو دبئی سے لانے کے لیے پولیس حکام کی ٹیم قانون جنگ لڑ رہی ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ پولیس ، ایف سی ، لیویز ، اور رینجرز کو بلوچستان ، خیبر پختونخوا سمیت سندھ اور بلوچستان سے دہشت گردوں کے مابین رابطہ توڑنے اور مجرمانہ گینگز کو غیر موثر کرنے کے لیے سموں کی تصدیق اور بلاکیڈ سے مدد لینی چاہیے۔
مزید چابکدست دستوں کی تعیناتی پر توجہ دی جائے اور ان راستوں کی مکمل ناکہ بندی ہونی چاہیے جو دہشت گردوں کے exit کنٹرول کو بے نتیجہ بناتے ہیں، کیونکہ انتہا پسندوں کے گینگ لیڈر اگرچہ مفرور ہیں تاہم ان کے تیسرے چھوتے نمبر کی جرائم پیشہ اور دہشت گرد ٹولیاں بدستور بدامنی میں مصروف ہیں، ادھر سبی کے قریب لہڑی کے علاقے میں سیکیورٹی فورسزاور دہشت گردوں کے درمیان مسلح تصادم میں 4 سیکیورٹی فورسز اہلکار زخمی جب کہ 2حملہ آور ہلاک ہوگئے، 8کو گرفتار کر کے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرلیا گیا، فائرنگ کے دیگر واقعات میں 6افراد جاں بحق 9 زخمی ہو گئے، کراچی میں فائرنگ اور تشدد کے واقعات میں روز ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔
گزشتہ روز لیاری کا علاقہ بم دھماکوں سے گونجتا رہا، تاہم یہ اطلاع اطمینان بخش ہے کہ ملک کے بیشتر شہروں میں پولیس اور حساس اداروں کے کامیاب سرچ آپریشن کے دوران مبینہ دہشتگردوں، غیر قانونی مقیم افغان باشندوں سمیت مزید درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا جب کہ خیبر پختونخوا پولیس نے صوبہ بھر میں جرائم پیشہ اور ملک دشمن عناصر کے خلاف جاری سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن کے دوران مختلف کاروائیوں میں غیر قانونی طور پر مقیم46افغان باشندوں اور257مشتبہ افراد کو گرفتار کرکے ان سے بھاری مقدار میں اسلحہ و ہتھیار برآمد کر لیا ہے ۔
ایس ایس پی شکارپور نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ شکارپور سانحہ میں گرفتار مرکزی ملزم محمد خلیل عرف سکندر اصغر کے مطابق وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ملکر دہشتگردی کی دیگر وارداتیں کرتا رہا ہے، جب کہ سال 2010 میں 10 محرم الحرام کو سابق ایم این اے ڈاکٹر ابراہیم جتوئی پر ہونیوالے خود کش حملہ آور کی شناخت عبدالحکیم عرف ابو بکر کے نام سے کی جسکا اصل نام پیر بخش ولد فرید خان پندرانی ہے۔
امید کی جانی چاہیے کہ دہشت گرد ایک ایک کرکے ضرور کیفرکردار کو پہنچ جائیں گے مگر اس کے لیے سیکیورٹی حکام آپریشن جاری رکھیں،قیام امن ان ہی مربوط کارروائیوں سے مشروط ہے۔
جس کا مقابلہ کر رہے ہیں ، لیاری ان کا ٹیسٹ کیس ہے جس کے گینگ وار سرغنہ عذیر بلوچ کو دبئی سے لانے کے لیے پولیس حکام کی ٹیم قانون جنگ لڑ رہی ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ پولیس ، ایف سی ، لیویز ، اور رینجرز کو بلوچستان ، خیبر پختونخوا سمیت سندھ اور بلوچستان سے دہشت گردوں کے مابین رابطہ توڑنے اور مجرمانہ گینگز کو غیر موثر کرنے کے لیے سموں کی تصدیق اور بلاکیڈ سے مدد لینی چاہیے۔
مزید چابکدست دستوں کی تعیناتی پر توجہ دی جائے اور ان راستوں کی مکمل ناکہ بندی ہونی چاہیے جو دہشت گردوں کے exit کنٹرول کو بے نتیجہ بناتے ہیں، کیونکہ انتہا پسندوں کے گینگ لیڈر اگرچہ مفرور ہیں تاہم ان کے تیسرے چھوتے نمبر کی جرائم پیشہ اور دہشت گرد ٹولیاں بدستور بدامنی میں مصروف ہیں، ادھر سبی کے قریب لہڑی کے علاقے میں سیکیورٹی فورسزاور دہشت گردوں کے درمیان مسلح تصادم میں 4 سیکیورٹی فورسز اہلکار زخمی جب کہ 2حملہ آور ہلاک ہوگئے، 8کو گرفتار کر کے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرلیا گیا، فائرنگ کے دیگر واقعات میں 6افراد جاں بحق 9 زخمی ہو گئے، کراچی میں فائرنگ اور تشدد کے واقعات میں روز ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔
گزشتہ روز لیاری کا علاقہ بم دھماکوں سے گونجتا رہا، تاہم یہ اطلاع اطمینان بخش ہے کہ ملک کے بیشتر شہروں میں پولیس اور حساس اداروں کے کامیاب سرچ آپریشن کے دوران مبینہ دہشتگردوں، غیر قانونی مقیم افغان باشندوں سمیت مزید درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا جب کہ خیبر پختونخوا پولیس نے صوبہ بھر میں جرائم پیشہ اور ملک دشمن عناصر کے خلاف جاری سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن کے دوران مختلف کاروائیوں میں غیر قانونی طور پر مقیم46افغان باشندوں اور257مشتبہ افراد کو گرفتار کرکے ان سے بھاری مقدار میں اسلحہ و ہتھیار برآمد کر لیا ہے ۔
ایس ایس پی شکارپور نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ شکارپور سانحہ میں گرفتار مرکزی ملزم محمد خلیل عرف سکندر اصغر کے مطابق وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ملکر دہشتگردی کی دیگر وارداتیں کرتا رہا ہے، جب کہ سال 2010 میں 10 محرم الحرام کو سابق ایم این اے ڈاکٹر ابراہیم جتوئی پر ہونیوالے خود کش حملہ آور کی شناخت عبدالحکیم عرف ابو بکر کے نام سے کی جسکا اصل نام پیر بخش ولد فرید خان پندرانی ہے۔
امید کی جانی چاہیے کہ دہشت گرد ایک ایک کرکے ضرور کیفرکردار کو پہنچ جائیں گے مگر اس کے لیے سیکیورٹی حکام آپریشن جاری رکھیں،قیام امن ان ہی مربوط کارروائیوں سے مشروط ہے۔