بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ سے سرفراز کے ورلڈ کپ ڈیبیو کا راستہ ہموار
ٹور سلیکشن کمیٹی کو ناصر کی جگہ سرفراز احمد کو شامل کرنے کی تجویز دی تھی جو انھوں نے ان سنی کردی، شہریار خان
ٹور سلیکشن کمیٹی کو ناصر کی جگہ سرفراز احمد کو شامل کرنے کی تجویز دی تھی جو انھوں نے ان سنی کردی، شہریار خان۔ فوٹو: اے ایف پی
ناصرجمشید کی ناقص فارم نے سرفراز احمد کے ورلڈکپ ڈیبیو کی راہ ہموار کردی اور یو اے ای کیخلاف میچ میں اوپنر کے ساتھ وکٹ کیپر کی ذمہ داری بھی نبھائیں گے۔
تفصیلات کے مطابق بھارت اور ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں شکستوں کے بعد بمشکل زمبابوے کو زیر کرنے والی پاکستان ٹیم کی مینجمنٹ اور کھلاڑی کسی حد تک اعتماد کی بحالی کا سفر شروع کرنے میں کامیاب ہوگئے، ابھی تک کوارٹرفائنل کھیلنے کی امیدیں برقرار لیکن انتہائی کٹھن مراحل درپیش ہیں، گرین شرٹس کا رن ریٹ بہت کم ہونے کی وجہ سے یا تو اگلے تینوں میچ جیتنا ہونگے،دوسری صورت میں بات رن ریٹ اور اگر مگر پر آجائے گی۔
گرین شرٹس پیرکوبرسبین سے نیپیئر پہنچ گئے جہاں بدھ کو متحدہ عرب امارات کیخلاف میچ کھیلا جائے گا، ٹیم ذرائع کے مطابق کھلاڑیوں نے نیپیئر آمد کے بعد ہوٹل میں آرام کیا، منگل کو نیلسن پارک میں ٹریننگ شیڈول کی گئی ہے، اس سے قبل کپتان مصباح الحق پریس کانفرنس بھی کریں گے، پاکستان ٹیم پول بی میں 2پوائنٹس کے ساتھ چھٹے نمبرپر ہے، یو اے ای کیخلاف فتح پوزیشن مزید بہتر کردے گی، مصباح الحق الیون ورلڈ کپ میں اپنے پانچویں میچ میں 7مارچ کوآکلینڈ میں جنوبی افریقہ کے مقابل آئے گی۔
ٹیم مینجمنٹ کا کہنا ہے زمبابوے کیخلاف فتح سے کھلاڑیوں کا اعتماد بحال ہوا ہے اور وہ یواے ای کیخلاف بڑا اسکور کرکے رن ریٹ بھی بہتر بنانے کیلیے پرعزم ہیں۔ دوسری جانب محمد حفیظ کا خلا پرکرنے کیلیے خاص طور پر بلائے جانے والے ناصرجمشید ابھی تک ناکامی کی تصویر بنے ہوئے، ناقص فیلڈنگ نے بھی ان کی پوزیشن خاصی کمزور کردی ہے۔
یونس خان کو اوپنر کھلانے کا تجربہ ناکام ہوا، عمراکمل نے بھی وکٹوں کے پیچھے کئی اہم کیچ ڈراپ کیے جس سے حریف ٹیموں کو بڑے مجموعے ترتیب دینے کا موقع ملا، اتوار کو چیئرمین پی سی بی شہریار خان نے کہا تھا کہ ٹور سلیکشن کمیٹی کو ناصر جمشید کی جگہ وکٹ کیپر بیٹسمین سرفراز احمد کو شامل کرنے کی تجویز دی تھی جو انھوں نے ان سنی کردی، وہ اوپنر کا خلا بھی پر کرسکتے ہیں۔
دوسری جانب مصباح الحق کا برسبین میں میچ کے بعد پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ بیٹنگ مزید کمزور ہوجانے کے خدشہ سے سرفراز کو پلیئنگ الیون میں شامل کرنے کا ماحول نہیں بن رہا، اگرچہ شہریار خان کا کہنا تھا کہ وہ ٹور سلیکشن کمیٹی کے فیصلوں میں مداخلت نہیں کرتے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی سی بی کا پیغام منیجمنٹ تک پہنچ گیا ہوگا۔
سابق کرکٹرز اور عوام بھی ناصر جمشید سے گلو خلاصی کے حق میں ہیں، سرفراز احمد کو کیریئر کا پہلا ورلڈکپ میچ کھلائے جانے کا امکان روشن ہے، اسپیشلسٹ وکٹ کیپر دستیاب ہونے کی بعد عمر اکمل کی صورت میں ایک بہترین فیلڈر کی خدمات بھی کپتان کو میسر آجائیںگی، دوسری جانب بھارت کیخلاف میچ کے بعد ڈراپ کیے جانے والے لیگ اسپنر یاسر شاہ کو بھی یواے ای کیخلاف آزمائے جانے کی تجویز زیر غور ہے، انھیں پروٹیز کیخلاف میچ کیلیے ایک اہم ہتھیار قرار دیا جارہا ہے۔
بدھ کے میچ میں انھیں ردھم حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے، یاسر شاہ کی جگہ بنانے کیلیے کسی پیسر کو آرام دیا جاسکتا ہے، یاد رہے کہ یو اے ای کی ٹیم کو پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر اور کوچ عاقب جاوید کی خدمات حاصل ہیں،گھر کے بھیدی کی رہنمائی میں کھیلنے والی ایسوسی ایٹ ٹیم بھی خامیوں سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے مشکلات پیش کرسکتی ہے، پاکستان کی ٹاپ آرڈر کیلیے پروٹیز کیخلاف اہم میچ سے قبل فارم میں واپسی کا آخری موقع ہوگا۔
حیرت کی بات ہے کہ گرین شرٹس نے ورلڈکپ میں کمزور ٹیموں کیخلاف بیشتر میچ بھی بولنگ کے بل بوتے پر جیتے ہیں، تاہم اس بار کئی ٹیمیں 300سے زائد اسکور باآسانی بنانے میں کامیاب ہوئی ہیں، بیٹنگ میں بہتری لانا بھی وقت کی اہم ضرورت بن چکا، اعتماد کی بحالی کا سفر جاری رکھنے کیلیے پاکستان کے 30یا 40رنز بنانے والے بیٹسمینوں کو بھی بڑی اننگز کھیلنے کی ذمہ داری اٹھانا ہوگی۔
تفصیلات کے مطابق بھارت اور ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں شکستوں کے بعد بمشکل زمبابوے کو زیر کرنے والی پاکستان ٹیم کی مینجمنٹ اور کھلاڑی کسی حد تک اعتماد کی بحالی کا سفر شروع کرنے میں کامیاب ہوگئے، ابھی تک کوارٹرفائنل کھیلنے کی امیدیں برقرار لیکن انتہائی کٹھن مراحل درپیش ہیں، گرین شرٹس کا رن ریٹ بہت کم ہونے کی وجہ سے یا تو اگلے تینوں میچ جیتنا ہونگے،دوسری صورت میں بات رن ریٹ اور اگر مگر پر آجائے گی۔
گرین شرٹس پیرکوبرسبین سے نیپیئر پہنچ گئے جہاں بدھ کو متحدہ عرب امارات کیخلاف میچ کھیلا جائے گا، ٹیم ذرائع کے مطابق کھلاڑیوں نے نیپیئر آمد کے بعد ہوٹل میں آرام کیا، منگل کو نیلسن پارک میں ٹریننگ شیڈول کی گئی ہے، اس سے قبل کپتان مصباح الحق پریس کانفرنس بھی کریں گے، پاکستان ٹیم پول بی میں 2پوائنٹس کے ساتھ چھٹے نمبرپر ہے، یو اے ای کیخلاف فتح پوزیشن مزید بہتر کردے گی، مصباح الحق الیون ورلڈ کپ میں اپنے پانچویں میچ میں 7مارچ کوآکلینڈ میں جنوبی افریقہ کے مقابل آئے گی۔
ٹیم مینجمنٹ کا کہنا ہے زمبابوے کیخلاف فتح سے کھلاڑیوں کا اعتماد بحال ہوا ہے اور وہ یواے ای کیخلاف بڑا اسکور کرکے رن ریٹ بھی بہتر بنانے کیلیے پرعزم ہیں۔ دوسری جانب محمد حفیظ کا خلا پرکرنے کیلیے خاص طور پر بلائے جانے والے ناصرجمشید ابھی تک ناکامی کی تصویر بنے ہوئے، ناقص فیلڈنگ نے بھی ان کی پوزیشن خاصی کمزور کردی ہے۔
یونس خان کو اوپنر کھلانے کا تجربہ ناکام ہوا، عمراکمل نے بھی وکٹوں کے پیچھے کئی اہم کیچ ڈراپ کیے جس سے حریف ٹیموں کو بڑے مجموعے ترتیب دینے کا موقع ملا، اتوار کو چیئرمین پی سی بی شہریار خان نے کہا تھا کہ ٹور سلیکشن کمیٹی کو ناصر جمشید کی جگہ وکٹ کیپر بیٹسمین سرفراز احمد کو شامل کرنے کی تجویز دی تھی جو انھوں نے ان سنی کردی، وہ اوپنر کا خلا بھی پر کرسکتے ہیں۔
دوسری جانب مصباح الحق کا برسبین میں میچ کے بعد پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ بیٹنگ مزید کمزور ہوجانے کے خدشہ سے سرفراز کو پلیئنگ الیون میں شامل کرنے کا ماحول نہیں بن رہا، اگرچہ شہریار خان کا کہنا تھا کہ وہ ٹور سلیکشن کمیٹی کے فیصلوں میں مداخلت نہیں کرتے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی سی بی کا پیغام منیجمنٹ تک پہنچ گیا ہوگا۔
سابق کرکٹرز اور عوام بھی ناصر جمشید سے گلو خلاصی کے حق میں ہیں، سرفراز احمد کو کیریئر کا پہلا ورلڈکپ میچ کھلائے جانے کا امکان روشن ہے، اسپیشلسٹ وکٹ کیپر دستیاب ہونے کی بعد عمر اکمل کی صورت میں ایک بہترین فیلڈر کی خدمات بھی کپتان کو میسر آجائیںگی، دوسری جانب بھارت کیخلاف میچ کے بعد ڈراپ کیے جانے والے لیگ اسپنر یاسر شاہ کو بھی یواے ای کیخلاف آزمائے جانے کی تجویز زیر غور ہے، انھیں پروٹیز کیخلاف میچ کیلیے ایک اہم ہتھیار قرار دیا جارہا ہے۔
بدھ کے میچ میں انھیں ردھم حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے، یاسر شاہ کی جگہ بنانے کیلیے کسی پیسر کو آرام دیا جاسکتا ہے، یاد رہے کہ یو اے ای کی ٹیم کو پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر اور کوچ عاقب جاوید کی خدمات حاصل ہیں،گھر کے بھیدی کی رہنمائی میں کھیلنے والی ایسوسی ایٹ ٹیم بھی خامیوں سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے مشکلات پیش کرسکتی ہے، پاکستان کی ٹاپ آرڈر کیلیے پروٹیز کیخلاف اہم میچ سے قبل فارم میں واپسی کا آخری موقع ہوگا۔
حیرت کی بات ہے کہ گرین شرٹس نے ورلڈکپ میں کمزور ٹیموں کیخلاف بیشتر میچ بھی بولنگ کے بل بوتے پر جیتے ہیں، تاہم اس بار کئی ٹیمیں 300سے زائد اسکور باآسانی بنانے میں کامیاب ہوئی ہیں، بیٹنگ میں بہتری لانا بھی وقت کی اہم ضرورت بن چکا، اعتماد کی بحالی کا سفر جاری رکھنے کیلیے پاکستان کے 30یا 40رنز بنانے والے بیٹسمینوں کو بھی بڑی اننگز کھیلنے کی ذمہ داری اٹھانا ہوگی۔