شدید بارشیں اور حکومت کے کرنے کا کام
دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں سیلاب اور بارش کے سیزنز کو سامنے رکھ کر منصوبہ بندی کی جاتی ہے ۔
ملک کی قیادت کو چاہیے کہ وہ محض سیاسی جوڑ توڑ کو ہی اپنی ترجیح نہ بنائیں بلکہ ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے بھی منصوبہ بندی کریں۔ فوٹو : ایکسپریس
NEW DELHI:
جاتی ہوئی سردی کے موسم میں حالیہ دنوں میں ہونے والی بارشوں اورپہاڑی علاقوں میں برفباری نے ملک بھر میں سیلابی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ گزشتہ روز بھی پنجاب سمیت ملک بھر میں شدید بارش ہوئی جس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں چھتیں گرنے اور سیلابی پانی سے خاصا مالی و جانی نقصان ہوا ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ملک بھر میں طوفانی بارش کی وجہ سے 21 افراد جاں بحق ہوئے، ان میں4 ایف سی کے نوجوان بھی شامل ہیں۔
ایف سی کے اہلکار پشاور میں جاں بحق ہوئے، یہاں ایک پولیس چوکی کی چھت گری جس کے نیچے ایف سی اہلکار آ گئے۔ ملک کے شمالی علاقوں میں شدید برفباری ہو رہی ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ موسم کھلنے سے شدید بارش بھی ہورہی ہے جس کے باعث پہاڑی علاقوں میں تودے گر رہے ہیں اور لینڈ سلائیڈنگ ہو رہی ہے جب کہ زیریں اور میدانی علاقوں میں ندی نالے اور دریاؤں میں سلابی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ راولپنڈی میں تو سیلاب کی وارننگ دے دی گئی ہے۔
اخباری اطلاعات کے مطابق راولپنڈی میں گزشتہ 2 روز سے جاری شدید بارش نے شہر میں تباہی مچا دی ہے، نالہ لئی میں بھی اچانک سیلاب آگیا اور فلڈ ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ،آئی ایس پی آر کے مطابق فوج کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے ،ملحقہ آبادیوں میں2سے4فٹ تک پانی داخل ہوگیا، انتظامیہ نے نالہ لئی کے کنارے تمام آبادیوں کو گھر خالی کرنے کی ہدایات بھی جاری کر دی ہیں، اسلام آباد میں راول ڈیم میں پانی کی سطح بھی خطرے کے نشان سے صرف 4پوائنٹ نیچے تک پہنچ گئی۔
نشیبی علاقے بھی ندیوں میں تبدیل ہوگئے، ٹریفک، فلائٹس اور ریل گاڑیوں کا نظام بھی متاثر ہوا، اسلام آباد ایئر پورٹ کے رن وے پر پانی کھڑا ہونے سے جہازوں کو لینڈنگ میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ادھرپنجاب میں شدید بارش کے بعد سیالکوٹ میں ہیڈمرالہ کے مقام پر بھی نچلے درجے کا سیلاب ہے۔
خیبر پختونخوا کے کئی ندی نالوں میں بھی شدید طغیانی کی کیفیت ہے،گزشتہ روز پنجاب ،خیبر پختونخواہ، اسلام آباد، کشمیراور گلگت بلتستان کے اکثر مقامات پر وقفے وقفے کے ساتھ بارش ہوتی رہی، مری، بونیر، چترال ، کوہستان اور لواری ٹاپ میں برفباری کا سلسلہ جاری ہے، برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کالام ، مالم جبہ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں رابطہ سڑکیں بند ہونے سے کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔
اس موسم میں بارشیں اور برفباری ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔تقریباً صدیوں سے سال کے ان ایام میں ایسا ہوتا آ رہا ہے۔ اسی طرح گرمیوں کے موسم میں مون سون کا سیزن آتا ہے۔ اس سیزن میں بھی شدید بارشیں ہوتی ہیں اور پہاڑوں پر برف پگھلنے سے میدانی علاقوں کی طرف آنے والے دریاؤں میں سیلاب آ جاتا ہے۔حالیہ کچھ برسوں سے بارشوں اور سیلاب سے بہت زیادہ نقصانات ہو رہے ہیں ،خصوصاً ملک کے شمالی پہاڑی علاقوں میں نقصانات کے حجم میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
اس کی ایک وجہ ان علاقوں میں موجود درختوں کی بے دریغ کٹائی ہے۔پنجاب میں سیلاب سے جو نقصانات ہوتے ہیں ،اس کی ایک وجہ درختوں کی کٹائی بھی ہے۔ درختوں کی کٹائی کی وجہ سے ماحولیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں سیلاب اور بارش کے سیزنز کو سامنے رکھ کر منصوبہ بندی کی جاتی ہے ۔اسی طرح ملک میں موجود جنگلات کے رقبے کو بھی مد نظر رکھا جاتا ہے ۔پہاڑی علاقوں میں جس قدر زیادہ درخت ہوں گے ،وہاں اتنی ہی کم لینڈ سلائیڈنگ ہو گی۔
اسی طرح میدانی علاقوں میں دریاؤں کے کنارے کتنے زیادہ گھنے جنگل ہوں گے ،زمین کا کٹاؤ اتنا ہی کم ہو گا لیکن پاکستان میں درختوں کو بڑی بے دردی سے کاٹا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہاڑی علاقوں میں ہر سال سیلاب آتے ہیں اور لینڈسلائیڈنگ ہوتی ہے جس سے بہت زیادہ جانی نقصان ہوتا ہے، ادھر ملک کے میدانی علاقوں میں خصوصاً پنجاب اور سندھ میں بارش اور سیلابی پانی سے جو نقصان ہوتا ہے ،اگر منصوبہ بندی کی جائے تو اسے فائدے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان نے سیلابی اور دریائی پانی کو محفوظ کرنے کے لیے زیادہ اقدامات نہیں کیے،حالت تو یہ ہے کہ وہ ندی نالے جہاں ہرسال سیلاب آتے ہیں ،ان کے کناروں پر آبادیاں قائم ہو گئی ہیں اور کسی حکومتی ادارے نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ ادھر شہری انتظامات کی حالت یہ ہے کہ اگر کراچی اور لاہور میں شدید بارش ہو جائے تو ہنگامی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔ بجلی بند ہو جاتی ہے ،سڑکوں اور گلیوں میں پانی کھڑا ہو جاتا ہے ۔
سیوریج سسٹم بند ہو جاتا ہے، گندے نالے ابل پڑتے ہیں،یوں ہنگامی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے، پاکستان میں کسی بھی حکومت نے ان معاملات پر کبھی توجہ دی اور نہ ہی کوئی منصوبہ بندی کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر سال بارشوں کے موسم میں جہاں املاک کا نقصان ہوتا ہے وہاں قیمتی جانیں بھی ضایع ہو جاتی ہیں ۔ملک کی قیادت کو چاہیے کہ وہ محض سیاسی جوڑ توڑ کو ہی اپنی ترجیح نہ بنائیں بلکہ ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے بھی منصوبہ بندی کریں۔
جاتی ہوئی سردی کے موسم میں حالیہ دنوں میں ہونے والی بارشوں اورپہاڑی علاقوں میں برفباری نے ملک بھر میں سیلابی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ گزشتہ روز بھی پنجاب سمیت ملک بھر میں شدید بارش ہوئی جس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں چھتیں گرنے اور سیلابی پانی سے خاصا مالی و جانی نقصان ہوا ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ملک بھر میں طوفانی بارش کی وجہ سے 21 افراد جاں بحق ہوئے، ان میں4 ایف سی کے نوجوان بھی شامل ہیں۔
ایف سی کے اہلکار پشاور میں جاں بحق ہوئے، یہاں ایک پولیس چوکی کی چھت گری جس کے نیچے ایف سی اہلکار آ گئے۔ ملک کے شمالی علاقوں میں شدید برفباری ہو رہی ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ موسم کھلنے سے شدید بارش بھی ہورہی ہے جس کے باعث پہاڑی علاقوں میں تودے گر رہے ہیں اور لینڈ سلائیڈنگ ہو رہی ہے جب کہ زیریں اور میدانی علاقوں میں ندی نالے اور دریاؤں میں سلابی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ راولپنڈی میں تو سیلاب کی وارننگ دے دی گئی ہے۔
اخباری اطلاعات کے مطابق راولپنڈی میں گزشتہ 2 روز سے جاری شدید بارش نے شہر میں تباہی مچا دی ہے، نالہ لئی میں بھی اچانک سیلاب آگیا اور فلڈ ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ،آئی ایس پی آر کے مطابق فوج کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے ،ملحقہ آبادیوں میں2سے4فٹ تک پانی داخل ہوگیا، انتظامیہ نے نالہ لئی کے کنارے تمام آبادیوں کو گھر خالی کرنے کی ہدایات بھی جاری کر دی ہیں، اسلام آباد میں راول ڈیم میں پانی کی سطح بھی خطرے کے نشان سے صرف 4پوائنٹ نیچے تک پہنچ گئی۔
نشیبی علاقے بھی ندیوں میں تبدیل ہوگئے، ٹریفک، فلائٹس اور ریل گاڑیوں کا نظام بھی متاثر ہوا، اسلام آباد ایئر پورٹ کے رن وے پر پانی کھڑا ہونے سے جہازوں کو لینڈنگ میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ادھرپنجاب میں شدید بارش کے بعد سیالکوٹ میں ہیڈمرالہ کے مقام پر بھی نچلے درجے کا سیلاب ہے۔
خیبر پختونخوا کے کئی ندی نالوں میں بھی شدید طغیانی کی کیفیت ہے،گزشتہ روز پنجاب ،خیبر پختونخواہ، اسلام آباد، کشمیراور گلگت بلتستان کے اکثر مقامات پر وقفے وقفے کے ساتھ بارش ہوتی رہی، مری، بونیر، چترال ، کوہستان اور لواری ٹاپ میں برفباری کا سلسلہ جاری ہے، برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کالام ، مالم جبہ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں رابطہ سڑکیں بند ہونے سے کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔
اس موسم میں بارشیں اور برفباری ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔تقریباً صدیوں سے سال کے ان ایام میں ایسا ہوتا آ رہا ہے۔ اسی طرح گرمیوں کے موسم میں مون سون کا سیزن آتا ہے۔ اس سیزن میں بھی شدید بارشیں ہوتی ہیں اور پہاڑوں پر برف پگھلنے سے میدانی علاقوں کی طرف آنے والے دریاؤں میں سیلاب آ جاتا ہے۔حالیہ کچھ برسوں سے بارشوں اور سیلاب سے بہت زیادہ نقصانات ہو رہے ہیں ،خصوصاً ملک کے شمالی پہاڑی علاقوں میں نقصانات کے حجم میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
اس کی ایک وجہ ان علاقوں میں موجود درختوں کی بے دریغ کٹائی ہے۔پنجاب میں سیلاب سے جو نقصانات ہوتے ہیں ،اس کی ایک وجہ درختوں کی کٹائی بھی ہے۔ درختوں کی کٹائی کی وجہ سے ماحولیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں سیلاب اور بارش کے سیزنز کو سامنے رکھ کر منصوبہ بندی کی جاتی ہے ۔اسی طرح ملک میں موجود جنگلات کے رقبے کو بھی مد نظر رکھا جاتا ہے ۔پہاڑی علاقوں میں جس قدر زیادہ درخت ہوں گے ،وہاں اتنی ہی کم لینڈ سلائیڈنگ ہو گی۔
اسی طرح میدانی علاقوں میں دریاؤں کے کنارے کتنے زیادہ گھنے جنگل ہوں گے ،زمین کا کٹاؤ اتنا ہی کم ہو گا لیکن پاکستان میں درختوں کو بڑی بے دردی سے کاٹا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہاڑی علاقوں میں ہر سال سیلاب آتے ہیں اور لینڈسلائیڈنگ ہوتی ہے جس سے بہت زیادہ جانی نقصان ہوتا ہے، ادھر ملک کے میدانی علاقوں میں خصوصاً پنجاب اور سندھ میں بارش اور سیلابی پانی سے جو نقصان ہوتا ہے ،اگر منصوبہ بندی کی جائے تو اسے فائدے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان نے سیلابی اور دریائی پانی کو محفوظ کرنے کے لیے زیادہ اقدامات نہیں کیے،حالت تو یہ ہے کہ وہ ندی نالے جہاں ہرسال سیلاب آتے ہیں ،ان کے کناروں پر آبادیاں قائم ہو گئی ہیں اور کسی حکومتی ادارے نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ ادھر شہری انتظامات کی حالت یہ ہے کہ اگر کراچی اور لاہور میں شدید بارش ہو جائے تو ہنگامی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔ بجلی بند ہو جاتی ہے ،سڑکوں اور گلیوں میں پانی کھڑا ہو جاتا ہے ۔
سیوریج سسٹم بند ہو جاتا ہے، گندے نالے ابل پڑتے ہیں،یوں ہنگامی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے، پاکستان میں کسی بھی حکومت نے ان معاملات پر کبھی توجہ دی اور نہ ہی کوئی منصوبہ بندی کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر سال بارشوں کے موسم میں جہاں املاک کا نقصان ہوتا ہے وہاں قیمتی جانیں بھی ضایع ہو جاتی ہیں ۔ملک کی قیادت کو چاہیے کہ وہ محض سیاسی جوڑ توڑ کو ہی اپنی ترجیح نہ بنائیں بلکہ ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے بھی منصوبہ بندی کریں۔