سندھ حکومت نے ایکسپورٹ پروسیسنگ اتھارٹی کو سمندر کے اندر 75 ایکڑ زمین فروخت کردی
200 ایکڑاراضی اتھارٹی کوصرف سوا 4 کروڑ میں دینے کاانکشاف
اسٹیل مل کاویسٹ مٹیریل کم قیمت میں فروخت کرکے 40 لاکھ کے نقصان کا انکشاف۔ فوٹو: فائل
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ سندھ حکومت نے ایکسپورٹ پروسسنگ زون اتھارٹی کو سمندر کے اندر75 ایکڑزمین فروخت کردی جس پراے جی نے کہا کہ سمندرکے اندرسے زمین نکلے گی توانھیں ملے گی۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین خورشیدشاہ کی زیرصدارت ہوا جس میں انکشاف ہوا کہ ایکسپورٹ پراسیسنگ اتھارٹی نے کراچی میں 200ایکٹرزمین کیلیے سندھ حکومت کو4کروڑ 35لاکھ روپے ادائیگی کی۔ آڈٹ حکام نے بتایاکہ اسٹیل مل نے ویسٹ مٹیریل کوکم قیمت میں فروخت کرکے40 لاکھ روپے کا نقصان کیاہے جس پر کمیٹی نے برہمی کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ اربوں کا منصوبہ ہے،15ہزارسے زائدملازمین ہیں، سارا سسٹم مارکیٹنگ پرچل رہا ہے مگر نااہلی ہے. چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ہم نے5 سال دھکے دیکراسٹیل مل کوچلایا، یہ حکومتوں نہیں بلکہ ملازمین کی نااہلی ہے، سسٹم کو بہتر بنایا جائے۔
آڈٹ حکام نے بتایاکہ وزارت صنعت وپیداوارمالی سال 2009-10 کیلیے 8 ارب 77 کروڑ 22 لاکھ روپے کی گرانٹ لی جبکہ خرچ صرف76 کروڑ71لاکھ کرسکے،اگریہ رقم منظورنہ کرواتے توملک کے دیگرجاری منصوبوں میں بھی خرچ ہوسکتی تھی، آڈیٹر جنرل نے کہاکہ وزارت صنعت وپیداوارمیںاہلیت کی کمی تھی،یہ رقم خرچ نہ کرسکتے، تنخواہیں دیکر باقی رقم سرنڈر کردی، سرنڈر اور بچت کے لیے پیسے نہیںدیے جاتے،چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ بہت بڑی رقم کے لیے منسٹری پلاننگ کرتی ہے، لاپرواہی کامظاہرہ کیا گیا،کمیٹی نے پلاننگ ڈویژن اور فنانس ڈویژن سے مالی معاملات کی پوزیشن طلب کرلی۔
آڈٹ حکام نے بتایاکہ انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈکی جانب سے پابندی کے باوجود2006سے 2010 تک ملازمین کو چھٹیوں کی مد میں 5کروڑ 8لاکھ70ہزارروپے ادا کیے گئے،شیخ رشیدنے کہاکہ رقم ریکورکی جائے، آڈیٹر جنرل بلند اختر رانا نے کہاکہ اے جی پی آرکے لوگ ریکوری کے معاملے میں بہت تیز ہیں اورپی اے سی کی ہدایت پر آڈیٹر جنرل کی پوری پوری تنخواہ ریکور کرلیتے ہیں تو یہ مسئلہ ہی نہیں ،چئیرمین پی اے سی معاملے کو نمٹانا چاہتے تھے مگر آڈیٹرجنرل کی مخالفت پرمعاملے کو موخر کردیا، آڈیٹرجنرل نے کہاکہ آپ کہتے ہیںکہ آڈیٹر جنرل نہیںآتا،جب وہ اجلاس میں شرکت کرتاہے تو اس کی بات بھی سننا ہوگی، انھوں نے کہاکہ ہمیںیہ روایت نہیںڈالنی چاہیے،اس سے پنڈورہ بکس کھلے گا۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین خورشیدشاہ کی زیرصدارت ہوا جس میں انکشاف ہوا کہ ایکسپورٹ پراسیسنگ اتھارٹی نے کراچی میں 200ایکٹرزمین کیلیے سندھ حکومت کو4کروڑ 35لاکھ روپے ادائیگی کی۔ آڈٹ حکام نے بتایاکہ اسٹیل مل نے ویسٹ مٹیریل کوکم قیمت میں فروخت کرکے40 لاکھ روپے کا نقصان کیاہے جس پر کمیٹی نے برہمی کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ اربوں کا منصوبہ ہے،15ہزارسے زائدملازمین ہیں، سارا سسٹم مارکیٹنگ پرچل رہا ہے مگر نااہلی ہے. چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ہم نے5 سال دھکے دیکراسٹیل مل کوچلایا، یہ حکومتوں نہیں بلکہ ملازمین کی نااہلی ہے، سسٹم کو بہتر بنایا جائے۔
آڈٹ حکام نے بتایاکہ وزارت صنعت وپیداوارمالی سال 2009-10 کیلیے 8 ارب 77 کروڑ 22 لاکھ روپے کی گرانٹ لی جبکہ خرچ صرف76 کروڑ71لاکھ کرسکے،اگریہ رقم منظورنہ کرواتے توملک کے دیگرجاری منصوبوں میں بھی خرچ ہوسکتی تھی، آڈیٹر جنرل نے کہاکہ وزارت صنعت وپیداوارمیںاہلیت کی کمی تھی،یہ رقم خرچ نہ کرسکتے، تنخواہیں دیکر باقی رقم سرنڈر کردی، سرنڈر اور بچت کے لیے پیسے نہیںدیے جاتے،چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ بہت بڑی رقم کے لیے منسٹری پلاننگ کرتی ہے، لاپرواہی کامظاہرہ کیا گیا،کمیٹی نے پلاننگ ڈویژن اور فنانس ڈویژن سے مالی معاملات کی پوزیشن طلب کرلی۔
آڈٹ حکام نے بتایاکہ انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈکی جانب سے پابندی کے باوجود2006سے 2010 تک ملازمین کو چھٹیوں کی مد میں 5کروڑ 8لاکھ70ہزارروپے ادا کیے گئے،شیخ رشیدنے کہاکہ رقم ریکورکی جائے، آڈیٹر جنرل بلند اختر رانا نے کہاکہ اے جی پی آرکے لوگ ریکوری کے معاملے میں بہت تیز ہیں اورپی اے سی کی ہدایت پر آڈیٹر جنرل کی پوری پوری تنخواہ ریکور کرلیتے ہیں تو یہ مسئلہ ہی نہیں ،چئیرمین پی اے سی معاملے کو نمٹانا چاہتے تھے مگر آڈیٹرجنرل کی مخالفت پرمعاملے کو موخر کردیا، آڈیٹرجنرل نے کہاکہ آپ کہتے ہیںکہ آڈیٹر جنرل نہیںآتا،جب وہ اجلاس میں شرکت کرتاہے تو اس کی بات بھی سننا ہوگی، انھوں نے کہاکہ ہمیںیہ روایت نہیںڈالنی چاہیے،اس سے پنڈورہ بکس کھلے گا۔