مصباح نے ٹیسٹ سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ ایک سال کیلیے موخرکردیا
تنقید تعمیری ہونی چاہیے جس سے ملک کا نام اور کھلاڑیوں کی ساکھ خراب نہ ہو، پاکستانی قائد
آئی پی ایل کے دروازے بند کرکے کھیل کے جدید طریقے سیکھنے سے محروم کردیا گیا فوٹو:اے ایف پی
پاکستانی کپتان مصباح الحق نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ ایک سال کیلیے موخرکردیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے مصباح الحق کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ سے ریٹائرمنٹ کے حوالے سے ابھی کچھ نہیں سوچا، 6 ماہ یاایک سال میں علم ہوگا کہ کب تک کھیل سکتا ہوں، میں نے ہمیشہ اپنے ملک کیلیے بہترین پرفارم کرنا چاہا، جو بھی دوسرے پلیئرز پاکستان کیلیے کھیلتے ہیں انھیں بھی میرا یہی پیغام ہے کہ پروفیشنل بنتے ہوئے اپنی بہترین صلاحیتوں کا اظہار کریں، ان کے پاس جو بھی توانائیاں ہیں وہ اپنے ملک کے لیے صرف کردیں۔
مصباح نے کہا کہ 2010 کے دورہ انگلینڈ کے بعد جب مجھے ٹیسٹ کرکٹ میں واپس بلانے کے ساتھ ہی قیادت سونپی گئی تو میں نے سوچا کہ ذمہ داری لینے کا یہی وقت ہے، دنیا کو دکھانا ہے کہ آپ حقیقت میں ایک اچھی کرکٹ قوم ہیں، میں نے ہیومن ریسورس مینجمنٹ میں ماسٹرز کیا ہے، تعلیم آپ کو اچھا انسان بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ناقدین کے حوالے سے مصباح نے کہاکہ ایسی چیزیں ہمیشہ ہوتی رہتی ہیں، تنقید برائے تنقید اور ذاتیات پرحملے مضحکہ خیز ہیں، آپ کو تعمیری تنقید کرنی چاہیے جس سے ملک کا نام اور کھلاڑیوں کی ساکھ خراب نہ ہو، ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ آئی پی ایل کے دروازے بند کرکے ہمارے کھلاڑیوں کو کھیل کے جدید طریقے سیکھنے سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے مصباح الحق کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ سے ریٹائرمنٹ کے حوالے سے ابھی کچھ نہیں سوچا، 6 ماہ یاایک سال میں علم ہوگا کہ کب تک کھیل سکتا ہوں، میں نے ہمیشہ اپنے ملک کیلیے بہترین پرفارم کرنا چاہا، جو بھی دوسرے پلیئرز پاکستان کیلیے کھیلتے ہیں انھیں بھی میرا یہی پیغام ہے کہ پروفیشنل بنتے ہوئے اپنی بہترین صلاحیتوں کا اظہار کریں، ان کے پاس جو بھی توانائیاں ہیں وہ اپنے ملک کے لیے صرف کردیں۔
مصباح نے کہا کہ 2010 کے دورہ انگلینڈ کے بعد جب مجھے ٹیسٹ کرکٹ میں واپس بلانے کے ساتھ ہی قیادت سونپی گئی تو میں نے سوچا کہ ذمہ داری لینے کا یہی وقت ہے، دنیا کو دکھانا ہے کہ آپ حقیقت میں ایک اچھی کرکٹ قوم ہیں، میں نے ہیومن ریسورس مینجمنٹ میں ماسٹرز کیا ہے، تعلیم آپ کو اچھا انسان بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ناقدین کے حوالے سے مصباح نے کہاکہ ایسی چیزیں ہمیشہ ہوتی رہتی ہیں، تنقید برائے تنقید اور ذاتیات پرحملے مضحکہ خیز ہیں، آپ کو تعمیری تنقید کرنی چاہیے جس سے ملک کا نام اور کھلاڑیوں کی ساکھ خراب نہ ہو، ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ آئی پی ایل کے دروازے بند کرکے ہمارے کھلاڑیوں کو کھیل کے جدید طریقے سیکھنے سے محروم رکھا جا رہا ہے۔