سینیٹ انتخابات اور جمہوری قیادت

پاکستان میں سینیٹ کے الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ اور روپے پیسے کے لین دین کا کلچر خاصا مضبوط ہو گیا ہے۔

سیاسی قیادت کو بھی چاہیے کہ وہ ماضی کے تلخ تجربات سے سبق سیکھے اور مستقبل میں پرانی غلطیاں دہرانے سے باز رہے۔ فوٹو : فائل

اسلام آباد اور ملک کے چاروں صوبوں میں سینیٹ (ایوان بالا) کا الیکشن مکمل ہو گیا' تمام سیاسی جماعتوں نے توقعات کے مطابق سینیٹ میں نشستیں حاصل کر لیں۔ پنجاب اور اسلام آباد سے مسلم لیگ ن نے کلین سوئپ کرتے ہوئے 13 نشستیں جیت لیں جب کہ سندھ سے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے ساری نشستیں جیت لیں۔

خیبر پختونخوا سے تحریک انصاف نے سب سے زیادہ نشستیں جیتیں۔ خیبر پختونخوا میں پولنگ رات 9 بجے تک جاری رہی جب کہ صدارتی آرڈیننس میں ابہام کی وجہ سے الیکشن کمیشن نے فاٹا میں الیکشن ملتوی کر دیا' ایک آدھ واقعے کے سوا پولنگ کا عمل پرامن اور شفاف انداز میں مکمل ہوا۔

یوں ملک میں جمہوریت کا ایک اور مرحلہ خوش اسلوبی سے مکمل ہو گیا تاہم سینیٹ الیکشن سے پہلے تمام سیاسی جماعتوں نے جو شور و غوغا بلند کیا، اس کی وجہ سے ہارس ٹریڈنگ اور خرید و فروخت کا معاملہ نمایاں ہوا۔ اس وجہ سے عوام کی نظروں میں سیاستدانوں کا وقار قدرے مجروح ہوا۔

پاکستان میں سینیٹ کے الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ اور روپے پیسے کے لین دین کا کلچر خاصا مضبوط ہو گیا ہے۔ سینیٹ کے ہر الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ ہوئی اور کئی امید وار محض روپے پیسے کے زور پر سینیٹ کے رکن بن گئے۔ حالیہ سینیٹ الیکشن میں بھی جہاں سیاسی جوڑ توڑ جاری رہا، وہاں ارکان اسمبلی کی خرید و فروخت کے معاملات بھی سامنے آتے رہے، معاملات یہاں تک پہنچے کہ وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کر کے حکمت عملی مرتب کی۔

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور تحریک انصاف کے قائد عمران خان بھی ہارس ٹریڈنگ اور خرید و فروخت کے حوالے سے بیانات جاری کرتے رہے۔ اس سارے معاملے کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ابھی تک خرید و فروخت کی کوئی مصدقہ بات تو سامنے نہیں آئی' یعنی کوئی ایسا امید وار سامنے نہیں آیا ۔

جس کے بارے میں پورے ثبوتوں کے ساتھ یہ کہا جائے کہ اس نے کسی رکن کو اتنی رقم دی یا اس کی آفر کی۔ البتہ ہماری چوٹی کی سیاسی قیادت کروڑوں روپے کے سودے کی بات کرتی رہی' یہ الگ بات ہے کہ کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا جا سکا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان خرید و فروخت اور ہارس ٹریڈنگ کے بیانات تو جاری کرتے رہے لیکن کوئی ثبوت فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں' حتیٰ کہ کسی کا نام تک نہیں لیا گیا۔ ہمارے سیاستدانوں کے اس طرز عمل کو غیر ذمے داری سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ جب تک کوئی ثبوت نہ ہو' بلاوجہ بیان بازی نہیں کرنی چاہیے۔


اس طرز عمل سے سیاستدان اور جمہوریت کے بارے میں عوام کے ذہنوں میں منفی تاثر پیدا ہوتا ہے۔ حالیہ سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ اور خرید و فروخت کی باتیں کسی خفیہ ایجنسی یا اسٹیبلشمنٹ نے نہیں پھیلائیں بلکہ یہ سارا شور سیاستدانوں نے ہی مچایا۔ اس میں مسلم لیگ ن' پیپلز پارٹی' تحریک انصاف اور دیگر سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں۔

اس طرح دیکھا جائے تو ہمارے سیاستدان اپنے آپ کو خود ہی گندا کرنے میں مصروف رہے اور انھوں نے ہی یہ کام بڑے عمدہ طریقے سے کیا۔ اب سینیٹ الیکشن ہو گئے ہیں اور پارٹی پوزیشن سامنے آ گئی ہے تو سب مطمئن ہو گئے ہیں اور ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے ہیں کیونکہ الیکشن کے نتائج سب کی توقعات کے مطابق سامنے آئے ہیں۔

اب اگلہ مرحلہ چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کا ہے۔ سینیٹ میں کسی ایک سیاسی جماعت کے پاس اتنی اکثریت نہیں ہے کہ وہ تنہا اپنا چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین منتخب کرا سکے۔ اب ایک بار پھر سیاسی جوڑ توڑ شروع ہو گا جس میں سیاسی لین دین بھی ہو گا۔

سیاست میں دھڑے بندیاں ہوتی رہتی ہیں اور ایک جماعت کسی ایشو پر کسی دوسری جماعت کا ساتھ دیتی ہے لیکن ان دھڑے بندیوں میں اگر مفاد پرستی اور روپے پیسے کا لین دین شامل ہو جائے تو اس سے سیاست اور سیاستدان دونوں بدنام ہوتے ہیں' ملک کی سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے الیکشن میں بلیک میلنگ کی سیاست سے گریز کریں۔ پاکستان میں جمہوری تاریخ سیاسی بلیک میلنگ سے بھری پڑی ہے۔ چھوٹے چھوٹے گروہ سیاسی بلیک میلنگ کے ذریعے اپنے حجم سے کہیں زیادہ فوائد حاصل کر لیتے ہیں۔

ماضی میں پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت اس کی ایک مثال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت ڈلیور نہیں کر سکی۔ پاکستان کے عوام نے جمہوریت کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ سیاسی قیادت کو بھی چاہیے کہ وہ ماضی کے تلخ تجربات سے سبق سیکھے اور مستقبل میں پرانی غلطیاں دہرانے سے باز رہے۔

ہماری سیاسی قیادت کو اپنے امیدوار کامیاب کرانے کے لیے سیاسی داؤ پیج ضرور آزمانے چاہئیں لیکن اس میں کرپشن اور مفاد پرستی کا عمل دخل شامل نہیں ہونا چاہیے بلکہ سب کچھ جمہوریت کی سربلندی اور آئین و قانون کی حکمرانی کے لیے ہونا چاہیے۔ ایسی صورت میں ہی ملک میں جمہوری نظام مستحکم ہو گا۔
Load Next Story