پاک بھارت مذاکرات جلد شروع ہونے کی امید
مودی سرکار کے آنے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی بار سیکریٹری خارجہ کی سطح پر رابطہ ہونا خوش آیند ہے۔
دونوں ممالک کو مذاکرات کا سلسلہ کسی بھی صورت منقطع نہیں کرنا چاہیے اسے بہر صورت جاری رکھا جائے تاکہ بہتری کی امید اپنی جگہ قائم رہے۔ فوٹو : فائل
سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے حالیہ پاک بھارت سیکریٹری خارجہ بات چیت پر جمعرات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن ممالک اور یورپی مشن کے سفیروں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی سیکریٹری خارجہ کا حالیہ دورہ پاکستان صحیح سمت میں درست قدم تھا، اس میں باہمی دلچسپی کے مختلف دو طرفہ اور علاقائی معاملات پر بات چیت ہوئی، دونوں ممالک میں اچھے تعلقات کے لیے باضابطہ مذاکرات کا عمل تواتر سے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
مودی سرکار کے آنے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی بار سیکریٹری خارجہ کی سطح پر رابطہ ہونا خوش آیند ہے۔ بھارتی حکومت نے حقائق کا ادراک کرتے ہوئے پاکستان سے بہتر تعلقات قائم کرنے کی جانب پہلی پیش رفت کی ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کے بارے میں سخت رویہ رکھنے والی مودی حکومت کے رویے میں لچک آ رہی ہے جس کا اظہار نریندر مودی کے بدھ کو بھارتی ایوان بالاراجیہ سبھا کے اجلاس سے خطاب سے ہوتا ہے ۔
جس میں انھوں نے کہا کہ بھارت تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے۔ علاوہ ازیں ترجمان دفتر خارجہ تسنیم اسلم نے جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران پاک بھارت سیکریٹری خارجہ ملاقات کو مثبت قرار دیتے ہوئے اسے برف پگھلانے والی میٹنگ قرار دیا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلے بھی متعدد بار سیکریٹری خارجہ حتیٰ کہ وزرائے اعظم کی سطح پر بھی ملاقات ہوئی اور یہ امید پیدا ہونے لگی کہ اب معاملات گولی کے بجائے بات چیت کے ذریعے حل ہوں گے اور تمام شکر رنجیاں دور ہو جائیں گی مگر ایسا کچھ نہ ہوا اور کچھ عرصہ بعد معاملات پھر وہیں پہ آ پہنچے جہاں سے شروع ہوئے تھے۔
سیکریٹری خارجہ کی سطح پر ملاقات کے بعد برف پگھلتی ہے یا نہیں اور دونوں وزرائے اعظم باہم بغل گیر ہوتے ہیں یا نہیں یہ تو آیندہ والے دنوں میں پتہ چل جائے گا مگر نریندر مودی کے انتہا پسندانہ عزائم جس طرح سامنے آ رہے ہیں اس سے بہتری کی زیادہ توقعات وابستہ کرنا شاید درست نہ ہو۔
مہاراشٹر کی ریاستی اسمبلی نے جمعرات کو باقاعدہ قرارداد منظور کرتے ہوئے مسلمانوں کو تعلیم اور روز گار میں پانچ فیصد کوٹا نہ دینے کا فیصلہ کیا اور اس طرح مسلمانوں پر تعلیم اور ملازمتوں کے دروازے بھی بند کر دیے گئے ہیں۔ دوسری جانب بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردی کے حوالے سے الزامات لگانے کا سلسلہ بھی پوری شد و مد سے جاری ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ تسنیم اسلم نے اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو کسی واقعے کی پاکستان پر الزام لگانے سے پہلے اس کی باقاعدہ تحقیقات کر لینی چاہیے۔ کیا مودی حکومت بات چیت کے ذریعے پاکستان سے تنازعات طے کرے گی، یہ تو کہنا قبل از وقت ہے تاہم دونوں ممالک کو مذاکرات کا سلسلہ کسی بھی صورت منقطع نہیں کرنا چاہیے اسے بہر صورت جاری رکھا جائے تاکہ بہتری کی امید اپنی جگہ قائم رہے۔
مودی سرکار کے آنے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی بار سیکریٹری خارجہ کی سطح پر رابطہ ہونا خوش آیند ہے۔ بھارتی حکومت نے حقائق کا ادراک کرتے ہوئے پاکستان سے بہتر تعلقات قائم کرنے کی جانب پہلی پیش رفت کی ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کے بارے میں سخت رویہ رکھنے والی مودی حکومت کے رویے میں لچک آ رہی ہے جس کا اظہار نریندر مودی کے بدھ کو بھارتی ایوان بالاراجیہ سبھا کے اجلاس سے خطاب سے ہوتا ہے ۔
جس میں انھوں نے کہا کہ بھارت تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے۔ علاوہ ازیں ترجمان دفتر خارجہ تسنیم اسلم نے جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران پاک بھارت سیکریٹری خارجہ ملاقات کو مثبت قرار دیتے ہوئے اسے برف پگھلانے والی میٹنگ قرار دیا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلے بھی متعدد بار سیکریٹری خارجہ حتیٰ کہ وزرائے اعظم کی سطح پر بھی ملاقات ہوئی اور یہ امید پیدا ہونے لگی کہ اب معاملات گولی کے بجائے بات چیت کے ذریعے حل ہوں گے اور تمام شکر رنجیاں دور ہو جائیں گی مگر ایسا کچھ نہ ہوا اور کچھ عرصہ بعد معاملات پھر وہیں پہ آ پہنچے جہاں سے شروع ہوئے تھے۔
سیکریٹری خارجہ کی سطح پر ملاقات کے بعد برف پگھلتی ہے یا نہیں اور دونوں وزرائے اعظم باہم بغل گیر ہوتے ہیں یا نہیں یہ تو آیندہ والے دنوں میں پتہ چل جائے گا مگر نریندر مودی کے انتہا پسندانہ عزائم جس طرح سامنے آ رہے ہیں اس سے بہتری کی زیادہ توقعات وابستہ کرنا شاید درست نہ ہو۔
مہاراشٹر کی ریاستی اسمبلی نے جمعرات کو باقاعدہ قرارداد منظور کرتے ہوئے مسلمانوں کو تعلیم اور روز گار میں پانچ فیصد کوٹا نہ دینے کا فیصلہ کیا اور اس طرح مسلمانوں پر تعلیم اور ملازمتوں کے دروازے بھی بند کر دیے گئے ہیں۔ دوسری جانب بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردی کے حوالے سے الزامات لگانے کا سلسلہ بھی پوری شد و مد سے جاری ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ تسنیم اسلم نے اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو کسی واقعے کی پاکستان پر الزام لگانے سے پہلے اس کی باقاعدہ تحقیقات کر لینی چاہیے۔ کیا مودی حکومت بات چیت کے ذریعے پاکستان سے تنازعات طے کرے گی، یہ تو کہنا قبل از وقت ہے تاہم دونوں ممالک کو مذاکرات کا سلسلہ کسی بھی صورت منقطع نہیں کرنا چاہیے اسے بہر صورت جاری رکھا جائے تاکہ بہتری کی امید اپنی جگہ قائم رہے۔