بھارتی کارٹون پروگرام بچوں کی نفسیات پر منفی اثرات مرتب کرنے لگے

کارٹون دیکھنے سے بچوں میں تشدد پسندی، ہندوانہ ثقافت، رسم ورواج اور اخلاقی اقدار سے دوری فروغ پارہی ہے۔

کم عمر بچوں کا بھارتی چینلز کے کارٹون دیکھنے کا رجحان بڑھ رہا ہے، سروے رپورٹ۔ فوٹو : فائل

کارٹون بچوں کو تفریح فراہم کرنے کا آسان ذریعہ ہے لیکن بھارتی کارٹون بچوں کی نفسیات پر منفی اثرات مرتب کرنے لگے ہیں۔


پاکستان میں 3 کروڑ سے زائد گھروں میں مختلف نیوز چینل، اسپورٹس، ڈرامے،کھانا پکانے، حالات حاضرہ، صحت اور ٹاک شوز کے علاوہ انڈین کارٹون بھی دیکھے جاتے ہیں، گھروں میں کم عمر بچوں کا بھارتی چینلز کے کارٹون دیکھنے کا رجحان بڑھ رہا ہے، کارٹون دیکھنے سے بچوں کی نفسیات پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں بلکہ بچوں میں تشدد پسندی، ہندوانہ ثقافت، رسم ورواج اور اخلاقی اقدار سے دوری فروغ پارہی ہے۔

ہندی ڈبنگ میں نشر ہونے والے کارٹون پروگراموں سے بچوں کی گفتگو میں ہندی الفاظ کا استعمال بڑھ رہا ہے بچے اکثرو بیشتر اپنی گفتگو میں ہندی (سنسکرت) کے الفاظ بول رہے ہیں، بچوں کے لیے پاکستان میں معیاری کارٹون پر مبنی پاکستانی ٹی وی چینل موجود نہیں ہے چند ایک چینلز پر اردو ڈبنگ کے ساتھ کارٹون پیش کیے جارہے ہیں اور باقی چینل بھاری ڈبنگ کے پروگرام ہی پیش کررہے ہیں ، بچے گھنٹوں بھارتی کارٹون چینل دیکھنے میں مگن رہتے ہیں جس سے وہ جسمانی و ذہنی نشوونما کو فروغ دینے والے کھیل اور سرگرمیوں سے دور ہوتے جارہے ہیں۔


چار سے10سال کی عمر کے بچے کارٹون سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں، بچے کارٹونز کے رنگوں اور حرکتوں محظوظ ہوتے ہیں، بچے کارٹونز کی عجیب و غریب شرارتوں کو پسند کرتے ہیں، بچے کارٹون میں موجود کردار کو حقیقی تصور کرتے ہیں، اپنی مصروفیات میں مگن والدین مسلسل کارٹون دیکھنے سے بچوں کے ذہن پر پڑنے والے منفی اثرات سے آگاہ نہیں ہیں، والدین بچوں کی ضد اور رونے سے بچنے کیلیے ٹی وی پر کارٹون چینل لگادیتے ہیں اور اب یہ والدین کی عادت بن گئی ہے چھوٹے بچے اپنی مکمل توجہ ٹی وی کی جانب مرکوز رکھتے ہیں۔

بچوں کے کارٹون پروگرام میں مصروف رہنے سے مائیں اپنے کام بغیر کسی مشکل کے انجام دیتی ہیں لیکن گھنٹوں کارٹون دیکھنے سے بچے اسکول کے ہوم ورک کرنے سے جی چرانے لگتے ہیں اور دوستوں کے ساتھ کھیل کود میں حصہ لینے سے کتراتے ہیں یہاں تک کہ بچے کھانا اور پینا بھی بھول جاتے ہیں، بچوں کی ضد کے سامنے والدین اپنی مرضی کا چینل نہیں دیکھ سکتے کم عمر بچے مسلسل کارٹون دیکھنے سے کارٹونوں کے کرداروں کی نقل اتارتے ہیں، مسلسل ٹی وی دیکھنے سے کم عمر بچوں کی بینائی متاثر ہورہی ہے ، بچے کارٹون پروگراموں میں غیر حقیقی چیزیں دیکھ کر خیالی دنیا میں رہنے لگتے ہیں۔

بچے عجیب شکلیں بنا کر کارٹونوں کی نقالی کرتے ہیں ایک پرائمری اسکول ٹیچر نے بتایا کہ ایک 8 سالہ بچے نے ہم جماعت بچے کو مارا، بچے سے وجہ پوچھنے پر اس نے معصومانہ انداز میں جواب دیا کہ گزشتہ رات کارٹون میں جیری نے ٹام کو اسی طرح مارا تھا ، 6سالہ بچی کی والدہ نجمہ کا کہنا تھاکہ کارٹون میںگڑیاکے لمبے بال پر چٹیا دیکھ کرمیری بیٹی نے بھی ویسے ہی بال بنانے کی ضد کی، کالج میں زیر تعلیم طالبہ نے اپنی چھوٹی بہن کے حوالے سے بتایا کہ وہ کارٹون میں پری سے بہت متاثر ہے،وہ خود کو ایک پری تصور کرتی ہے جبکہ وہ پری کی طرح فینسی فراک پہن کراسی کی طرح ڈانس بھی کرتی ہے۔

ڈیفنس کی رہائشی سلمیٰ نامی خاتون کا کہنا تھا کہ ایک کارٹون میں اسپائڈرمین جو ایک عمارت کی اونچائی سے چھلانگ لگاتا ہے ویسی ہی حرکت ایک دن ان کے چھوٹے بیٹے نے الماری پر چڑھ کر کی جس سے اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی، وہ بچہ آج تک ٹانگ میں درد محسوس کرتا ہے۔ تنزیل نامی بچے کی والدہ کا کہنا تھا کہ عیدالاضحیٰ میں گھر کے باہر ایک گائے بے قابو ہوکر بھاگ رہی تھی جسے دیکھ کر میرا بچہ گائے کے سامنے پوگو میں بیم کی نقل کرتے ہوئے ڈٹ گیا اور کہہ رہا تھا میں بیم ہوں آجاؤ اسی دوران خوش قسمتی سے کسی نے بچے کو گائے کے سامنے سے ہٹادیا۔
Load Next Story