تاجروں کو بھتے کیلیے وزیرستان سے بھی فون کالز
وزیرستان سمیت ملائیشیا اوردبئی سےآنیوالی بھتےکی فون کالزاورتاجروں کو جان سےمارنے کی دھمکیاں پولیس حکام کیلیے چیلنج.
وزیرستان سمیت ملائیشیا اوردبئی سےآنیوالی بھتےکی فون کالزاورتاجروں کو جان سےمارنے کی دھمکیاں پولیس حکام کیلیے چیلنج. فوٹو : اے ایف پی
لاہور:
شہر میں بھتے کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے تاجروں اور صنعتکاروںکے علاوہ عام شہریوںکو شدید مشکلات سے دوچارکردیا ہے۔
اس ضمن میں قانون نافذ کرنیوالے ادارے بے بس نظرآرہے ہیں جبکہ بھتہ خوری کی اطلاع دینے والے افراد بھی جانیں بچانے کے لیے شہر سے منتقل ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں،وزیرستان سمیت ملائیشیا اور دبئی سے آنے والی بھتے کی فون کالز سے تاجر مزید پریشان ہوگئے ہیں،تفصیلات کے مطابق کراچی کی تاجر برادری کو بھتے کے لیے وزیرستان ، ملائیشیا اور دبئی سے آنے والی فون کالز نے کراچی پولیس کو مشکلات سے دوچارکردیا ہے جس سے نہ صرف تاجر برادری بلکہ کراچی پولیس میں بھی تشویش کی لہر ڈورگئی ہے۔
اس بات کا انکشاف اس وقت ہوا جب کراچی پولیس اور انسداد بھتہ سیل کے حکام تاجر برادری کو بھتے کیلیے آنے والی فون کالزکا ڈیٹا نکالنے میں مصروف تھے اور جب پولیس حکام نے ڈیٹا کی مدد سے چند مقامی بھتہ خوروں کو گرفتار کیا اور ان سے تفتیش کی تو انکشاف ہوا ہے کہ انھیں وزیرستان ، ملائیشیا اوردبئی سے بھتہ لینے کے لیے ہدایت دی جاتی ہیں اور وہ اسے عملی جامع پہنانے کیلیے تاجروںکوفون کرکے ان سے بھتہ طلب کرتے ہیں اورنہ دینے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے ہیں ،ذرائع کے مطابق تاجروںکو بھتہ خوروں کی جانب سے وزیرستان ،ملائشیا اور دبئی آنے والی فون کالز کی اطلاع تاجروں نے اعلیٰ پولیس حکام کو دی ہے۔
جس پر پولیس حکام اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے خاص حکمت عملی اپنانے پر غور کررہے ہیں لیکن پولیس حکام کو اب تک کوئی خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی اور تاجروں کو آنے والی فون کالز نے پولیس کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ،انسداد بھتہ خوری سیل کو تاجر برادری کی جانب سے اب تک بھتہ طلب کرنے سے متعلق 220 شکایات موصول ہوچکی ہیں جس میں سے انسداد بھتہ سیل نے50 کیسز کو حل کرکے 100سے زائد بھتہ خوروں کوگرفتار کیا جن کے قبضے سے اسلحہ ، بھتے کی پرچیاں ،رقم ، موبائل فونزاور دیگر سامان برآمد کر نے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ50 مقدمات میں ملزمان کی نشاندہی بھی کرلی گئی ہے۔
جن کی گرفتاری کیلیے کوششیں کی جارہی ہیں ، اس ضمن میں رابطے پر اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ میں قائم انسداد بھتہ خوری سیل کے سربراہ واصف قریشی نے بتایا کہ گرفتار ہونیوالے بھتہ خور اس وقت مختلف جیلوں میں موجود ہیں جن کے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ ایسے بھتہ خوروں کی تعداد بہت کم ہے جو یا تو عدالتوں سے ضمانت پر رہا ہوگئے ہیں یا ان پر بنا ئے گئے مقدمات ختم ہوگئے ہیں،انھوں نے بتایا کہ تاجر برادری کی جانب سے موصول ہونے والی شکایتوں پرکارروائی کی جارہی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ بھتہ خوروںکی گرفتاری میں تاخیر کی اصل وجہ موبائل فون کا ڈیٹا حاصل کرنے کا عمل ہے اور ایک موبائل فون کا ڈیٹا اورلوکیشن نکلوانے میں3سے4دن لگ جاتے ہیں جس کے بعد ہی پولیس بھتہ خوروںکی نقل وحرکت پر نظر رکھتی ہے اور موقع ملتے ہی انھیں گرفتار کرلیا جاتا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ بھتہ خوروں نے لیاری ،صفورہ گوٹھ ، سہراب گوٹھ ، گلستان جوہر ،منگھو پیر اور ملیر سمیت دیگر گنجان آباد علاقوں میں اپنے ٹھکانے بنائے ہوئے ہیں جہاں پر پولیس فوری کارروائی نہیںکرسکتی اور حکمت عملی مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ حکام کو بھی اعتماد میں لیا جاتا ہے۔
شہر میں بھتے کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے تاجروں اور صنعتکاروںکے علاوہ عام شہریوںکو شدید مشکلات سے دوچارکردیا ہے۔
اس ضمن میں قانون نافذ کرنیوالے ادارے بے بس نظرآرہے ہیں جبکہ بھتہ خوری کی اطلاع دینے والے افراد بھی جانیں بچانے کے لیے شہر سے منتقل ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں،وزیرستان سمیت ملائیشیا اور دبئی سے آنے والی بھتے کی فون کالز سے تاجر مزید پریشان ہوگئے ہیں،تفصیلات کے مطابق کراچی کی تاجر برادری کو بھتے کے لیے وزیرستان ، ملائیشیا اور دبئی سے آنے والی فون کالز نے کراچی پولیس کو مشکلات سے دوچارکردیا ہے جس سے نہ صرف تاجر برادری بلکہ کراچی پولیس میں بھی تشویش کی لہر ڈورگئی ہے۔
اس بات کا انکشاف اس وقت ہوا جب کراچی پولیس اور انسداد بھتہ سیل کے حکام تاجر برادری کو بھتے کیلیے آنے والی فون کالزکا ڈیٹا نکالنے میں مصروف تھے اور جب پولیس حکام نے ڈیٹا کی مدد سے چند مقامی بھتہ خوروں کو گرفتار کیا اور ان سے تفتیش کی تو انکشاف ہوا ہے کہ انھیں وزیرستان ، ملائیشیا اوردبئی سے بھتہ لینے کے لیے ہدایت دی جاتی ہیں اور وہ اسے عملی جامع پہنانے کیلیے تاجروںکوفون کرکے ان سے بھتہ طلب کرتے ہیں اورنہ دینے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے ہیں ،ذرائع کے مطابق تاجروںکو بھتہ خوروں کی جانب سے وزیرستان ،ملائشیا اور دبئی آنے والی فون کالز کی اطلاع تاجروں نے اعلیٰ پولیس حکام کو دی ہے۔
جس پر پولیس حکام اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے خاص حکمت عملی اپنانے پر غور کررہے ہیں لیکن پولیس حکام کو اب تک کوئی خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی اور تاجروں کو آنے والی فون کالز نے پولیس کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ،انسداد بھتہ خوری سیل کو تاجر برادری کی جانب سے اب تک بھتہ طلب کرنے سے متعلق 220 شکایات موصول ہوچکی ہیں جس میں سے انسداد بھتہ سیل نے50 کیسز کو حل کرکے 100سے زائد بھتہ خوروں کوگرفتار کیا جن کے قبضے سے اسلحہ ، بھتے کی پرچیاں ،رقم ، موبائل فونزاور دیگر سامان برآمد کر نے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ50 مقدمات میں ملزمان کی نشاندہی بھی کرلی گئی ہے۔
جن کی گرفتاری کیلیے کوششیں کی جارہی ہیں ، اس ضمن میں رابطے پر اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ میں قائم انسداد بھتہ خوری سیل کے سربراہ واصف قریشی نے بتایا کہ گرفتار ہونیوالے بھتہ خور اس وقت مختلف جیلوں میں موجود ہیں جن کے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ ایسے بھتہ خوروں کی تعداد بہت کم ہے جو یا تو عدالتوں سے ضمانت پر رہا ہوگئے ہیں یا ان پر بنا ئے گئے مقدمات ختم ہوگئے ہیں،انھوں نے بتایا کہ تاجر برادری کی جانب سے موصول ہونے والی شکایتوں پرکارروائی کی جارہی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ بھتہ خوروںکی گرفتاری میں تاخیر کی اصل وجہ موبائل فون کا ڈیٹا حاصل کرنے کا عمل ہے اور ایک موبائل فون کا ڈیٹا اورلوکیشن نکلوانے میں3سے4دن لگ جاتے ہیں جس کے بعد ہی پولیس بھتہ خوروںکی نقل وحرکت پر نظر رکھتی ہے اور موقع ملتے ہی انھیں گرفتار کرلیا جاتا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ بھتہ خوروں نے لیاری ،صفورہ گوٹھ ، سہراب گوٹھ ، گلستان جوہر ،منگھو پیر اور ملیر سمیت دیگر گنجان آباد علاقوں میں اپنے ٹھکانے بنائے ہوئے ہیں جہاں پر پولیس فوری کارروائی نہیںکرسکتی اور حکمت عملی مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ حکام کو بھی اعتماد میں لیا جاتا ہے۔