پانی کے متوقع بحران کا حل
ہماری حکومتوں کا المیہ یہ رہا ہے کہ ان کی ساری توجہ ایسے منصوبوں پر رہی جن کی افادیت قومی سے زیادہ ذاتی یا گروہی تھی۔
اب ملک اس مقام پر پہنچ گیا ہے کہ اگر پانی کے بحران پر قابو پانے کے لیے کچھ نہ کیا گیا تو آنے والے برسوں میں یہ بحران ناقابل حل ہو جائے گا۔ فوٹو : فائل
شدید موسمیاتی حالات کے نتیجے میں پانی کے بحران کے خدشات کے ساتھ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے، جو کہ دریائے سندھ کے آبی نظام کی اتھارٹی ہے اور جو چاروں صوبوں کے آبپاشی اور انجینئرنگ ماہرین پر مشتمل باڈی ہے، حکومت سے تمام ترقیاتی پروگرامز (پی ایس ڈی پی) پانچ سال کے لیے منجمد کرنے اور بڑے آبی ذخائر کی جنگی بنیادوں پر تعمیر کے لیے ان فنڈز کا استعمال قومی ترجیح قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
آبی ذخائر کی ضرورت اور ان کی تعمیر ایک خالصتاً تکنیکی مسئلہ ہے جس میں پیشہ ور ماہرین کے سوا کسی اور کو بولنے کی اجازت ہی نہیں ہونی چاہیے مگر وطن عزیز کی قسمت میں ایسے ایسے قوم پرست کہلوانے والے سیاست دانوں نے انسانی زندگی کے اس سب سے اہم مسئلے پر سیاست کا تڑکہ لگا کر اسے لا ینحل کی منزل پر پہنچا دیا جس کے باعث کسی حکومت کی ہمت نہیں پڑ رہی کہ وہ اس بارے میں کوئی پیش رفت کرے حتیٰ کہ جن بڑے آبی ذخائر کی تعمیر کے لیے سالہا سال کی فز یبلیٹی کے بعد اربوں روپے کی بھاری مشینری سائٹ پر پہنچائی گئی وہ وہاں کھلے آسمان تلے پڑے پڑے ناکارہ ہو رہی ہے۔
بڑے ڈیموں کے خلاف چلائی جانے والی تحریکوں میں کچھ حصہ ہمارے ضرر رساں پڑوسی کا بھی بتایا جاتا ہے جو بقول شخصے ہمارے پاک وطن کو لق دق صحرا میں تبدل کرنے کی سازش تیار کیے بیٹھا ہے جب کہ خود ڈیم پر ڈیم بنائے چلا جا رہا ہے۔ پاکستان کا نمایندہ عالمی عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو وہاں بھی ہمارے پڑوسیوں کی ہی بات مانی جاتی ہے۔ اس اہم مسئلے کے حل کی جو تجویز ارسا نے دی ہے حکومت کو چاہیے کہ ارسا کی تجویز پر فوری طور پر عمل درآمد شروع کر دے اور پانچ سال کے لیے تمام ترقیاتی فنڈز ڈیم سازی کے لیے مختص کر دے اور مخالفانہ سیاست بازیوں کی پرواہ نہ کرے۔
ارسا نے کسی اہم آبی ذخائر کا نام تو نہیں لیا مگر یہ ضرور کہا ہے کہ کم از کم 22 ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) پانی کے ذخیرے کی صلاحیت جلد از جلد حاصل کی جانی چاہیے۔ ارسا کے چیئرمین رقیب خان نے سیکریٹری پانی و بجلی کے نام لکھے مراسلے میں کہا ہے کہ تمام ترقیاتی فنڈز کا رخ ترجیحی بنیاد پر میگا ذخائر کی تعمیر کے لیے موڑ دیا جانا چاہیے کیونکہ 30 ایم اے ایف سے زیادہ پانی سمندر میں جا رہا ہے اور سیلابوں سے ہونے والا جانی و مالی نقصان اس کے علاوہ ہے۔
ہماری حکومتوں کا المیہ یہ رہا ہے کہ ان کی ساری توجہ ایسے منصوبوں پر رہی جن کی افادیت قومی سے زیادہ ذاتی یا گروہی تھی۔ پاکستانی حکومتوں نے زراعت کی ترقی پر توجہ دی نہ پانی ذخیرہ کرنے کے لیے نئے ڈیم بنانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کیں' رہی سہی کسر قوم پرستی کے نام پر سیاست کرنے والی جماعتوں کی قیادت نے نکال دی۔ بدقسمتی سے یہ قیادت سطحی سوچ کی حامل ہے لیکن قومی مفاد کے ہر منصوبے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنا اپنا فرض سمجھتی ہے۔ اب ملک اس مقام پر پہنچ گیا ہے کہ اگر پانی کے بحران پر قابو پانے کے لیے کچھ نہ کیا گیا تو آنے والے برسوں میں یہ بحران ناقابل حل ہو جائے گا۔
آبی ذخائر کی ضرورت اور ان کی تعمیر ایک خالصتاً تکنیکی مسئلہ ہے جس میں پیشہ ور ماہرین کے سوا کسی اور کو بولنے کی اجازت ہی نہیں ہونی چاہیے مگر وطن عزیز کی قسمت میں ایسے ایسے قوم پرست کہلوانے والے سیاست دانوں نے انسانی زندگی کے اس سب سے اہم مسئلے پر سیاست کا تڑکہ لگا کر اسے لا ینحل کی منزل پر پہنچا دیا جس کے باعث کسی حکومت کی ہمت نہیں پڑ رہی کہ وہ اس بارے میں کوئی پیش رفت کرے حتیٰ کہ جن بڑے آبی ذخائر کی تعمیر کے لیے سالہا سال کی فز یبلیٹی کے بعد اربوں روپے کی بھاری مشینری سائٹ پر پہنچائی گئی وہ وہاں کھلے آسمان تلے پڑے پڑے ناکارہ ہو رہی ہے۔
بڑے ڈیموں کے خلاف چلائی جانے والی تحریکوں میں کچھ حصہ ہمارے ضرر رساں پڑوسی کا بھی بتایا جاتا ہے جو بقول شخصے ہمارے پاک وطن کو لق دق صحرا میں تبدل کرنے کی سازش تیار کیے بیٹھا ہے جب کہ خود ڈیم پر ڈیم بنائے چلا جا رہا ہے۔ پاکستان کا نمایندہ عالمی عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو وہاں بھی ہمارے پڑوسیوں کی ہی بات مانی جاتی ہے۔ اس اہم مسئلے کے حل کی جو تجویز ارسا نے دی ہے حکومت کو چاہیے کہ ارسا کی تجویز پر فوری طور پر عمل درآمد شروع کر دے اور پانچ سال کے لیے تمام ترقیاتی فنڈز ڈیم سازی کے لیے مختص کر دے اور مخالفانہ سیاست بازیوں کی پرواہ نہ کرے۔
ارسا نے کسی اہم آبی ذخائر کا نام تو نہیں لیا مگر یہ ضرور کہا ہے کہ کم از کم 22 ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) پانی کے ذخیرے کی صلاحیت جلد از جلد حاصل کی جانی چاہیے۔ ارسا کے چیئرمین رقیب خان نے سیکریٹری پانی و بجلی کے نام لکھے مراسلے میں کہا ہے کہ تمام ترقیاتی فنڈز کا رخ ترجیحی بنیاد پر میگا ذخائر کی تعمیر کے لیے موڑ دیا جانا چاہیے کیونکہ 30 ایم اے ایف سے زیادہ پانی سمندر میں جا رہا ہے اور سیلابوں سے ہونے والا جانی و مالی نقصان اس کے علاوہ ہے۔
ہماری حکومتوں کا المیہ یہ رہا ہے کہ ان کی ساری توجہ ایسے منصوبوں پر رہی جن کی افادیت قومی سے زیادہ ذاتی یا گروہی تھی۔ پاکستانی حکومتوں نے زراعت کی ترقی پر توجہ دی نہ پانی ذخیرہ کرنے کے لیے نئے ڈیم بنانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کیں' رہی سہی کسر قوم پرستی کے نام پر سیاست کرنے والی جماعتوں کی قیادت نے نکال دی۔ بدقسمتی سے یہ قیادت سطحی سوچ کی حامل ہے لیکن قومی مفاد کے ہر منصوبے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنا اپنا فرض سمجھتی ہے۔ اب ملک اس مقام پر پہنچ گیا ہے کہ اگر پانی کے بحران پر قابو پانے کے لیے کچھ نہ کیا گیا تو آنے والے برسوں میں یہ بحران ناقابل حل ہو جائے گا۔