فارنسنگ ڈویژن لائسنس شدہ اسلحے اور گولیوں کا کمپیوٹرائزڈ ریکار ڈ تیار کرنے کا فیصلہ
فروخت کیے جانے والے اسلحےسےایک فائرکرکے اس کا خول پولیس اہلکار اسلحہ کی دکان سے وصول کر کے فارنسک ڈویژن پہنچائے گا.
فروخت کیے جانے والے اسلحےسےایک فائرکرکے اس کا خول پولیس اہلکار اسلحہ کی دکان سے وصول کر کے فارنسک ڈویژن پہنچائے گا. فوٹو: فائل
GUJRANWALA:
آئی جی سندھ فیاض لغاری کی زیر صدارت اجلاس میں محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے جاری کیے جانے والے اسلحہ لائسنس کے تحت
خریدے جانے والے اسلحے اور گولیوں کا ڈیٹا بیس کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ محکمہ فارنسک ڈویژن سندھ پولیس میں مرحلہ وار تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں تمام ڈویژنل اے ایس پیز متعلقہ علاقوں میں قائم اسلحے کی دکانوں کے مالکان کو قانون کے مطابق آگاہ کریں گے اور خریدے جانے والے اسلحے و گولیوں کے ریکارڈ سے پولیس کو آگاہ کریں اور فروخت کیے جانے والے اسلحے سے ایک فائر کرکے اس کا خول متعلقہ معلومات کے ساتھ پولیس کو فراہم کریں،ہر تھانے میں ایک مقرر کردہ پولیس اہلکار اسلحہ کی دکان سے خول وصول کر کے فارنسک ڈویژن سندھ پولیس کو پہنچانے کا ذمے دار ہوگا ۔
بعدازاں فارنسک ڈویژن فائر آرمز اور بیلسٹک سہولت سے خول کا ریکارڈ محفوظ کرلے گا،اجلاس میں اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ مقدمات کے تفتیشی عمل کو موثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے کرائم سین سے حاصل ہونیوالے خالی خول اور پولیس مقابلوں میں اور چھاپہ مار کارروائیوں میں گرفتار ہونے والے ملزمان سے برآمد ہونے والے اسلحے اور گولیوں کا بھی ریکارڈ ڈیٹا بیس میں شامل کیا جائے گا اور ا س سلسلے میں متعلقہ انفارمیشن آفیسر 24 گھنٹوں میں حاصل یا برآمد ہونے والا اسلحہ و خول فارنسک ڈویژن سندھ پولیس کو پہنچانے کا پابند ہوگا ۔
اے آئی جی فارنسک ڈویژن منیر احمد شیخ نے اس موقع پر اجلاس میں تفتیشی عمل میں پیش آنے والی مشکلات اورکمزوریوںکا بھی مکمل طور پر احاطہ کیا جس پر آئی جی سندھ نے ان کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز کو سراہتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی کو احکامات جاری کیے ہیں کہ تفتیشی یونٹ کے انسپکٹرز اور سب انسپکٹرز رینک کے افسران کے لیے ورکشاپ کا انعقاد کیا جائے۔
آئی جی سندھ فیاض لغاری کی زیر صدارت اجلاس میں محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے جاری کیے جانے والے اسلحہ لائسنس کے تحت
خریدے جانے والے اسلحے اور گولیوں کا ڈیٹا بیس کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ محکمہ فارنسک ڈویژن سندھ پولیس میں مرحلہ وار تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں تمام ڈویژنل اے ایس پیز متعلقہ علاقوں میں قائم اسلحے کی دکانوں کے مالکان کو قانون کے مطابق آگاہ کریں گے اور خریدے جانے والے اسلحے و گولیوں کے ریکارڈ سے پولیس کو آگاہ کریں اور فروخت کیے جانے والے اسلحے سے ایک فائر کرکے اس کا خول متعلقہ معلومات کے ساتھ پولیس کو فراہم کریں،ہر تھانے میں ایک مقرر کردہ پولیس اہلکار اسلحہ کی دکان سے خول وصول کر کے فارنسک ڈویژن سندھ پولیس کو پہنچانے کا ذمے دار ہوگا ۔
بعدازاں فارنسک ڈویژن فائر آرمز اور بیلسٹک سہولت سے خول کا ریکارڈ محفوظ کرلے گا،اجلاس میں اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ مقدمات کے تفتیشی عمل کو موثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے کرائم سین سے حاصل ہونیوالے خالی خول اور پولیس مقابلوں میں اور چھاپہ مار کارروائیوں میں گرفتار ہونے والے ملزمان سے برآمد ہونے والے اسلحے اور گولیوں کا بھی ریکارڈ ڈیٹا بیس میں شامل کیا جائے گا اور ا س سلسلے میں متعلقہ انفارمیشن آفیسر 24 گھنٹوں میں حاصل یا برآمد ہونے والا اسلحہ و خول فارنسک ڈویژن سندھ پولیس کو پہنچانے کا پابند ہوگا ۔
اے آئی جی فارنسک ڈویژن منیر احمد شیخ نے اس موقع پر اجلاس میں تفتیشی عمل میں پیش آنے والی مشکلات اورکمزوریوںکا بھی مکمل طور پر احاطہ کیا جس پر آئی جی سندھ نے ان کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز کو سراہتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی کو احکامات جاری کیے ہیں کہ تفتیشی یونٹ کے انسپکٹرز اور سب انسپکٹرز رینک کے افسران کے لیے ورکشاپ کا انعقاد کیا جائے۔