کراچی کے گمشدہ تشخص کی تلاش
کراچی کی صورت حال خاصی تشویش ناک اور خدشات سے لبریز ہے ۔
آج منی پاکستان کو اپنا گمشدہ تشخص دوبارہ چاہیے فوٹو:فائل
KARACHI:
کراچی کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کے نتیجے میں اے ایس آئی سمیت4پولیس اہلکار شہیدجب کہ دیگر واقعات میں 2افراد مارے گئے۔ علی الصبح نائن زیرو پر چھاپہ کے خلاف رد عمل میں ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے پر امن سوگ اور احتجاج کا اعلان کیا ، جس کے بعد کاروبار اور ٹرانسپورٹ بند رہی ، اسکولوں میں امتحانات سمیت زندگی کے معمولات متاثر ہوئے۔
ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے اپنے کارکنوں کو پر امن رہنے اور جذبات کو قابو میں رکھنے کی ہدایت کی ۔ ادھر رینجرز کا کہنا ہے کہ اس نے ممنوعہ اسلحہ برآمد کیا ہے اور ملزمان کو حراست میں لیا ہے ۔
دریں اثنا وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے اس واقعہ کی فوری رپورٹ طلب کی ہے، علاوہ ازیں کلفٹن میں بھتے کی پرچی دینے والے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا گیا جس نے کلفٹن شون سرکل کے قریب واقع آفس میں ساڑھے12لاکھ روپے کے بھتے کی پرچی دی تھی۔ دوسری طرف لیاری میں حالات مخدوش ہیں۔
بلاشبہ کراچی کے یکے بعد دیگرے المیوں پر خامہ فرسائی کرتے ہوئے تجزیہ نگاروں کے قلم خشک ہوگئے مگر اس شہر خوش جمال کو امن نصیب نہیں ہوا۔ کوششیں بظاہر ہر حکومت نے کیں مگر سب نیم دلانہ تھیں، کرپشن ، اقربا پروری ، بے انصافی، جرائم اور بدامنی کا سفر بلا روک ٹوک جاری رہا، چنانچہ تجاہل عارفانہ اور ایڈہاک ازم نے جہاں اداروں کو ملک گیر سطح پر زوال سے دوچار کیا وہاں قانون کے احترام کی روایت کا بھی زندگی کے ہر شعبے میں جنازہ نکلا ۔
کراچی کی آتش فشانی عرصہ دراز سے ٹھوس اور مربوط سنجیدہ اقدامات کی متقاضی تھی مگر وقت ہاتھ سے نکلتا چلا گیا ، یہاں تک کہ سپریم کورٹ نے کراچی کی بدامنی پر اپنی عہد ساز رولنگ بھی دی ۔ خبردار کیا ۔ لیکن کیا ہوا؟ مجرمانہ قوتوں کو بدستور مہمیز ملی ، شہری قتل ہوتے رہے، آج منی پاکستان کو اس کے سنجیدہ مبصرین نے ایک مشکل شہر قرار دیا ہے، کسی کا کہنا ہے کہ یہاں انسانی خون سستا ہے، ہر طرف موت اور خوف کے سائے پھیلے ہوئے ہیں۔ عالمی میڈیا بھی اسی انداز میں سوچتا ہے۔
پولیس کے مطابق منگل کو ایم اے جناح روڈ رمپا پلازہ کے قریب پریڈی پولیس کی موبائل پر موٹرسائیکل سوار دہشتگردوں نے فائرنگ کی جس سے پولیس اہلکار جاں بحق اور زخمی ہوگئے۔
بعدازاں ایک اہلکار سول اسپتال میں دم توڑگیا، واقعے کے کچھ ہی منٹ بعد لائٹ ہاؤس گاڑی کھاتہ عباس بیکری کے قریب موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں کی فائرنگ سے شاہین فورس کے موٹرسائیکل سوار ہیڈ کانسٹیبل اور کانسٹیبل زخمی ہوگئے، جنھیں انتہائی تشویشناک حالت میں سول اسپتال لے جایا گیا جہاں ایک پولیس اہلکار زندگی کی بازی ہار گیا۔
شہریوں کو شکایت ہے کہ ہر الم ناک واردات کے بعد ملزمان بڑی آسانی سے فرار ہوجاتے ہیں، جب کہ ہر طرف پولیس اور رینجرز کے دستے اور ناکہ بندیاں ہیں ، تاہم اس جانب نظر ڈالنے کی اشد ضرورت ہے کہ کراچی اب دو کروڑ کثیر القومی آبادی کا ایک انتہائی پیچیدہ میگا سٹی ہے۔
جس میں داخلے کے راستے غالباً ہر مجرم اور غیر ملکی تارکین وطن کے لیے کھلے ہوئے ہیں، یہ 'فری فار آل' شہر بنا ہوا ہے ، اور جسے اسٹریٹ کرمنلز ، دہشت گردوں ، کالعدم تنظیموں اور مسلکی شدت پسندوں نے سیاسی اسٹیک ہولڈرز کی باہمی کشمکش اور سیاسی ناچاقیوں کے باعث اپنا جنگل بنا لیا ہے اور اس میں ان کا ہی جنگل کا قانون چلتا رہا ہے۔اسلحہ شہر کی روح کو سلب کرچکا ہے۔
لیکن آج لاقانونیت پر آہنی گرفت کا لمحہ آگیا ہے ۔ ہیجان کی ایک وجہ یہ بھی ہے کیونکہ کراچی کی صورتحال خاصی تشویش ناک ہے اور خدشات سے لبریز بھی ۔
یہ تشویش ٹارگٹ کلنگ کے تسلسل، اغوا برائے تاوان ، سیاسی چھتری تلے جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی ، ڈرگ و لینڈ مافیا کی چیرہ دستیوں اور بھتہ خوری کی وارداتوں کے نتیجہ میں پیدا شدہ بدامنی اور بے یقینی کے بطن سے اٹھتی ہے اور ملک بھر میں وقتاً فوقتاً ایک ارتعاش سا برپا کرتی ہے، مسئلہ یہ بھی ہے کہ جرائم اور سیاست گڈ مڈ سے ہوگئے ہیں اور ماہرین سماجیات و جرمیات یہ بتانے کی پوزیشن میں نہیں کہ کہاں سیاست کی حد ختم اور کہاں جرائم کی شروع ہوتی ہے۔
کراچی کو سونے کی سیاسی چڑیا سمجھنے والے ارباب اختیار اور با اثر مفاد پرست گروپوں نے اسے مافیاؤں کی نذر کردیا ہے۔ درد انگیز حقیقت یہ ہے کہ اہل وطن کے سرشار دل کو منی پاکستان ہونے پر جو ناز تھا وہ دل ہی نہ رہا اور رفتہ رفتہ کراچی کا سیاسی حسن اجڑتا رہا ، تہذیبی اور سماجی قدروں کو گھن لگ گیا ، خوئے بندہ پروری رخصت ہوئی، جرائم پیشہ عناصر نے منی پاکستان کے اندر چھوٹی چھوٹی ریاستیں بنا لیں ، جمہوری قدروں پر یقین رکھنے والی سیاسی جماعتوں نے بھی اپنے عسکری ونگز بنائے اور پھر رہی سہی کسر دہشت گردی کی لہر در لہر نے پوری کر دی۔
اس وقت کراچی دنیا کا خطرناک شہر کہلاتا ہے، جو کسی زمانے میں روشنیوں کا شہر یا عروس البلاد کے نام سے اپنی ایک الگ شناخت رکھتا تھا۔آج منی پاکستان کو اپنا گمشدہ تشخص دوبارہ چاہیے۔ یہی تمام محب وطن پاکستانیوں کی اپیل ہے۔
کراچی کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کے نتیجے میں اے ایس آئی سمیت4پولیس اہلکار شہیدجب کہ دیگر واقعات میں 2افراد مارے گئے۔ علی الصبح نائن زیرو پر چھاپہ کے خلاف رد عمل میں ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے پر امن سوگ اور احتجاج کا اعلان کیا ، جس کے بعد کاروبار اور ٹرانسپورٹ بند رہی ، اسکولوں میں امتحانات سمیت زندگی کے معمولات متاثر ہوئے۔
ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے اپنے کارکنوں کو پر امن رہنے اور جذبات کو قابو میں رکھنے کی ہدایت کی ۔ ادھر رینجرز کا کہنا ہے کہ اس نے ممنوعہ اسلحہ برآمد کیا ہے اور ملزمان کو حراست میں لیا ہے ۔
دریں اثنا وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے اس واقعہ کی فوری رپورٹ طلب کی ہے، علاوہ ازیں کلفٹن میں بھتے کی پرچی دینے والے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا گیا جس نے کلفٹن شون سرکل کے قریب واقع آفس میں ساڑھے12لاکھ روپے کے بھتے کی پرچی دی تھی۔ دوسری طرف لیاری میں حالات مخدوش ہیں۔
بلاشبہ کراچی کے یکے بعد دیگرے المیوں پر خامہ فرسائی کرتے ہوئے تجزیہ نگاروں کے قلم خشک ہوگئے مگر اس شہر خوش جمال کو امن نصیب نہیں ہوا۔ کوششیں بظاہر ہر حکومت نے کیں مگر سب نیم دلانہ تھیں، کرپشن ، اقربا پروری ، بے انصافی، جرائم اور بدامنی کا سفر بلا روک ٹوک جاری رہا، چنانچہ تجاہل عارفانہ اور ایڈہاک ازم نے جہاں اداروں کو ملک گیر سطح پر زوال سے دوچار کیا وہاں قانون کے احترام کی روایت کا بھی زندگی کے ہر شعبے میں جنازہ نکلا ۔
کراچی کی آتش فشانی عرصہ دراز سے ٹھوس اور مربوط سنجیدہ اقدامات کی متقاضی تھی مگر وقت ہاتھ سے نکلتا چلا گیا ، یہاں تک کہ سپریم کورٹ نے کراچی کی بدامنی پر اپنی عہد ساز رولنگ بھی دی ۔ خبردار کیا ۔ لیکن کیا ہوا؟ مجرمانہ قوتوں کو بدستور مہمیز ملی ، شہری قتل ہوتے رہے، آج منی پاکستان کو اس کے سنجیدہ مبصرین نے ایک مشکل شہر قرار دیا ہے، کسی کا کہنا ہے کہ یہاں انسانی خون سستا ہے، ہر طرف موت اور خوف کے سائے پھیلے ہوئے ہیں۔ عالمی میڈیا بھی اسی انداز میں سوچتا ہے۔
پولیس کے مطابق منگل کو ایم اے جناح روڈ رمپا پلازہ کے قریب پریڈی پولیس کی موبائل پر موٹرسائیکل سوار دہشتگردوں نے فائرنگ کی جس سے پولیس اہلکار جاں بحق اور زخمی ہوگئے۔
بعدازاں ایک اہلکار سول اسپتال میں دم توڑگیا، واقعے کے کچھ ہی منٹ بعد لائٹ ہاؤس گاڑی کھاتہ عباس بیکری کے قریب موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں کی فائرنگ سے شاہین فورس کے موٹرسائیکل سوار ہیڈ کانسٹیبل اور کانسٹیبل زخمی ہوگئے، جنھیں انتہائی تشویشناک حالت میں سول اسپتال لے جایا گیا جہاں ایک پولیس اہلکار زندگی کی بازی ہار گیا۔
شہریوں کو شکایت ہے کہ ہر الم ناک واردات کے بعد ملزمان بڑی آسانی سے فرار ہوجاتے ہیں، جب کہ ہر طرف پولیس اور رینجرز کے دستے اور ناکہ بندیاں ہیں ، تاہم اس جانب نظر ڈالنے کی اشد ضرورت ہے کہ کراچی اب دو کروڑ کثیر القومی آبادی کا ایک انتہائی پیچیدہ میگا سٹی ہے۔
جس میں داخلے کے راستے غالباً ہر مجرم اور غیر ملکی تارکین وطن کے لیے کھلے ہوئے ہیں، یہ 'فری فار آل' شہر بنا ہوا ہے ، اور جسے اسٹریٹ کرمنلز ، دہشت گردوں ، کالعدم تنظیموں اور مسلکی شدت پسندوں نے سیاسی اسٹیک ہولڈرز کی باہمی کشمکش اور سیاسی ناچاقیوں کے باعث اپنا جنگل بنا لیا ہے اور اس میں ان کا ہی جنگل کا قانون چلتا رہا ہے۔اسلحہ شہر کی روح کو سلب کرچکا ہے۔
لیکن آج لاقانونیت پر آہنی گرفت کا لمحہ آگیا ہے ۔ ہیجان کی ایک وجہ یہ بھی ہے کیونکہ کراچی کی صورتحال خاصی تشویش ناک ہے اور خدشات سے لبریز بھی ۔
یہ تشویش ٹارگٹ کلنگ کے تسلسل، اغوا برائے تاوان ، سیاسی چھتری تلے جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی ، ڈرگ و لینڈ مافیا کی چیرہ دستیوں اور بھتہ خوری کی وارداتوں کے نتیجہ میں پیدا شدہ بدامنی اور بے یقینی کے بطن سے اٹھتی ہے اور ملک بھر میں وقتاً فوقتاً ایک ارتعاش سا برپا کرتی ہے، مسئلہ یہ بھی ہے کہ جرائم اور سیاست گڈ مڈ سے ہوگئے ہیں اور ماہرین سماجیات و جرمیات یہ بتانے کی پوزیشن میں نہیں کہ کہاں سیاست کی حد ختم اور کہاں جرائم کی شروع ہوتی ہے۔
کراچی کو سونے کی سیاسی چڑیا سمجھنے والے ارباب اختیار اور با اثر مفاد پرست گروپوں نے اسے مافیاؤں کی نذر کردیا ہے۔ درد انگیز حقیقت یہ ہے کہ اہل وطن کے سرشار دل کو منی پاکستان ہونے پر جو ناز تھا وہ دل ہی نہ رہا اور رفتہ رفتہ کراچی کا سیاسی حسن اجڑتا رہا ، تہذیبی اور سماجی قدروں کو گھن لگ گیا ، خوئے بندہ پروری رخصت ہوئی، جرائم پیشہ عناصر نے منی پاکستان کے اندر چھوٹی چھوٹی ریاستیں بنا لیں ، جمہوری قدروں پر یقین رکھنے والی سیاسی جماعتوں نے بھی اپنے عسکری ونگز بنائے اور پھر رہی سہی کسر دہشت گردی کی لہر در لہر نے پوری کر دی۔
اس وقت کراچی دنیا کا خطرناک شہر کہلاتا ہے، جو کسی زمانے میں روشنیوں کا شہر یا عروس البلاد کے نام سے اپنی ایک الگ شناخت رکھتا تھا۔آج منی پاکستان کو اپنا گمشدہ تشخص دوبارہ چاہیے۔ یہی تمام محب وطن پاکستانیوں کی اپیل ہے۔