ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی

بنی اسرائیل تو وہ ہیں جو اپنے ٹھنڈے ٹھنڈے سوالوں سے پیغمبروں کو زچ کر ڈالیں اور وہ نہ ہوں تو قتل کا آپشن تو ہے ہی

کارپوریٹ کلچر میں ہر طرح کے مفادات کارپوریٹ ہو چکے ہیں فوٹو: فائل

بنی اسرائیل تو وہ ہیں جو اپنے ٹھنڈے ٹھنڈے سوالوں سے پیغمبروں کو زچ کر ڈالیں اور وہ نہ ہوں تو قتل کا آپشن تو ہے ہی، پھر ایسا کیا ہوا کہ نتن یاہو کی ایڑی میں لگی اور تالو میں بجھی؟ ہوا کے گھوڑے پہ سوار آئے اور کانگریس میں دو چار دھمکیاں دے کر چلے گئے۔ انھیں امریکی صدر پہ غصہ تھا جو حال ہی میں ایران کے ساتھ نیوکلیر ڈیل کرنے جا رہے ہیں۔

ان کا خیال تھا کہ یہ ایک بہت بری ڈیل ہو گی اور ایران کو ایک نیوکلیر طاقت بننے کی راہ ہموار کرے گی۔ اس برافروختگی کا جواب ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے ظریفانہ دیتے ہوئے کہا کہ میاں کاہے کو اتنا غصہ؟ ہماری تاریخ تو پڑھ لیتے۔

ایران میں مقیم یہودی دنیا کے قدیم ترین یہودیوں میں سے ایک ہیں۔ ماضی قریب میں رضا شاہ پہلوی کے زمانے سے لے کر حسن روحانی تک انھیں ایران میں کوئی خاص پریشانی پیش نہ آئی۔ گو اسرائیل کے متعلق سخت بیانات مختلف ادوار میں سامنے آتے رہے جس میں مرگ بر اسرائیل سے لے کر اسے صفحہ ہستی سے مٹا دینے کے عزم کا اظہار ہوتا رہا۔

موجودہ صدرحسن روحانی کے دور میں ایران میں مقیم تیس ہزار سے زائد یہودیوں کو جنھیں اب یوم السبت پہ تعطیل کی سہولت بھی حاصل ہے، مخیر اسرائیلی یا صیہونی یہودیوں کی طرف سے فی کس 5ہزار یورو اور اسرائیل میں مستقل قیام کی پیشکش ہوئی جسے انھوں نے نہایت حقارت سے ٹھکرا دیا اور کہا کہ اسرائیل کو ابھی ہفتہ ہفتہ آٹھ دن نہیں ہوئے اور ہماری قیمت لگانے چلا ہے؟ ہم جو سرزمین ایران کے قدیم ترین شہری ہیں اور اس نسبت پہ ہمیں فخر ہے۔

کچھ گھر کے بھیدیوں نے اور فسادی خیالات رکھنے والے مسلمانوں نے البتہ اس کی ایک خفیہ سی وجہ بتائی ہے جس میں ملحمۃ الکبری کے سلسلے میں ایران میں مقیم یہودیوں کے کردار کا تذکرہ ہے، خیر دشمنوں کا کام ہی افواہیں اڑانا ہے۔ بھلے لوگ ایسی باتوں پہ دھیان نہیں دیتے۔ ہاں دسمبر ۲۰۱۴ میں ایرانی پارلیمنٹ کے وائس اسپیکر ابوحسن ترابی نے ایک باقاعدہ تقریب میں ان یہودیوں کو خراج تحسین پیش کیا جو 8سالہ ایران عراق جنگ میں ایران کی طرف سے ''شہید'' ہوئے۔

جس ڈائس پہ کھڑے ہو کر انھوں نے تقریر کی اس پہ ایرانی پرچم کے علاوہ یروشلم کے یہودیوں کا خاص مذہبی نشان جو سات شمعوں پہ مشتمل ہے، آویزاں تھا۔ اقلیتوں کی تالیف قلب کی ایسی اشک آور مثال باقی مسلم دنیا شاید ہی پیش کر سکے۔ پچھلے ہی سال حسن روحانی اپنے اقوام متحدہ کے دورے پہ یہودی پارلیمینٹرین کو بھی لے گئے تھے۔ اسلام میں کسی یہودی کو ساتھ لیے لیے پھرنے پہ کوئی پابندی ہے کیا؟

نتن یاہو تو ٹھہرے احسان فراموش، اس نسل کے امین جس نے پیغمبروں کا بھی ادھار نہ رکھا لیکن یہ امریکیوں کو کیا ہوا؟ سینتالیس ریپبلکن سینیٹروں نے ایک 'محبت نامہ' براہ راست ایران کو لکھ مارا۔ جس پہ مکتوب الیہ نے کہا کہ تم میں تو ترک تعلق کا سلیقہ بھی نہیں۔ اس خط میں جوTom Cotton نے لکھا دو ٹوک کہہ دیا کہ بھائی ڈیل کرنی ہے تو اپنی ذمے داری پہ کرنا کیونکہ اوباما نے تو جلد یا بدیر چلے جانا ہے ہم کہیں جانے والے نہیں۔ اس لیے ڈیل کے مندرجات اور شرائط تبدیل ہوتے دیر نہیں لگے گی۔

واضح رہے کہ یہ ڈیل P5+1 کے درمیان ہو گی۔ جس میں1 کا مطلب ایران جب کہ P5 کا مطلب چین، فرانس، برطانیہ، روس اور جرمنی ہیں۔ اپنے ای میل اسکینڈل سے پریشان ہلیری کلنٹن نے اسے ایران کی مدد کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

انھوں نے کھل کے تو نہیں کہا لیکن مطلب ان کا یہی تھا کہ اس چھچھوری حرکت سے ہمارے صدر کی ہیٹی ہوئی ہے اور یہ ایران کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔ ادھر ایک اور صاحب Earl Blumenauer جو ڈیموکریٹ اور انیس سال سے کانگریس کے ممبر ہیں، سخت ناراض ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا نے اپنی تاریخ کی بدترین غلطی عراق پہ حملہ کر کے کی تھی جس نے چار ممالک کو ایران کے کنٹرول میں دے دیا تھا۔ اب یہ ڈیل ہونے جا رہی ہے دیکھئے کیا رنگ دکھائے گی۔

حالانکہ ایران میں اسرائیل کے لیے بڑے مثبت جذبات موجود ہیں اور میں خود اس کا گواہ ہوں۔ نتن یاہو نے بے صبری کا مظاہرہ کر کے ان جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ لیکن ہمارے پاس کوئی آپشن موجود نہیں، یہ ڈیل تو کرنی ہی پڑے گی۔


یہ ڈیل ہے کیا؟ اس کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ ایک بات البتہ طے ہے کہ امریکا نے ایران سے شام میں اسلامک اسٹیٹ کے خلاف باقاعدہ مدد مانگی ہے۔ کچھ ایران کے حمایت یافتہ گروپ تو پہلے ہی اس کے خلاف بر سر پیکار ہیں۔ اس کے بدلے میں ایران کو یقینی طور پہ کچھ مراعات حاصل ہونگی جس پہ نتن یاہو نے کافی ہا ہو کی ہے۔

مسئلہ اس گیس پائپ لائن کا بھی ہے جو ایران شام اور ترکی کے درمیان بچھائی جانیوالی تھی لیکن اس کا ٹھیکہ لینے والی سوئس کمپنی نے ایران پہ عائد پابندیوں کی وجہ سے اس پہ کام کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ شنید ہے کہ اس پہ بھی کچھ بات چیت ہو گی لیکن بات اتنی ہی ہوتی تو اتنا شور کاہے کا ہوتا۔ بات تو کچھ ایسی ہے جس پہ سعودیہ کو تشویش ہو گئی ہے۔

اگر P5+1 ڈیل ہو جاتی ہے تو سعودیہ کو خطے میں تنہائی کا خوف لاحق ہو گیا ہے کیونکہ اس صورت میں 5بڑے ممالک کی سپورٹ ایران کو حاصل ہو جائے گی جس کے ساتھ اقوام متحدہ کا تحفظ بھی حاصل ہو گا ا ور ممکن ہے کسی خفیہ معاہدے کے تحت وہ نیوکلیر ایران بننے کا خواب بھی پورا کر لے۔ اسی خوف کے زیر اثر سعودیہ نے Gulf Cooperation Council (GCC) پہ توجہ دینی شروع کر دی ہے لیکن یہاں دو رکن ممالک قطر اور عمان ذرا کمزور پتے ہیں جن کے روابط ایران سے ہیں۔

اس کے علاوہ سعودیہ کے بالکل پچھواڑے میں یمن ہے جہاں حال ہی میں شیعہ حوثی قابض ہو گئے ہیں حتی کہ صنعا۔تہران پروازیں بھی شروع ہو گئی ہیں اور وہاں سے سعودیہ سمیت تمام GCC ممالک کو اپنے اپنے سفارتخانے صنعا سے عدن منتقل کرنے پڑے ہیں۔ اب لے دے کے ایک مصر رہ جاتا ہے جو سعودیہ کا ایک مضبوط اتحادی سمجھا جاتا ہے جہاں اخوان کی حکومت کا تختہ الٹ کے آنے والے جنرل سیسی کو اس کی حمایت حاصل ہے اور حال ہی میں شاہ سلمان انھیں پکا کر کے آئے ہیں لیکن ننگی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا۔ وہاں کے حالات سب کے سامنے ہیں۔ عراق میں اسلامک اسٹیٹ کے خلاف ایران امریکا اتحاد بھی باعث تشویش ہے۔

شام میں حالات دونوں کے لیے پریشان کن ہیں۔ لبنانی آرمی کو البتہ تیل پانی دیا جا رہا ہے کیونکہ ڈیل کی صورت میں حزب اللہ خطرہ بن سکتی ہے۔ احقر کا خیال ہے کہ حال ہی میں سعودیہ کی ہتھیاروں کی تیزی سے اور بڑی خریداری کا ایک بڑا حصہ ادھر خرچ ہوا ہے۔

یادش بخیر لبنان کی طویل خانہ جنگی کے بعد نامعلوم وجوہات کی بنا پہ حزب اللہ کو سیف ایکزٹ دیا گیا تھا۔ گزشتہ دن اسرائیلی آرمی نے اپنے دفاعی نظام کی ناکارگی کا رونا رویا ہے اور کہا ہے کہ کسی ممکنہ حملے کی صورت میں ہمارا برا حشر ہونے والا ہے۔ احقر کے شیطانی دماغ نے پھر ایک وسوسہ اگلا ہے کہ مستقبل قریب میں ایک عرب ۔ اسرائیل جھڑپ متوقع ہے جس میں فتح حق یعنی حزب اللہ کی ہو گی۔

اب بچا پاکستان جو اب تک کی واحد اسلامی ایٹمی ریاست ہے۔ پچھلے سال سعودی عرب نے پہلی بار اپنے چین ساختہ بلاسٹک میزائیلوں کی نمائش کی جو تہران تک پہنچ رکھتے ہیں۔ اس موقع پہ ہمارے سپہ سالار بھی موجود تھے۔ فروری میں ہونے والی شاہ، نواز ملاقات میں شاہ سلمان نے پاکستان سے ایران کی ہونے والی ہر طرح کی ڈیل کی صورت میں سعودیہ کا ساتھ نبھانے کا پکا وعدہ لیا ہے۔ کچھ دن پہلے ہونے والی ملاقات میں اسلامک اسٹیٹ کے خلاف پاکستان سے مدد بھی مانگی جسے بوجوہ ٹال دیا گیا۔

یہ مدد امریکا کے مبینہ اشارے پہ مانگی گئی تھی۔ امریکا P5+1 کے اجلاس تک سعودیہ اور ایران دونوں کو مخمصے میں رکھنا چاہتا ہے لیکن ایک سنی نیوکلئر اسٹیٹ کے ساتھ ایک شیعہ نیوکلر اسٹیٹ بھی بن جائے تو رنگ خوب جمے گا اس لیے سعودیہ کو فی الحال آسرے ہی دیے جا رہے ہیں اور یہی اس کی تشویش کی وجہ بھی ہے۔

ملحمۃ الکبری سے متعلق احادیث میں ایک ایسے ہتھیار کے استعمال کا تذکرہ ملتا ہے جو اڑنے والے پرندوں تک کو جلا کر راکھ کر دیگا۔ ظاہر ہے روایتی ہتھیار ایسی صلاحیت نہیں رکھتے۔ دوسری طرف چین کی ثالثی کے نتیجے میں اگر طالبان افغان حکومت کا حصہ بن جاتے ہیں تو ناراض جہادیوں کی ایک بڑی تعداد داعش میں شامل ہو جائے گی اور یہ امریکا ہی نہیں چین کو بھی منظور نہ ہو گا۔

بے شمار سخن ہائے گفتنی جو خوف فساد خلق سے ناگفتہ رہ گئے ایک بات تو ثابت کرتے ہیں کہ وقت کے فرعونوں پہ وقت پڑ گیا ہے اور آل موسی پھر ایک بچھڑے کو پجوانے کے جتن کر رہے ہیں۔
Load Next Story