جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مشترکہ جدوجہد کی ضرورت
سیاسی جماعتوں کو قانونی اداروں کی راہوں میں رکاوٹ ڈالنے کے بجائے جرائم پیشہ عناصر تک پہنچنے میں مدد دینی چاہیے ۔
مناسب ہوگا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے، سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی ملک و شہر کے وسیع ترمفاد میں قیام امن کی مشترکہ حکمت عملی مرتب کریں۔ فوٹو:ایکسپریس/راشد ا جمیری
ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے اور 65 فیصد ریونیو دینے والا غریب پرور شہر جو قائداعظم کی جنم بھومی ہونے کے ناتے شہر قائد بھی کہلاتا ہے، ایک عرصے سے عذاب نارسائی کا دکھ جھیل رہا ہے۔ وہ شہر جس نے ملک بھر کے لوگوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے اپنے دامن میں سمیٹ لیا آج خود امان کو ترس رہا ہے۔
روشنیوں کے شہر میں رہنے والوں کے گھر اندھیر ہوئے جاتے ہیں، نفسانفسی، کرب و الم اور یاسیت نے عروس البلاد کی شاموں کو غمگین کردیا ہے۔ کوئی دن نہیں گزرتا جب اس شہر کے کسی نہ کسی گھر میں نوحوں کی صدائیں نہ بلند ہوتی ہوں، دس بارہ جانوں کا روز گزر جانا معمول کی بات ہے، اغوا، چوری، ڈکیتی، بھتہ خوری، لوٹ مار، ٹارگٹ کلنگ کون سا ایسا جرم ہے جو شہر ناپرساں کو کھوکھلا نہیں کررہا۔
اسٹیک ہولڈرز کی سیاسی چشمک اور شہر پر اجارہ داری قائم کرنے کی خواہش بھی بدحالی کا باعث بن رہی ہے۔آئے روز ہونے والی ہڑتالوں، جلسے جلوسوں اور احتجاج نے معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے، روز مرہ کام کرنے والے اور مزدور طبقہ عوام ایک دن کی ہڑتال کے باعث اپنے گھر کا چولہا جلانے سے قاصر ہوجاتے ہیں۔
بدھ کو شہر میں رونما ہونے والے واقعہ اور کارکن کی ہلاکت کے بعد جہاں شہر کے حالات کشیدہ ہوئے وہیں، ٹرانسپورٹ اور کاروبار بند ہونے کے باعث ہُو کا عالم طاری رہا، مصروف ترین شاہراہیں ویران رہیں تو تعلیمی ادارے بند ہونے اور پرچہ جات ملتوی ہونے کے سبب طلبا غیریقینی کیفیت کا شکار رہے۔احتجاج اور یوم سوگ کا احاطہ جمعرات کو بھی جاری رہا۔ لیکن جو خدشہ تھا کہ حالات خراب ہوجائیں گے اس معاملے میں ہوشمندی کا مظاہرہ کیا گیا اور حالات بتدریج معمول پر آتے گئے۔
کراچی کا مسئلہ جرائم کے خاتمے اور قانون کی بحالی سے مشروط ہے۔ جرائم پیشہ عناصر اپنے مفادات کے غلام ہیں اور اپنے سیاہ کرتوت پر پردہ ڈالنے کے لیے سیاسی چھتری تلے خود کو روپوش رکھنا چاہتے ہیں، ان عناصر کی موجودگی خود سیاسی جماعتوں کے لیے سم قاتل کا درجہ رکھتی ہے، اس سلسلے میں راست اقدام ہوگا کہ تمام سیاسی جماعتیں خود تطہیری عمل سے گزرتے ہوئے دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کو خود سے الگ کریں۔
آئین و قانون کی پاسداری اہم ہے، اس لیے جرائم کے قلع قمع کے لیے قانون کو اپنا راستہ دینا چاہیے، سیاسی جماعتوں کو قانونی اداروں کی راہوں میں رکاوٹ ڈالنے کے بجائے جرائم پیشہ عناصر تک پہنچنے میں مدد دینی چاہیے دوسری جانب بلاتفریق کارروائی ضروری ہے، تاکہ کسی سیاسی جماعت کو شکایت نہ ہو ،اس لیے ہر سمت یکساں کارروائی کی ضرورت ہے۔
مناسب ہوگا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے، سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی ملک و شہر کے وسیع ترمفاد میں قیام امن کی مشترکہ حکمت عملی مرتب کریں۔کراچی کو امن کا تحفہ دینا تمام جمہوری قوتوں کی ذمے داری ہے۔
روشنیوں کے شہر میں رہنے والوں کے گھر اندھیر ہوئے جاتے ہیں، نفسانفسی، کرب و الم اور یاسیت نے عروس البلاد کی شاموں کو غمگین کردیا ہے۔ کوئی دن نہیں گزرتا جب اس شہر کے کسی نہ کسی گھر میں نوحوں کی صدائیں نہ بلند ہوتی ہوں، دس بارہ جانوں کا روز گزر جانا معمول کی بات ہے، اغوا، چوری، ڈکیتی، بھتہ خوری، لوٹ مار، ٹارگٹ کلنگ کون سا ایسا جرم ہے جو شہر ناپرساں کو کھوکھلا نہیں کررہا۔
اسٹیک ہولڈرز کی سیاسی چشمک اور شہر پر اجارہ داری قائم کرنے کی خواہش بھی بدحالی کا باعث بن رہی ہے۔آئے روز ہونے والی ہڑتالوں، جلسے جلوسوں اور احتجاج نے معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے، روز مرہ کام کرنے والے اور مزدور طبقہ عوام ایک دن کی ہڑتال کے باعث اپنے گھر کا چولہا جلانے سے قاصر ہوجاتے ہیں۔
بدھ کو شہر میں رونما ہونے والے واقعہ اور کارکن کی ہلاکت کے بعد جہاں شہر کے حالات کشیدہ ہوئے وہیں، ٹرانسپورٹ اور کاروبار بند ہونے کے باعث ہُو کا عالم طاری رہا، مصروف ترین شاہراہیں ویران رہیں تو تعلیمی ادارے بند ہونے اور پرچہ جات ملتوی ہونے کے سبب طلبا غیریقینی کیفیت کا شکار رہے۔احتجاج اور یوم سوگ کا احاطہ جمعرات کو بھی جاری رہا۔ لیکن جو خدشہ تھا کہ حالات خراب ہوجائیں گے اس معاملے میں ہوشمندی کا مظاہرہ کیا گیا اور حالات بتدریج معمول پر آتے گئے۔
کراچی کا مسئلہ جرائم کے خاتمے اور قانون کی بحالی سے مشروط ہے۔ جرائم پیشہ عناصر اپنے مفادات کے غلام ہیں اور اپنے سیاہ کرتوت پر پردہ ڈالنے کے لیے سیاسی چھتری تلے خود کو روپوش رکھنا چاہتے ہیں، ان عناصر کی موجودگی خود سیاسی جماعتوں کے لیے سم قاتل کا درجہ رکھتی ہے، اس سلسلے میں راست اقدام ہوگا کہ تمام سیاسی جماعتیں خود تطہیری عمل سے گزرتے ہوئے دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کو خود سے الگ کریں۔
آئین و قانون کی پاسداری اہم ہے، اس لیے جرائم کے قلع قمع کے لیے قانون کو اپنا راستہ دینا چاہیے، سیاسی جماعتوں کو قانونی اداروں کی راہوں میں رکاوٹ ڈالنے کے بجائے جرائم پیشہ عناصر تک پہنچنے میں مدد دینی چاہیے دوسری جانب بلاتفریق کارروائی ضروری ہے، تاکہ کسی سیاسی جماعت کو شکایت نہ ہو ،اس لیے ہر سمت یکساں کارروائی کی ضرورت ہے۔
مناسب ہوگا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے، سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی ملک و شہر کے وسیع ترمفاد میں قیام امن کی مشترکہ حکمت عملی مرتب کریں۔کراچی کو امن کا تحفہ دینا تمام جمہوری قوتوں کی ذمے داری ہے۔