پنجاب اور سندھ نے قابل تقسیم پول سے اپنے حصے کے واجبات مانگ لیے ایف ایف سی اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ
پنجاب ریونیواتھارٹی نے وفاق سے ٹیلی کام کمپنیوںکے معاف کردہ47ارب روپے میں پنجاب کے حصے کی تفصیلات بھی طلب کرلی
مالی ضروریات پوری کرنے کیلیے قابل تقسیم محاصل پول سے سندھ کے واجبات اداکیے جائیں،سندھ حکومت نے بھی درخواست کردی
پنجاب اورسندھ نے قابل تقسیم پول سے اپنے حصے کے واجبات مانگ لیے ہیں۔
پنجاب ریونیواتھارٹی(پی آراے)نے وفاقی سے 3 ارب روپے کے واجبات اورایف بی آر کی طرف سے ٹیلی کام کمپنیوں کے معاف کردہ47 ارب روپے میں پنجاب کے حصے کی تفصیلات مانگ لی ہیں اس کے علاوہ سندھ نے بھی وفاق سے قابل محاصل تقسیم پُول سے اپنے حصے کے واجبات ادا کرنیکی درخواست کی ہے۔
جبکہ وفاق نے این ایف سی ایوارڈ پرعملدرآمدکا جائزہ لینے اوراین ایف سی کے تحت گزشتہ مالی سال کے قابل تقسیم محاصل پُول میں صوبوں کے حصے کے بقایات جات کے تعین کیلیے جلد این ایف سی کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیاہے جس میں چاروں صوبوں کے نمائندے بھی شرکت کریں گے ۔اس ضمن میں وزارت خزانہ کے سینئرافسر نے بتایا کہ پنجاب ریونیواتھارٹی کی طرف سے خطوط لکھے گئے ہیں جن میں سے پہلے خط میں پنجاب ریونیواتھارٹی کی طرف سے وفاق سے کہا گیاہے کہ پنجاب میں سروسزپرسیلز ٹیکس کی وصولی کیلیے چونکہ پنجاب ریونیواتھارٹی قائم ہوچکی ہے اور اس وقت تک پنجاب ریونیو اتھارٹی(پی آر اے)کی طرف سے6ارب روپے سے زائدکی ٹیکس وصولیاں بھی کی جاچکی ہیں۔
لیکن رواں مالی سال کے شروع کے مہینوں کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)پنجاب کی سروسزپربھی ٹیکس وصول کرتارہا ے جو کہ وفاق کا حق نہیں ہے اس لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ہدایت کی جائے کہ پنجاب ریونیو اتھارٹی کے اس مد میں3ارب روپے کے واجبات ادا کیے جائیں اس کے علاوہ پنجاب ریونیواتھارٹی(پی آر اے)کی طرف سے لکھے جانے والے دوسرے خط میں ایف بی آرکی طرف سے ٹیلی کام کمپنیوں کو انٹر کنیکٹ چارجزپرمعاف کردہ47 ارب روپے کے ٹیکس بارے وضاحت مانگی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق پنجاب ریونیو اتھارٹی(پی آر اے)کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ٹیلی کام چونکہ سروسزکے ذمرے میں آتاہے اورسروسز پر وصول کردہ ٹیکس قابل تقسیم محاصل کے پُول کے ذریعے صوبوں میں تقسیم ہوتے ہیں اور صوبوں کاریونیو وفاق کی طرف سے ازخود معاف کیسے اور کیوں کیاگیاہے اور اگر معاف کرنا تھاتو اس بارے میں صوبوں کو بھی اعتماد میں لیناچاہیے تھا۔ذرائع نے بتایا کہ پنجاب ریونیواتھارٹی(پی آر اے)نے وفاق سے کہاہے کہ پنجاب ریونیو اتھارٹی(پی آر اے)کوبتایا جائے کہ ایف بی آر کی طرف سے ٹیلی کام کمپنیوں کے معاف کردہ47ارب روپے میں پنجاب کا کتنا حصہ ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ سندھ حکومت کی طرف سے وفاق سے کہا گیا ہے کہ قابل تقسیم محاصل پُول میں سے سندھ کے باقی رہ جانے والے واجبات بھی ادا کیے جائیں تاکہ سندھ اپنی مالی ضروریات پوری کرسکے۔
پنجاب ریونیواتھارٹی(پی آراے)نے وفاقی سے 3 ارب روپے کے واجبات اورایف بی آر کی طرف سے ٹیلی کام کمپنیوں کے معاف کردہ47 ارب روپے میں پنجاب کے حصے کی تفصیلات مانگ لی ہیں اس کے علاوہ سندھ نے بھی وفاق سے قابل محاصل تقسیم پُول سے اپنے حصے کے واجبات ادا کرنیکی درخواست کی ہے۔
جبکہ وفاق نے این ایف سی ایوارڈ پرعملدرآمدکا جائزہ لینے اوراین ایف سی کے تحت گزشتہ مالی سال کے قابل تقسیم محاصل پُول میں صوبوں کے حصے کے بقایات جات کے تعین کیلیے جلد این ایف سی کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیاہے جس میں چاروں صوبوں کے نمائندے بھی شرکت کریں گے ۔اس ضمن میں وزارت خزانہ کے سینئرافسر نے بتایا کہ پنجاب ریونیواتھارٹی کی طرف سے خطوط لکھے گئے ہیں جن میں سے پہلے خط میں پنجاب ریونیواتھارٹی کی طرف سے وفاق سے کہا گیاہے کہ پنجاب میں سروسزپرسیلز ٹیکس کی وصولی کیلیے چونکہ پنجاب ریونیواتھارٹی قائم ہوچکی ہے اور اس وقت تک پنجاب ریونیو اتھارٹی(پی آر اے)کی طرف سے6ارب روپے سے زائدکی ٹیکس وصولیاں بھی کی جاچکی ہیں۔
لیکن رواں مالی سال کے شروع کے مہینوں کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)پنجاب کی سروسزپربھی ٹیکس وصول کرتارہا ے جو کہ وفاق کا حق نہیں ہے اس لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ہدایت کی جائے کہ پنجاب ریونیو اتھارٹی کے اس مد میں3ارب روپے کے واجبات ادا کیے جائیں اس کے علاوہ پنجاب ریونیواتھارٹی(پی آر اے)کی طرف سے لکھے جانے والے دوسرے خط میں ایف بی آرکی طرف سے ٹیلی کام کمپنیوں کو انٹر کنیکٹ چارجزپرمعاف کردہ47 ارب روپے کے ٹیکس بارے وضاحت مانگی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق پنجاب ریونیو اتھارٹی(پی آر اے)کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ٹیلی کام چونکہ سروسزکے ذمرے میں آتاہے اورسروسز پر وصول کردہ ٹیکس قابل تقسیم محاصل کے پُول کے ذریعے صوبوں میں تقسیم ہوتے ہیں اور صوبوں کاریونیو وفاق کی طرف سے ازخود معاف کیسے اور کیوں کیاگیاہے اور اگر معاف کرنا تھاتو اس بارے میں صوبوں کو بھی اعتماد میں لیناچاہیے تھا۔ذرائع نے بتایا کہ پنجاب ریونیواتھارٹی(پی آر اے)نے وفاق سے کہاہے کہ پنجاب ریونیو اتھارٹی(پی آر اے)کوبتایا جائے کہ ایف بی آر کی طرف سے ٹیلی کام کمپنیوں کے معاف کردہ47ارب روپے میں پنجاب کا کتنا حصہ ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ سندھ حکومت کی طرف سے وفاق سے کہا گیا ہے کہ قابل تقسیم محاصل پُول میں سے سندھ کے باقی رہ جانے والے واجبات بھی ادا کیے جائیں تاکہ سندھ اپنی مالی ضروریات پوری کرسکے۔