پاک بنگلہ دیش سیریزکا مستقبل تاریک نظر آنے لگا

پی سی بی نے مئی میں میچز کیلیے زمبابوین بورڈ سے بات چیت بھی شروع ہو چکی۔

مئی میں زمبابوین ٹیم پاکستان جا سکتی ہے،جواب میں ہمارااسکواڈ ٹورکریگا،چیمہ فوٹو : فائل

ISLAMABAD:
پی سی بی کو حکومت کی جانب سے دورے کی کلیئرنس نہ ملنے کی وجہ سے رواں سال پاک بنگلہ دیش سیریز کا مستقبل تاریک نظر آنے لگا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان اور بنگلہ دیشی بورڈز کے تعلقات کچھ عرصے سے زیادہ خوشگوار نہیں ہیں، ٹور کا وعدہ کرنے کے بعد بنگلہ دیشی انکار سے معاملات زیادہ خراب ہوئے، حکومتی سطح پر تناؤ نے مسائل مزید بڑھا دیے، اسی لیے اپریل اور مئی میں پاکستانی ٹیم کے دورے کا امکان معدوم نظر آ رہا ہے، پاکستانی بورڈ نے آمدنی میں50 فیصد حصے سمیت بعض شرائط سامنے رکھی تھیں جنھیں قبول کرنے میں بنگلہ دیش نے تاحال دلچسپی نہیں دکھائی، پی سی بی حکومت کی جانب سے اجازت نہ ملنے کا جواز اپنا کر ٹور سے دستبردار ہو سکتا ہے، مئی میں میچز کیلیے زمبابوین بورڈ سے بات چیت بھی شروع ہو چکی۔


ایڈیلیڈ میں پاکستانی ٹیم کے منیجر نوید اکرم چیمہ نے میڈیا کو بتایاکہ ورلڈ کپ کے دوران برسبین میں میری زمبابوے کرکٹ کے اعلیٰ عہدیدار سے ملاقات ہوئی، وہ اپنی ٹیم پاکستان بھیجنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، ان کا پی سی بی سے رابطہ برقرار ہے، مئی میں زمبابوین ٹیم پاک سرزمین جا سکتی ہے، جوابی سیریز میں ہمارا اسکواڈ بھی وہاں کا دورہ کریگا۔

نوید اکرم نے کہاکہ بدقسمتی سے گذشتہ کئی برس سے ہمارے شائقین اپنی ٹیم کو ہوم گراؤنڈز پر کھیلتے ہوئے نہیں دیکھ پا رہے، زمبابوے سے سیریز خوش آئند ثابت ہوگی، اس ضمن میں بورڈ کوشش کر رہا اور امید ہے کہ جلد کوئی اچھے خبر سامنے آ سکتی ہے۔

واضح رہے کہ آئی سی سی فیوچر ٹور پروگرام کے تحت پاکستانی ٹیم کو 10 اپریل سے7مئی تک بنگلہ دیش میں2 ٹیسٹ،3 ون ڈے اور ایک ٹوئنٹی 20کھیلنا ہے۔
Load Next Story