2 کروڑافراد گردوں کے امراض میں مبتلا ہیںماہرین طب
مناسب کھانا، ورزش، سبزیوں اور پھلوں کے استعمال سے گردوں سمیت دیگر امراض سے محفوظ رہا جاسکتا ہے
مرض عام طور پر30 سے40 برس کی عمر میں ہوتا ہے، بیماریوں کی بروقت تشخیص سے علاج کی پیچیدگیاں کم ہوجاتی ہیں۔ فوٹو: فائل
پاکستان سمیت دنیا بھر میں گردوں کا عالمی دن منایا گیا، اس دن کی مناسبت سے کراچی میں مختلف اداروں نے آگہی سیمینار منعقد کیے، سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن میں گردوں کے امراض سے بچاؤاورگردے محفوظ رکھنے کیلیے آگہی سیمینار میں شرکا کومفت تشخیصی ٹیسٹ کی سہولت فراہم کی گئی۔
ماہرین صحت نے گردوں کے خراب ہونے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہاکہ شوگراوربلڈ پریشرکے امراض سے گردے متاثر ہوجاتے ہیں، مناسب کھانا، ورزش، سبزیوں اور پھلوں کے استعمال سے گردوں سمیت دیگر امراض سے محفوظ رہا جاسکتا ہے، ملک میں2 کروڑ کے قریب افراد گردے کے مختلف امراض میں مبتلا ہیں،ہر سال 27000 ایسے نئے مریضوں کا اضافہ ہوتا ہے جن کے گردے کام چھوڑدیتے ہیں، ایسے مریضوں کو زندگی گزارنے کے لیے مصنوعی طریقے سے اپنا خون صاف کروانا پڑتا ہے جسے ڈائلیسس کہتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر ان تمام مریضوں کوڈائلیسس کی سہولت مہیا کی جائے تو 12.6 ارب روپے کا خرچ آئے گا، پاکستان جیسا غریب ملک جو اپنے بجٹ کا صرف 2 فیصد صحت اورتعلیم پر خرچ کرتا ہے وہ کبھی بھی اس کا متحمل نہیں ہو سکتا،دریں اثنا اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں50 کروڑ افرادگردے کے ا مراض میں مبتلا ہیںجن میں سالانہ 8 فیصدکااضافہ ہورہا ہے،اس وقت دنیا میں ایک ارب سے زائد افراد بلڈ پریشر اور25کروڑ سے زائد شوگرکے مرض کا شکار ہیں،دنیا میں تیزی سے بڑھتے ہوئے اس مرض کے بارے میں عام لوگوںکوآگہی دینے کے لیے انٹرنیشنل سوسائٹی آف نیفرالوجی اورانٹرنیشنل فیڈریشن آف کڈنی فاؤنڈیشن نے اس دن کی ابتدا 2006 میں کی۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں 2 کروڑکے قریب افراد گردے کے مختلف امراض میں مبتلا ہیں،ایسے مریضوںکی تعداد میں سالانہ 15 سے 20فیصداضافہ ہو رہا ہے،کیونکہ ملک میں اوسطاً20 لاکھ کی آبادی کے لیے گردوںکا صرف ایک ڈاکٹر موجودہے جس کے باعث اکثر افراد اس مرض کی تشخیص سے محروم رہتے ہیں اورعلاج نہ ہونے کی وجہ سے اس مرض میں اضافہ ہورہا ہے، گردے کا مرض عام طور پر30 سے40 برس کی عمر میں ہوتا ہے تاہم طبی رپورٹوں کے مطابق اب یہ مرض بچوں کو بھی ہونا شروع ہوگیا، خواتین میں دوران زچگی خون کی کمی کے باعث بھی گردے فیل ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔
ماہرین کا کہناتھا کہ گردوں کے بیشتر امراض کی بنیادی وجہ بلڈ پریشر اور شوگر کے مرض میں اضافہ ہے، بلڈپریشر دل کے فیل ہونے کی بہت بڑی وجہ ہے اور گردے خراب ہونے سے بلڈ پریشرکی بیماری لاحق ہوتی ہے اگر بروقت خون اور الٹراساؤنڈ کرالیا جائے تو ان تمام بیماریوں کی بروقت تشخیص سے علاج کی پیچیدگیوں سے بچا جاسکتا ہے۔
ماہرین صحت نے گردوں کے خراب ہونے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہاکہ شوگراوربلڈ پریشرکے امراض سے گردے متاثر ہوجاتے ہیں، مناسب کھانا، ورزش، سبزیوں اور پھلوں کے استعمال سے گردوں سمیت دیگر امراض سے محفوظ رہا جاسکتا ہے، ملک میں2 کروڑ کے قریب افراد گردے کے مختلف امراض میں مبتلا ہیں،ہر سال 27000 ایسے نئے مریضوں کا اضافہ ہوتا ہے جن کے گردے کام چھوڑدیتے ہیں، ایسے مریضوں کو زندگی گزارنے کے لیے مصنوعی طریقے سے اپنا خون صاف کروانا پڑتا ہے جسے ڈائلیسس کہتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر ان تمام مریضوں کوڈائلیسس کی سہولت مہیا کی جائے تو 12.6 ارب روپے کا خرچ آئے گا، پاکستان جیسا غریب ملک جو اپنے بجٹ کا صرف 2 فیصد صحت اورتعلیم پر خرچ کرتا ہے وہ کبھی بھی اس کا متحمل نہیں ہو سکتا،دریں اثنا اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں50 کروڑ افرادگردے کے ا مراض میں مبتلا ہیںجن میں سالانہ 8 فیصدکااضافہ ہورہا ہے،اس وقت دنیا میں ایک ارب سے زائد افراد بلڈ پریشر اور25کروڑ سے زائد شوگرکے مرض کا شکار ہیں،دنیا میں تیزی سے بڑھتے ہوئے اس مرض کے بارے میں عام لوگوںکوآگہی دینے کے لیے انٹرنیشنل سوسائٹی آف نیفرالوجی اورانٹرنیشنل فیڈریشن آف کڈنی فاؤنڈیشن نے اس دن کی ابتدا 2006 میں کی۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں 2 کروڑکے قریب افراد گردے کے مختلف امراض میں مبتلا ہیں،ایسے مریضوںکی تعداد میں سالانہ 15 سے 20فیصداضافہ ہو رہا ہے،کیونکہ ملک میں اوسطاً20 لاکھ کی آبادی کے لیے گردوںکا صرف ایک ڈاکٹر موجودہے جس کے باعث اکثر افراد اس مرض کی تشخیص سے محروم رہتے ہیں اورعلاج نہ ہونے کی وجہ سے اس مرض میں اضافہ ہورہا ہے، گردے کا مرض عام طور پر30 سے40 برس کی عمر میں ہوتا ہے تاہم طبی رپورٹوں کے مطابق اب یہ مرض بچوں کو بھی ہونا شروع ہوگیا، خواتین میں دوران زچگی خون کی کمی کے باعث بھی گردے فیل ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔
ماہرین کا کہناتھا کہ گردوں کے بیشتر امراض کی بنیادی وجہ بلڈ پریشر اور شوگر کے مرض میں اضافہ ہے، بلڈپریشر دل کے فیل ہونے کی بہت بڑی وجہ ہے اور گردے خراب ہونے سے بلڈ پریشرکی بیماری لاحق ہوتی ہے اگر بروقت خون اور الٹراساؤنڈ کرالیا جائے تو ان تمام بیماریوں کی بروقت تشخیص سے علاج کی پیچیدگیوں سے بچا جاسکتا ہے۔