جامعہ عثمانیہ میں تاریخی و ثقافتی نمائش
دینی مدارس کے نام پر آج کل جو سوالیہ نشان بلکہ بہت سارے سوالیہ نشان کھڑے کیے گئے ہیں اور کیے جا رہے ہیں
barq@email.com
دینی مدارس کے نام پر آج کل جو سوالیہ نشان بلکہ بہت سارے سوالیہ نشان کھڑے کیے گئے ہیں اور کیے جا رہے ہیں اس میں زیادہ تر ہاتھ اس بڑی اور نہایت ہی خطرناک غلطی کا ہے جو افغانستان میں ''طالبان'' نام کی تحریک کو کھڑا کر کے کی گئی تھی اور جس کا خمیازہ آج کل ہم بھگت رہے ہیں۔
اس وقت تو پاکستان اور امریکا کے سیاست مداروں نے آگ کو آگ سے بجھانے بلکہ اس آگ پر اپنی ہنڈیا چڑھانے کے لیے بغیر سوچے سمجھے یا (شاید بہت ہی سوچ سمجھ کر) افغانستان اور پاکستان کے گلے میں یہ سانپ ڈال دیا تھا اور اپنے اس کارنامے پر اتنے خوش ہوئے کہ بہت سارے لوگ اس کارنامے کو اپنا کمال کہہ کر فخر کرتے تھے۔
چند پاکستانی اداروں کے سربراہ مونچھوں پر تاؤ دے دے کر کہتے تھے کہ یہ کارنامہ ہم نے کر دکھایا جس کا نام تحریک طالبان رکھا گیا حالانکہ اس کا مدارس کے طلباء سے کوئی خاص تعلق تھا ہی نہیں، ملا عمر سمیت اکثر قیادت کا کسی مدرسے یا طالب علمی سے تعلق تھا ہی نہیں، زیادہ تر نے کسی مدرسے کا منہ بھی نہیں دیکھا تھا، اکثر چٹے ان پڑھ تھے لیکن مقبول بنانے کے لیے اس کا کمرشل نام طالبان رکھا گیا تھا ۔
مسلمانوں کی تاریخ میں دینی مدارس کا کردار ہمیشہ سے نیک نام رہا ہے۔ پاکستان کی تحریک میں قربانیاں بھی دینی مدارس نے دی تھیں اسی وجہ سے ایک سیاسی سازش کو طالبان کا انام دیا گیا، دوسری وجہ یہ کہ مدارس کی روشن تاریخ کو دکاندار ٹائپ کے لوگوں نے اپنی مقصد برادری کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا، گلی گلی دینی مدارس کے نام پر دین فروشی اور چندہ بٹوری کی دکانیں کھل گئیں، نتیجتاً اصل مدارس بھی اس لپیٹ میں آ گئے جہاں مدرسے کا نام آیا لوگوں نے ناک بھوں چڑھالی۔
تاہم نیک نام مدارس میں ایک ''جامہ عثمانیہ'' بھی ہے۔اس مدرسے کے ایک استاد مفتی سراج الحسن اور مفتی مولانا غلام الرحمن کے ممنون ہیں جنھوں نے ہمیں مدرسے کے اندر ہونے والی ''تاریخی و ثقافتی نمائش'' کے لیے مدعو کیا، تب ہمیں پتہ چلا کہ ایسے ایسے دینی مدارس بھی ملک میں موجود ہیں جو کسی سرکاری مدد کے بغیر یونیورسٹی کا درجہ رکھتے ہیں۔
یہاں ایک بڑے ہال میں جتنی عجائبات جمع کی گئی تھیں اتنی ہم نے کبھی کسی ایک جگہ نہیں دیکھی تھیں اور یہ سب طالبعلموں نے اپنے بل بوتے پر کیا تھا، دنیا بھر کی مخطوطات اور قلمی یا تاریخی اہمیت کے حامل قرآن کریم کے نسخے زندگی سے متعلق تمام وہ اشیاء جو قدیم ادوار میں استعمال ہوتی تھیں اور طلباء نے کمال ہنر مندی سے وہ ماحول بھی بنایا تھا پرانے گھروں کے ماڈل، حجرے، مساجد اور دیگر مقامات کے ماڈل مٹی سے بنائے گئے تھے مثلاً ایک شخص ہندوستان سے پاکستان آتا ہے کن کن مراحل سے گزرتا ہے پھر یہاں مختلف مقامات پر مختلف منازل سے گزرتا ہے۔
آخری پڑاؤ جامعہ عثمانیہ کی عمارت کا ماڈل ہے، بیج بیج میں پاکستان کی گزر گاہوں اور مقامات کے ماڈل تھے جن سے وہ گزرتا ہے جن میں مینار پاکستان، شاہراہ پاکستان، قلعہ اٹک، کوہاٹ اور لواری ٹاپ کی سرنگوں، مالاکنڈ کے فوجی قلعے بالا حصار کے قلعے کے ماڈل بنائے گئے ہیں، کمال ہنر مندی سے یہ سب کچھ مٹی کے خوب صورت ماڈلوں میں پیش کیا گیا ہے، بیچ بیچ میں اس وقت کی عوامی زندگی کے مناظر لباس اور ہنر مندیاں بھی ماڈل کی گئی تھیں، لواری ٹاپ اور کوہاٹ کی سرنگیں پورے پہاڑی منظر سے اصلی شکل میں بنائی گئی تھیں جن سے ٹرک موٹر اور دوسری گاڑیاں بھی گزرتی ہوئی دکھائی گئی تھیں دیکھ کر بغیر بتائے ہی آدمی سمجھ جاتا تھا کہ یہ کون سا مقام ہے۔
ان سرنگوں قلعہ جات اور مقامات کی ایک ایک تفصیل ان ماڈل میں اجاگر کی گئی تھی ایسا لگتا تھا جسے مسافر ہند سے چلتا ہے تو ان سڑکوں اور قلعوں اور یادگار مقامات سے ہوتا ہوا حجرے مسجد میں وقت گزارتا ہوا راستے کے ہوٹلوں میں ٹھہرتا ہوا پشاور سوات ملاکنڈ سے ہوتا ہوا محو سفر ہے، چترال کی مساجد، شندور کا میلہ، اسکول اور خاص مقامات بھی بنائے گئے تھے ابتداء میں تاج محل کے ماڈل سے چلنے والا مسافر بالاخر مختلف نوکریاں ملازمتیں اور کام کرتا ہوا جامعہ عثمانیہ پہنچ جاتا ہے، اس کے علاوہ باب خیبر، بولان، مزار قائد اعظم، مینار پاکستان، شاہی مسجد لاہور کے ہو بہو ماڈل تھے۔
حجروں کے مناظر، گھریلو زندگی کے مناظر مختلف علاقوں کے لباس اور ثقافتی سرگرمیاں ہو بہو ماڈل کی گئی تھیں، لیکن اس کے علاوہ بھی بہت کچھ تھا دنیا بھر کے ممالک کے سکے اور کرنسیاں، برتن اور لباس، نایاب قرآنی اور دوسری کتابوں کے قلمی نسخے، تاریخی اہمیت کی حامل تبرکات، مختلف واقعات سے متعلق پتھر، اسلحے اور آلات ہماری تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیںخصوصاً ان پرانی ثقافتی نشانوں کے بیج بیج میں وہ خاکے جو طلباء نے پیش کیے حیران کن تھے۔ ان خاکوں کی تحریر اور مکالمے وغیرہ بھی خود طلباء کا نتیجہ فکر تھے۔
خصوصاً حجرے میں ملک صاحب کی ماں پر فاتحہ خوانی کا خاکہ اور اس میں حصہ لینے والے طلباء پھر آخر میں وہ تاریخی اور بے مثال خاکہ جس میں پرانے زمانے کے ایک بادشاہ سے لے کر موجودہ دور کے لیڈروں تک دینی مدارس اور دینی لوگوں سے ''سلوک'' کے مختلف مراحل بیان کیے گئے تھے اور پھر وہ ترانہ جس میں دینی مدارس پر دہشت گردی کے الزامات کی تردید کی گئی تھی۔
مدرسے کے اندرونی انتظام اور ماحول کو دیکھ کر ہمیں خود اپنے ان خیالات پر پچھتاوا ہوا جو اب تک عام پروپیگنڈے نے ہمارے ذہن میں پیدا کیے تھے مدرسے کے اندر دینی علم کا بندوبست تو اعلیٰ درجے کا تھا لیکن یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ مدرسے کے اندر باقاعدہ ایک عام اور مروجہ نصاب کے مطابق ایک عام اسکول بھی تھا جس میں دسویں تک خالص دنیاوی تعلیم کا بندوبست تھا۔
آخر میں اس قرآن گارڈن کا ذکر نہ کرنا ایک بہت بڑی کمی ہو گی اس قرآن گارڈن میں وہ تمام درخت، پیڑ پودے غلہ جات حتیٰ کہ لہسن پیاز تک کے قطعات کاشت کیے تھے ساتھ ہی ایک بورڈ پر پودے کا نام عربی اور مقامی دونوں زبانوں میں اور جتنی مرتبہ قرآن میں اس کا ذکر آیا ہے درج تھا، دراصل ہر اچھی چیز کو کاروباری اور دکاندار ٹائپ کے مفاد پرست لوگ بدنام کر دیتے ہیں مدرسوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے نااہل کاروباری مفاد پرست لوگوں نے مدارس کی مقبولیت کو کیش کرنے کے گلی گلی محض نام کے مدرسے قائم کیے ہوئے اور یہی مدرسے اصل مدارس کی بدنامی کا باعث ہو رہے ہیں ۔
جب کہ کئی مدرسے جیسے جامعہ عثمانیہ جو روشنی کے مینار ہیں وہ بھی شکوک و شبہات اور پروپیگنڈے کے دھوئیں میں چھپ گئے ہیں، اور اس کا علاج مدرسے والوں کو خود آگے بڑھ کر اپنی صفوں سے ان کالی بھیڑوں کو الگ کرنا ہو گا جو مدارس بلکہ دین اسلام کے دامن پر دھبہ ہیں اور ''چندوں'' کی خاطر دین کا نام کیش کر رہے ہیں۔
اس وقت تو پاکستان اور امریکا کے سیاست مداروں نے آگ کو آگ سے بجھانے بلکہ اس آگ پر اپنی ہنڈیا چڑھانے کے لیے بغیر سوچے سمجھے یا (شاید بہت ہی سوچ سمجھ کر) افغانستان اور پاکستان کے گلے میں یہ سانپ ڈال دیا تھا اور اپنے اس کارنامے پر اتنے خوش ہوئے کہ بہت سارے لوگ اس کارنامے کو اپنا کمال کہہ کر فخر کرتے تھے۔
چند پاکستانی اداروں کے سربراہ مونچھوں پر تاؤ دے دے کر کہتے تھے کہ یہ کارنامہ ہم نے کر دکھایا جس کا نام تحریک طالبان رکھا گیا حالانکہ اس کا مدارس کے طلباء سے کوئی خاص تعلق تھا ہی نہیں، ملا عمر سمیت اکثر قیادت کا کسی مدرسے یا طالب علمی سے تعلق تھا ہی نہیں، زیادہ تر نے کسی مدرسے کا منہ بھی نہیں دیکھا تھا، اکثر چٹے ان پڑھ تھے لیکن مقبول بنانے کے لیے اس کا کمرشل نام طالبان رکھا گیا تھا ۔
مسلمانوں کی تاریخ میں دینی مدارس کا کردار ہمیشہ سے نیک نام رہا ہے۔ پاکستان کی تحریک میں قربانیاں بھی دینی مدارس نے دی تھیں اسی وجہ سے ایک سیاسی سازش کو طالبان کا انام دیا گیا، دوسری وجہ یہ کہ مدارس کی روشن تاریخ کو دکاندار ٹائپ کے لوگوں نے اپنی مقصد برادری کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا، گلی گلی دینی مدارس کے نام پر دین فروشی اور چندہ بٹوری کی دکانیں کھل گئیں، نتیجتاً اصل مدارس بھی اس لپیٹ میں آ گئے جہاں مدرسے کا نام آیا لوگوں نے ناک بھوں چڑھالی۔
تاہم نیک نام مدارس میں ایک ''جامہ عثمانیہ'' بھی ہے۔اس مدرسے کے ایک استاد مفتی سراج الحسن اور مفتی مولانا غلام الرحمن کے ممنون ہیں جنھوں نے ہمیں مدرسے کے اندر ہونے والی ''تاریخی و ثقافتی نمائش'' کے لیے مدعو کیا، تب ہمیں پتہ چلا کہ ایسے ایسے دینی مدارس بھی ملک میں موجود ہیں جو کسی سرکاری مدد کے بغیر یونیورسٹی کا درجہ رکھتے ہیں۔
یہاں ایک بڑے ہال میں جتنی عجائبات جمع کی گئی تھیں اتنی ہم نے کبھی کسی ایک جگہ نہیں دیکھی تھیں اور یہ سب طالبعلموں نے اپنے بل بوتے پر کیا تھا، دنیا بھر کی مخطوطات اور قلمی یا تاریخی اہمیت کے حامل قرآن کریم کے نسخے زندگی سے متعلق تمام وہ اشیاء جو قدیم ادوار میں استعمال ہوتی تھیں اور طلباء نے کمال ہنر مندی سے وہ ماحول بھی بنایا تھا پرانے گھروں کے ماڈل، حجرے، مساجد اور دیگر مقامات کے ماڈل مٹی سے بنائے گئے تھے مثلاً ایک شخص ہندوستان سے پاکستان آتا ہے کن کن مراحل سے گزرتا ہے پھر یہاں مختلف مقامات پر مختلف منازل سے گزرتا ہے۔
آخری پڑاؤ جامعہ عثمانیہ کی عمارت کا ماڈل ہے، بیج بیج میں پاکستان کی گزر گاہوں اور مقامات کے ماڈل تھے جن سے وہ گزرتا ہے جن میں مینار پاکستان، شاہراہ پاکستان، قلعہ اٹک، کوہاٹ اور لواری ٹاپ کی سرنگوں، مالاکنڈ کے فوجی قلعے بالا حصار کے قلعے کے ماڈل بنائے گئے ہیں، کمال ہنر مندی سے یہ سب کچھ مٹی کے خوب صورت ماڈلوں میں پیش کیا گیا ہے، بیچ بیچ میں اس وقت کی عوامی زندگی کے مناظر لباس اور ہنر مندیاں بھی ماڈل کی گئی تھیں، لواری ٹاپ اور کوہاٹ کی سرنگیں پورے پہاڑی منظر سے اصلی شکل میں بنائی گئی تھیں جن سے ٹرک موٹر اور دوسری گاڑیاں بھی گزرتی ہوئی دکھائی گئی تھیں دیکھ کر بغیر بتائے ہی آدمی سمجھ جاتا تھا کہ یہ کون سا مقام ہے۔
ان سرنگوں قلعہ جات اور مقامات کی ایک ایک تفصیل ان ماڈل میں اجاگر کی گئی تھی ایسا لگتا تھا جسے مسافر ہند سے چلتا ہے تو ان سڑکوں اور قلعوں اور یادگار مقامات سے ہوتا ہوا حجرے مسجد میں وقت گزارتا ہوا راستے کے ہوٹلوں میں ٹھہرتا ہوا پشاور سوات ملاکنڈ سے ہوتا ہوا محو سفر ہے، چترال کی مساجد، شندور کا میلہ، اسکول اور خاص مقامات بھی بنائے گئے تھے ابتداء میں تاج محل کے ماڈل سے چلنے والا مسافر بالاخر مختلف نوکریاں ملازمتیں اور کام کرتا ہوا جامعہ عثمانیہ پہنچ جاتا ہے، اس کے علاوہ باب خیبر، بولان، مزار قائد اعظم، مینار پاکستان، شاہی مسجد لاہور کے ہو بہو ماڈل تھے۔
حجروں کے مناظر، گھریلو زندگی کے مناظر مختلف علاقوں کے لباس اور ثقافتی سرگرمیاں ہو بہو ماڈل کی گئی تھیں، لیکن اس کے علاوہ بھی بہت کچھ تھا دنیا بھر کے ممالک کے سکے اور کرنسیاں، برتن اور لباس، نایاب قرآنی اور دوسری کتابوں کے قلمی نسخے، تاریخی اہمیت کی حامل تبرکات، مختلف واقعات سے متعلق پتھر، اسلحے اور آلات ہماری تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیںخصوصاً ان پرانی ثقافتی نشانوں کے بیج بیج میں وہ خاکے جو طلباء نے پیش کیے حیران کن تھے۔ ان خاکوں کی تحریر اور مکالمے وغیرہ بھی خود طلباء کا نتیجہ فکر تھے۔
خصوصاً حجرے میں ملک صاحب کی ماں پر فاتحہ خوانی کا خاکہ اور اس میں حصہ لینے والے طلباء پھر آخر میں وہ تاریخی اور بے مثال خاکہ جس میں پرانے زمانے کے ایک بادشاہ سے لے کر موجودہ دور کے لیڈروں تک دینی مدارس اور دینی لوگوں سے ''سلوک'' کے مختلف مراحل بیان کیے گئے تھے اور پھر وہ ترانہ جس میں دینی مدارس پر دہشت گردی کے الزامات کی تردید کی گئی تھی۔
مدرسے کے اندرونی انتظام اور ماحول کو دیکھ کر ہمیں خود اپنے ان خیالات پر پچھتاوا ہوا جو اب تک عام پروپیگنڈے نے ہمارے ذہن میں پیدا کیے تھے مدرسے کے اندر دینی علم کا بندوبست تو اعلیٰ درجے کا تھا لیکن یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ مدرسے کے اندر باقاعدہ ایک عام اور مروجہ نصاب کے مطابق ایک عام اسکول بھی تھا جس میں دسویں تک خالص دنیاوی تعلیم کا بندوبست تھا۔
آخر میں اس قرآن گارڈن کا ذکر نہ کرنا ایک بہت بڑی کمی ہو گی اس قرآن گارڈن میں وہ تمام درخت، پیڑ پودے غلہ جات حتیٰ کہ لہسن پیاز تک کے قطعات کاشت کیے تھے ساتھ ہی ایک بورڈ پر پودے کا نام عربی اور مقامی دونوں زبانوں میں اور جتنی مرتبہ قرآن میں اس کا ذکر آیا ہے درج تھا، دراصل ہر اچھی چیز کو کاروباری اور دکاندار ٹائپ کے مفاد پرست لوگ بدنام کر دیتے ہیں مدرسوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے نااہل کاروباری مفاد پرست لوگوں نے مدارس کی مقبولیت کو کیش کرنے کے گلی گلی محض نام کے مدرسے قائم کیے ہوئے اور یہی مدرسے اصل مدارس کی بدنامی کا باعث ہو رہے ہیں ۔
جب کہ کئی مدرسے جیسے جامعہ عثمانیہ جو روشنی کے مینار ہیں وہ بھی شکوک و شبہات اور پروپیگنڈے کے دھوئیں میں چھپ گئے ہیں، اور اس کا علاج مدرسے والوں کو خود آگے بڑھ کر اپنی صفوں سے ان کالی بھیڑوں کو الگ کرنا ہو گا جو مدارس بلکہ دین اسلام کے دامن پر دھبہ ہیں اور ''چندوں'' کی خاطر دین کا نام کیش کر رہے ہیں۔