پاکستانی ستارے اب بھارتی فلمیں دیکھ کر گزارہ کرتے ہیں
پاکستان فلم انڈسٹری کی کامیابیاں اور فنکاروں کی مقبولیت اب گئے وقتوں کے قصے کے سوا کچھ نہیں
فلم بینوں میں اضافہ ہو رہا ہے اوران میں بڑی تعداد پاکستان فلم انڈسٹری کے معروف فلمی ستاروں کی ہے. فوٹو: فائل
پاکستان میں بالی وڈ اسٹارزکی فلمیں گزشتہ چند برس سے باقاعدگی کے ساتھ نمائش کیلئے پیش کی جارہی ہیں۔
جن کی وجہ سے ملک کے بڑے شہروں میں جدید طرزکے سینما گھرتعمیرہوئے اور وہاں لوگوں کی بڑی تعداد اپنی فیملیزکے ساتھ روزانہ انٹرنیشنل معیارکی فلمیں دیکھنے کیلئے آتی ہے۔ فلم بینوں میںجہاں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد ہوتے ہیں وہیں ان میں سیاستدان، بیوروکریٹس، کھلاڑی اوردیگرشعبوں کی اہم شخصیات بھی شامل ہوتی ہیں۔ لیکن اب صورتحال کچھ ایسی ہو چکی ہے کہ فلم بینوں میں اضافہ ہو رہا ہے اوران میں بڑی تعداد پاکستان فلم انڈسٹری کے معروف فلمی ستاروں کی ہے جو اپنی فیملیز کے ہمراہ بالی وڈ سٹارزکی فلمیںدیکھنے کیلئے بڑے اہتمام کے ساتھ سینما گھرپہنچنے لگی ہے۔
پہلے پہل توہماری فلمی پریاں نقاب میں سینما گھر آتی تھیں کہ کسی کوخبرنہ ہو اوران کوبھارتی فنکاروںکی فلم دیکھتے ہوئے کسی نے دیکھا اوریہ بات میڈیا تک پہنچ گئی توکیا پھرایشوبن سکتاہے اورمیڈیا کے تندوتیزسوالات کا کیا جواب دینگے؟ مگر اب معاملہ کچھ اورہے۔ ہمارے فلم سٹارہفتہ میںایک مرتبہ لازمی سینما جاتے ہیں۔
شروع میںتوسینما انتظامیہ اپنی پروموشن کیلئے احتراماً پاکستانی فلمی ستاروںکوپروٹوکول دیتی تھی اوراکثراوقات ٹکٹ کے پیسے بھی نہیں لئے جاتے تھے مگراب لائن میں لگ کرٹکٹ لی جاتی ہے اورعام فلم بینوں کی طرح یہ لوگ بھی فلم دیکھنے کیلئے ہال میں بیٹھتے ہیں ۔ نا کوئی ان کے ساتھ تصویربنواتا ہے اور نا کوئی آٹوگراف لیتا ہے۔ کل تک جوفنکارخود بڑی سکرین پردکھائی دیتے تھے اب وہ اپنی حرکتوں اورنان پروفیشنل رویے کی وجہ سے فلم بین بن کررہ گئے ہیں۔
ہم پاکستان فلم انڈسٹری کے سنہری دورپرایک نظرڈالیں تویوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ کوئی کہانی تھی یا گہری نیندکا سپنا۔
ہر سال پاکستان میں بننے والی فلموںکی تعداد 100سے زائد ہوا کرتی تھی، نگارخانے فلمی ستاروں کی شوٹنگزکی وجہ سے جگمگاتے رہتے تھے، سینما گھروں میں فلموں کی کبھی سلور توکبھی گولڈن جوبلی ہوا کرتی تھی، فلم بینوں کی لمبی قطاریں سینماہال کے باہر لگی ہوتی تھیں، کوئی بلیک میں ٹکٹ خریدتا تھا توکوئی سفارش کرواکر ٹکٹ حاصل کیا کرتا تھا ، ایک طرف سینما گھروں میں ہالی وڈ کی فلمیں نمائش کیلئے پیش کی جاتی تھیں تودوسری جانب پاکستان کی اردو اورپنجابی زبان میں بننے والی فلموں کی نمائش ہوا کرتی تھی، بزنس میں دونوں فلموںکو زبردست رسپانس ملتا تھا۔
اکثروبیشتر ایسا ہوتا کہ کم بجٹ سے بننے والی پاکستانی فلمیں ہالی وڈ کی کثیر سرمائے سے بننے والی فلموں کے مقابلے میں زیادہ بزنس کرتی تھیں، فلموں میں مرکزی کردار نبھانے والے پاکستانی فلمی ستارے جب کبھی اپنی فلم کا شودیکھنے سینما گھر پہنچ جاتے تو سینماہال میں موجود مرد، خواتین، بچے اوربزرگ ان کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے گیٹ پرجمع ہوجایا کرتے تھے، کوئی تصویر بنواتا تھا توکوئی آٹوگراف لے کر خوابوں کی دنیا میں کھو جایا کرتا تھا، ٹریفک کا نظام درھم برھم ہوجاتا تھا، شو کے اختتام پر دیر تک ٹریفک جام رہتی تھی، باری، ایورنیواورشاہ نورسٹوڈیو کے باہربھی فلمی ستاروں کے چاہنے والوںکا تانتا بندھا رہتا تھا، فلم کی شوٹنگ دیکھنے کے خواہشمند ہر روزدوردراز علاقوں سے آتے اور سٹوڈیوز کے باہر رش لگا رہتا تھاْ
اسٹوڈیو کے باہر ہجوم کی وجہ سے اردگرد واقع کھانے پینے کے ہوٹل اوردیگرکاروباری مراکز 24گھنٹے مصروف رہتے تھے، اگرکوئی خوش قسمتی سے سٹوڈیو کے اندرداخل ہو جاتا تو پھروہ اپنے دوستوں اور قریبی عزیزواقارب کو اس چاردیواری کی چکاچوند اورفلمی ستاروںکے ٹھاٹ باٹھ کے قصے سناتا رہتا تھا ، کوئی بابرہ شریف کے ہیئرسٹائل کو اپناتا توکوئی ندیم کے ڈریسز کادیوانہ بن جاتا تھا، سنتوش کمار، محمد علی، وحید مراد، ندیم، شاہد، صبیحہ خانم، شمیم آراء، شبنم اوربابرہ شریف سمیت دیگرکے ڈریسز، ہیئرسٹائلز اورجوتوں کولوگ کاپی کیا کرتے تھے، یہ عظیم فنکارجوکپڑے اورجوتے پہنتے وہ فیشن بن جایا کرتا تھا، گلی، محلوںمیں لوگ فلمی ڈائیلاگ بولتے سنائی دیتے تھے یا پھر معروف فنکاروںکی پیروڈی توہردوسرے گھر میں ہواکرتی تھی، فلمی ستارے جس تقریب میں شرکت کرتے اس کو چارچاند لگ جایا کرتے تھے۔
ایورڈ شو ہوںیا ٹی وی کا میگا ایونٹ فلمی ستاروں کی شرکت سے ان کی ریٹنگ آسمان کو چھونے لگتی تھی، پی ٹی وی کے ''راج'' میں جب کسی عیدیا دوسرے تہوارپر ٹی وی پرفلم دکھائی جاتی توناظرین کی بڑی تعداد فلم دیکھنے کیلئے ٹی وی سیٹ کے سامنے جمع ہوجایا کرتی تھی، شادی بیاہ کی تقریبات پر فلمی گیتوں پرڈھولک کی تھاپ پررقص ہوتاتھا جبکہ بارات کے موقع پر بینڈ باجے والے بھی فلمی گیت بجایا کرتے تھے، میوزک سٹوڈیوزمیں ملکہ ترنم نورجہاں، شہنشاہ غزل مہدی حسن، مہناز اور دیگر گلوکار معروف موسیقاروں کی دھنوں میں صدا بہار گیت ریکارڈ کرواتے تھے، فلمی دنیا سے وابستہ ہر ایک شخص کو عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھاجاتا تھا، فلم ٹریڈ کے مختلف شعبوں سے وابستہ ہنرمندوں کے کام کوسراہا جاتاتھا اوریہ سب لوگ عزت، شہرت اور دولت کے اعتبارسے فنون لطیفہ کے دیگرشعبوںسے وابستہ افراد سے بہتر تھے۔
ماضی کے سنہرے دورکی وراثت جب نوجوان فنکاروں کے ہاتھوں میں سونپی گئی تو کچھ عرصہ تک معاملات بہتررہے اورفلم بین سینما گھروں کا رخ کرتے رہے لیکن پھر فنکاروں ، ہدایتکاروں، نان پروفیشنل پروڈیوسروں اوردیگر نے لوگوںکے دلوں میں بسنے والی فلم نگری کو ایسے مقام پرپہنچادیا کہ آہستہ آہستہ نگارخانے ویران ہونے لگے، ڈسٹری بیوشن کی مارکیٹ رائل پارک میں فلمی دفاترکی جگہ پرنٹنگ پریس اوردوسرے کاروباری مراکز بننے لگے، ملک بھر میں ایک ہزار سے زائد سینماگھروں نے وقت کی نزاکت کوسامنے رکھتے ہوئے شاپنگ پلازوں، پٹرول پمپس اور تھیٹروں کے روپ دھارلئے۔ جگمگاتی فلمی دنیا اندھیروں میں جانے لگی اوراس کی بچانے کی بجائے ''مفاد پرست'' فنکاروں، ہدایتکاروں، پروڈیوسروںِ ، سٹوڈیومالکان، موسیقاروں، گلوکاروں، کہانی رائٹر اوردیگرنے اسے تنہااوربے سہارا چھوڑکرٹی وی کو اپنا لیا۔
90ء کی دہائی میں اداکارشان، ریما، سعود، بابرعلی، معمررانا، ریشم، میرا ، ثناء ، لیلیٰ، مدیحہ شاہ، جیاعلی، اربازخان، خوشبواور نرگس سمیت دیگرنئے فنکاروں نے فلمسٹارکا خطاب حاصل کیا اورپھر اس پہچان کے ساتھ ملک اوربیرون ملک خوب کام کیا۔ یہ فنکاربھی جب کبھی سینما ہال میں پہنچتے توان کو دیکھنے کیلئے لوگوں کا رش لگ جاتا کوئی تصویربنواتا توکوئی شرٹ کے کالر پرآٹوگراف لیتا، ٹی وی شومیں کسی فلمی ستارے کاانٹرویوآن ائیر ہوتا یا اخبارمیںشائع ہوتا تو لوگ اس میں غیر معمولی دلچسپی لیتے۔ لوگوںکی جانب سے ملنے والا یہ رسپانس ماضی کی یاد کوتازہ کرتاتھا اورفلمی ستارے اس پر فخربھی محسوس کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹی وی ڈراموں سے شہرت حاصل کرنیوالے متعدد فنکاروں نے فلم انڈسٹری میں قدم رکھا اور پھر خوب شہرت حاصل کی۔
فلمسازی کے شعبے میں جدیدٹیکنالوجی کی آمد سے جہاں ہالی وڈ اوربالی وڈ بہت آگے نکل رہے تھے وہیں ہماری فلم انڈسٹری سے جڑے لوگ کم بجٹ کی فارمولا فلمیں بنانے کوفروغ دینے لگے۔ یہ سلسلہ چند برس تک جاری رہا اورپھر آہستہ آہستہ سینماگھروں میںلوگوںکی تعداد انتہائی کم ہونے لگی۔ ہفتے میں کئی بار فلموںکے شو دکھائے ہی نہیں جاتے تھے۔ اس صورتحال پرفلمی حلقوں نے سنجیدگی سے غورکرنے اوراس کاحل تلاش کرنے کے بجائے ٹی وی یا دیگرکاروبارکا رخ کیا۔ فنکاروں نے بھی ٹی وی کا رخ کیا اورفلم انڈسٹری کو بے سہارا چھوڑ کرخود کو ان حالات سے آنکھیں چرانے لگے۔
انٹرویومیں اگر کوئی سوال کرتا کہ فلموں میںکام کیوں نہیں کرتے توان کا ایک ہی جواب ہوتا '' اچھی اورمعیار فلمیں نہیں بن رہیں۔ اس لئے ہم ایسے حالات میں کام نہیں کرسکتے''۔ یہ وہ بے بنیاد اورگھسا پٹا سا جواب ہے جس کے سہارے یہ مفادپرست لوگ اپنی خامیوں، کوتاہیوں اورنان پروفیشنل اندازکو چھپاتے ہیں۔ دیکھاجائے تویہی وہ فنکار ہیں جن کے کریڈٹ میں زبردست بزنس کرنے والی فلمیں ہیں اورانہی فنکاروںنے زیادہ کام حاصل کرنے اورایک دوسرے کے آپسی اختلافات میں ایسی فلمیں سائن کیں جن کو دیکھ کرفلم بینوں میں ان کی مقبولیت کم ہونے لگی۔ دنیا کی تمام فلم انڈسٹریوں کے ستاروں کے معاشقے، سکینڈلز منظرعام پرآتے رہتے ہیں لیکن ان سے ان کی مقبولیت میںکمی نہیں آتی اوروہ اپنے کام کو بہت سنجیدگی سے انجام دیتے ہیں۔
موجودہ صورتحال پاکستان فلم انڈسٹری سے وابستہ ہوکرکروڑوں روپے کمانے والے ان تمام فنکاروں، ہدایتکاروں ، ڈسٹری بیوٹرز، فلمسازوں، سٹوڈیومالکان اوردیگرکیلئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ ان سب لوگوںکو فلم انڈسٹری کو بچانے کیلئے اپنی مدد آپ کے تحت اچھی اورمعیاری فلمیں بنانا ہونگی۔ فلم انڈسٹری کی بقاء کیلئے انہیں اپنے اختلافات ختم کرنا ہونگے ، وگرنہ وہ وقت دورنہیں ہوگا جب آج فلمی ستارے سے'' فلم بین '' بننے والے فنکارکل اپنی سہی پہچان بھی کھو دیں گے۔
جن کی وجہ سے ملک کے بڑے شہروں میں جدید طرزکے سینما گھرتعمیرہوئے اور وہاں لوگوں کی بڑی تعداد اپنی فیملیزکے ساتھ روزانہ انٹرنیشنل معیارکی فلمیں دیکھنے کیلئے آتی ہے۔ فلم بینوں میںجہاں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد ہوتے ہیں وہیں ان میں سیاستدان، بیوروکریٹس، کھلاڑی اوردیگرشعبوں کی اہم شخصیات بھی شامل ہوتی ہیں۔ لیکن اب صورتحال کچھ ایسی ہو چکی ہے کہ فلم بینوں میں اضافہ ہو رہا ہے اوران میں بڑی تعداد پاکستان فلم انڈسٹری کے معروف فلمی ستاروں کی ہے جو اپنی فیملیز کے ہمراہ بالی وڈ سٹارزکی فلمیںدیکھنے کیلئے بڑے اہتمام کے ساتھ سینما گھرپہنچنے لگی ہے۔
پہلے پہل توہماری فلمی پریاں نقاب میں سینما گھر آتی تھیں کہ کسی کوخبرنہ ہو اوران کوبھارتی فنکاروںکی فلم دیکھتے ہوئے کسی نے دیکھا اوریہ بات میڈیا تک پہنچ گئی توکیا پھرایشوبن سکتاہے اورمیڈیا کے تندوتیزسوالات کا کیا جواب دینگے؟ مگر اب معاملہ کچھ اورہے۔ ہمارے فلم سٹارہفتہ میںایک مرتبہ لازمی سینما جاتے ہیں۔
شروع میںتوسینما انتظامیہ اپنی پروموشن کیلئے احتراماً پاکستانی فلمی ستاروںکوپروٹوکول دیتی تھی اوراکثراوقات ٹکٹ کے پیسے بھی نہیں لئے جاتے تھے مگراب لائن میں لگ کرٹکٹ لی جاتی ہے اورعام فلم بینوں کی طرح یہ لوگ بھی فلم دیکھنے کیلئے ہال میں بیٹھتے ہیں ۔ نا کوئی ان کے ساتھ تصویربنواتا ہے اور نا کوئی آٹوگراف لیتا ہے۔ کل تک جوفنکارخود بڑی سکرین پردکھائی دیتے تھے اب وہ اپنی حرکتوں اورنان پروفیشنل رویے کی وجہ سے فلم بین بن کررہ گئے ہیں۔
ہم پاکستان فلم انڈسٹری کے سنہری دورپرایک نظرڈالیں تویوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ کوئی کہانی تھی یا گہری نیندکا سپنا۔
ہر سال پاکستان میں بننے والی فلموںکی تعداد 100سے زائد ہوا کرتی تھی، نگارخانے فلمی ستاروں کی شوٹنگزکی وجہ سے جگمگاتے رہتے تھے، سینما گھروں میں فلموں کی کبھی سلور توکبھی گولڈن جوبلی ہوا کرتی تھی، فلم بینوں کی لمبی قطاریں سینماہال کے باہر لگی ہوتی تھیں، کوئی بلیک میں ٹکٹ خریدتا تھا توکوئی سفارش کرواکر ٹکٹ حاصل کیا کرتا تھا ، ایک طرف سینما گھروں میں ہالی وڈ کی فلمیں نمائش کیلئے پیش کی جاتی تھیں تودوسری جانب پاکستان کی اردو اورپنجابی زبان میں بننے والی فلموں کی نمائش ہوا کرتی تھی، بزنس میں دونوں فلموںکو زبردست رسپانس ملتا تھا۔
اکثروبیشتر ایسا ہوتا کہ کم بجٹ سے بننے والی پاکستانی فلمیں ہالی وڈ کی کثیر سرمائے سے بننے والی فلموں کے مقابلے میں زیادہ بزنس کرتی تھیں، فلموں میں مرکزی کردار نبھانے والے پاکستانی فلمی ستارے جب کبھی اپنی فلم کا شودیکھنے سینما گھر پہنچ جاتے تو سینماہال میں موجود مرد، خواتین، بچے اوربزرگ ان کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے گیٹ پرجمع ہوجایا کرتے تھے، کوئی تصویر بنواتا تھا توکوئی آٹوگراف لے کر خوابوں کی دنیا میں کھو جایا کرتا تھا، ٹریفک کا نظام درھم برھم ہوجاتا تھا، شو کے اختتام پر دیر تک ٹریفک جام رہتی تھی، باری، ایورنیواورشاہ نورسٹوڈیو کے باہربھی فلمی ستاروں کے چاہنے والوںکا تانتا بندھا رہتا تھا، فلم کی شوٹنگ دیکھنے کے خواہشمند ہر روزدوردراز علاقوں سے آتے اور سٹوڈیوز کے باہر رش لگا رہتا تھاْ
اسٹوڈیو کے باہر ہجوم کی وجہ سے اردگرد واقع کھانے پینے کے ہوٹل اوردیگرکاروباری مراکز 24گھنٹے مصروف رہتے تھے، اگرکوئی خوش قسمتی سے سٹوڈیو کے اندرداخل ہو جاتا تو پھروہ اپنے دوستوں اور قریبی عزیزواقارب کو اس چاردیواری کی چکاچوند اورفلمی ستاروںکے ٹھاٹ باٹھ کے قصے سناتا رہتا تھا ، کوئی بابرہ شریف کے ہیئرسٹائل کو اپناتا توکوئی ندیم کے ڈریسز کادیوانہ بن جاتا تھا، سنتوش کمار، محمد علی، وحید مراد، ندیم، شاہد، صبیحہ خانم، شمیم آراء، شبنم اوربابرہ شریف سمیت دیگرکے ڈریسز، ہیئرسٹائلز اورجوتوں کولوگ کاپی کیا کرتے تھے، یہ عظیم فنکارجوکپڑے اورجوتے پہنتے وہ فیشن بن جایا کرتا تھا، گلی، محلوںمیں لوگ فلمی ڈائیلاگ بولتے سنائی دیتے تھے یا پھر معروف فنکاروںکی پیروڈی توہردوسرے گھر میں ہواکرتی تھی، فلمی ستارے جس تقریب میں شرکت کرتے اس کو چارچاند لگ جایا کرتے تھے۔
ایورڈ شو ہوںیا ٹی وی کا میگا ایونٹ فلمی ستاروں کی شرکت سے ان کی ریٹنگ آسمان کو چھونے لگتی تھی، پی ٹی وی کے ''راج'' میں جب کسی عیدیا دوسرے تہوارپر ٹی وی پرفلم دکھائی جاتی توناظرین کی بڑی تعداد فلم دیکھنے کیلئے ٹی وی سیٹ کے سامنے جمع ہوجایا کرتی تھی، شادی بیاہ کی تقریبات پر فلمی گیتوں پرڈھولک کی تھاپ پررقص ہوتاتھا جبکہ بارات کے موقع پر بینڈ باجے والے بھی فلمی گیت بجایا کرتے تھے، میوزک سٹوڈیوزمیں ملکہ ترنم نورجہاں، شہنشاہ غزل مہدی حسن، مہناز اور دیگر گلوکار معروف موسیقاروں کی دھنوں میں صدا بہار گیت ریکارڈ کرواتے تھے، فلمی دنیا سے وابستہ ہر ایک شخص کو عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھاجاتا تھا، فلم ٹریڈ کے مختلف شعبوں سے وابستہ ہنرمندوں کے کام کوسراہا جاتاتھا اوریہ سب لوگ عزت، شہرت اور دولت کے اعتبارسے فنون لطیفہ کے دیگرشعبوںسے وابستہ افراد سے بہتر تھے۔
ماضی کے سنہرے دورکی وراثت جب نوجوان فنکاروں کے ہاتھوں میں سونپی گئی تو کچھ عرصہ تک معاملات بہتررہے اورفلم بین سینما گھروں کا رخ کرتے رہے لیکن پھر فنکاروں ، ہدایتکاروں، نان پروفیشنل پروڈیوسروں اوردیگر نے لوگوںکے دلوں میں بسنے والی فلم نگری کو ایسے مقام پرپہنچادیا کہ آہستہ آہستہ نگارخانے ویران ہونے لگے، ڈسٹری بیوشن کی مارکیٹ رائل پارک میں فلمی دفاترکی جگہ پرنٹنگ پریس اوردوسرے کاروباری مراکز بننے لگے، ملک بھر میں ایک ہزار سے زائد سینماگھروں نے وقت کی نزاکت کوسامنے رکھتے ہوئے شاپنگ پلازوں، پٹرول پمپس اور تھیٹروں کے روپ دھارلئے۔ جگمگاتی فلمی دنیا اندھیروں میں جانے لگی اوراس کی بچانے کی بجائے ''مفاد پرست'' فنکاروں، ہدایتکاروں، پروڈیوسروںِ ، سٹوڈیومالکان، موسیقاروں، گلوکاروں، کہانی رائٹر اوردیگرنے اسے تنہااوربے سہارا چھوڑکرٹی وی کو اپنا لیا۔
90ء کی دہائی میں اداکارشان، ریما، سعود، بابرعلی، معمررانا، ریشم، میرا ، ثناء ، لیلیٰ، مدیحہ شاہ، جیاعلی، اربازخان، خوشبواور نرگس سمیت دیگرنئے فنکاروں نے فلمسٹارکا خطاب حاصل کیا اورپھر اس پہچان کے ساتھ ملک اوربیرون ملک خوب کام کیا۔ یہ فنکاربھی جب کبھی سینما ہال میں پہنچتے توان کو دیکھنے کیلئے لوگوں کا رش لگ جاتا کوئی تصویربنواتا توکوئی شرٹ کے کالر پرآٹوگراف لیتا، ٹی وی شومیں کسی فلمی ستارے کاانٹرویوآن ائیر ہوتا یا اخبارمیںشائع ہوتا تو لوگ اس میں غیر معمولی دلچسپی لیتے۔ لوگوںکی جانب سے ملنے والا یہ رسپانس ماضی کی یاد کوتازہ کرتاتھا اورفلمی ستارے اس پر فخربھی محسوس کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹی وی ڈراموں سے شہرت حاصل کرنیوالے متعدد فنکاروں نے فلم انڈسٹری میں قدم رکھا اور پھر خوب شہرت حاصل کی۔
فلمسازی کے شعبے میں جدیدٹیکنالوجی کی آمد سے جہاں ہالی وڈ اوربالی وڈ بہت آگے نکل رہے تھے وہیں ہماری فلم انڈسٹری سے جڑے لوگ کم بجٹ کی فارمولا فلمیں بنانے کوفروغ دینے لگے۔ یہ سلسلہ چند برس تک جاری رہا اورپھر آہستہ آہستہ سینماگھروں میںلوگوںکی تعداد انتہائی کم ہونے لگی۔ ہفتے میں کئی بار فلموںکے شو دکھائے ہی نہیں جاتے تھے۔ اس صورتحال پرفلمی حلقوں نے سنجیدگی سے غورکرنے اوراس کاحل تلاش کرنے کے بجائے ٹی وی یا دیگرکاروبارکا رخ کیا۔ فنکاروں نے بھی ٹی وی کا رخ کیا اورفلم انڈسٹری کو بے سہارا چھوڑ کرخود کو ان حالات سے آنکھیں چرانے لگے۔
انٹرویومیں اگر کوئی سوال کرتا کہ فلموں میںکام کیوں نہیں کرتے توان کا ایک ہی جواب ہوتا '' اچھی اورمعیار فلمیں نہیں بن رہیں۔ اس لئے ہم ایسے حالات میں کام نہیں کرسکتے''۔ یہ وہ بے بنیاد اورگھسا پٹا سا جواب ہے جس کے سہارے یہ مفادپرست لوگ اپنی خامیوں، کوتاہیوں اورنان پروفیشنل اندازکو چھپاتے ہیں۔ دیکھاجائے تویہی وہ فنکار ہیں جن کے کریڈٹ میں زبردست بزنس کرنے والی فلمیں ہیں اورانہی فنکاروںنے زیادہ کام حاصل کرنے اورایک دوسرے کے آپسی اختلافات میں ایسی فلمیں سائن کیں جن کو دیکھ کرفلم بینوں میں ان کی مقبولیت کم ہونے لگی۔ دنیا کی تمام فلم انڈسٹریوں کے ستاروں کے معاشقے، سکینڈلز منظرعام پرآتے رہتے ہیں لیکن ان سے ان کی مقبولیت میںکمی نہیں آتی اوروہ اپنے کام کو بہت سنجیدگی سے انجام دیتے ہیں۔
موجودہ صورتحال پاکستان فلم انڈسٹری سے وابستہ ہوکرکروڑوں روپے کمانے والے ان تمام فنکاروں، ہدایتکاروں ، ڈسٹری بیوٹرز، فلمسازوں، سٹوڈیومالکان اوردیگرکیلئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ ان سب لوگوںکو فلم انڈسٹری کو بچانے کیلئے اپنی مدد آپ کے تحت اچھی اورمعیاری فلمیں بنانا ہونگی۔ فلم انڈسٹری کی بقاء کیلئے انہیں اپنے اختلافات ختم کرنا ہونگے ، وگرنہ وہ وقت دورنہیں ہوگا جب آج فلمی ستارے سے'' فلم بین '' بننے والے فنکارکل اپنی سہی پہچان بھی کھو دیں گے۔