سرفراز احمد نے اوپننگ کا دیرینہ مسئلہ حل کر دیا
باصلاحیت کھلاڑی کی بدولت پاکستانی بیٹنگ کواستحکام حاصل ہوا، انضمام الحق
باصلاحیت کھلاڑی کی بدولت پاکستانی بیٹنگ کواستحکام حاصل ہوا، انضمام الحق۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل
سرفراز احمد نے اوپننگ کا دیرینہ مسئلہ حل کر دیا اور ناصر جمشید کی مسلسل ناکامی کے بعد انھیں آزمانے کا فیصلہ پاکستانی ٹیم کو راس آگیا۔
تفصیلات کے مطابق ورلڈکپ میں پاکستانی اوپنرز نے ابتدائی4میچز میں مجموعی طور پر22رنز کی شراکتیں کیں، محمد حفیظ کی انجری کے بعد خصوصی طور پر اسکواڈ میں شامل کیے جانیوالے ناصر جمشید بے بسی کی تصویر بنے رہے، اچھی بنیاد میسر نہ آنے کی وجہ سے مڈل آرڈر بھی غیر معمولی دباؤ کا شکار رہا، مینجمنٹ کی نظر میں اوپننگ کیلیے غیر موزوں قرار پانیوالے سرفراز احمد کو چارو ناچارموقع دیاگیا تو انھوں نے سب اندازے غلط ثابت کردیے، جنوبی افریقہ کے بعد آئرلینڈ کیخلاف مقابلے میں بھی وہ مین آف دی میچ رہے۔
وکٹ کیپر بیٹسمین نے میگا ایونٹ میں پاکستان کی جانب سے سنچری بنانے کا اعزاز بھی حاصل کیا، سابق کپتان انضمام الحق بھی ان کے کھیل سے بیحد متاثر ہیں، آئی سی سی کیلیے خصوصی کالم میں انھوں نے تحریر کیاکہ سرفراز احمد کو شامل نہ کیے جانے کی وجہ سے ٹیم کا بہتر کمبی نیشن تشکیل نہ دیا جا سکا، جوں ہی اسپیشلسٹ کھلاڑیوں کو کامیابی کی چابی سمجھ کر درست فیصلے کیے گئے مثبت نتائج سامنے آنے لگے، 7 بیٹسمین کھلانا منفی سوچ کا نتیجہ ہوتا ہے۔
5بولرز شامل کرنے کا مقصد ہے کہ ٹیم کا مزاج جارحانہ ہوگا، انھوں نے کہا کہ سرفراز احمد نے بطور اوپنر عمدہ کھیل سے مڈل آرڈر کو اچھی بنیاد فراہم کرنے کی ذمہ داری بخوبی اٹھائی، اسکور بورڈ کو متحرک رکھنے میں ان کی مہارت دیکھیں تو سابق کپتان جاوید میانداد کی یادیں ذہن میں تازہ ہو جاتی ہیں، جب بھی کوئی بیٹسمین تسلسل کے ساتھ سنگلز اور ڈبلز بنائے بولرز تشویش کا شکار ہوجاتے ہیں۔
انھیں بیٹسمین کی کمزوریاں آشکار کرنے کا موقع اور حوصلہ نہیں ملتا۔ انضمام نے سرفراز احمد کی بطور کھلاڑی اسپرٹ کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ عمر اکمل نے انھیں سنچری کا موقع فراہم کیا تو جواب میں انھوں نے بھی وننگ اسٹروک خود کھیلنے کے بجائے اپنے سینئر کو ترجیح دی۔
سابق کپتان نے کہا کہ محمد عرفان کی غیر موجودگی میں دیگرپیسرز نے اپنا کردار بخوبی نبھایا،احسان عادل نے بھی محسوس نہیں ہونے دیا کہ وہ کیریئر کا پہلا ورلڈکپ میچ کھیل رہے ہیں، پرانی گیند کے استعمال میں تو پاکستان کے بولرز کا کوئی جواب ہی نہیں۔
تفصیلات کے مطابق ورلڈکپ میں پاکستانی اوپنرز نے ابتدائی4میچز میں مجموعی طور پر22رنز کی شراکتیں کیں، محمد حفیظ کی انجری کے بعد خصوصی طور پر اسکواڈ میں شامل کیے جانیوالے ناصر جمشید بے بسی کی تصویر بنے رہے، اچھی بنیاد میسر نہ آنے کی وجہ سے مڈل آرڈر بھی غیر معمولی دباؤ کا شکار رہا، مینجمنٹ کی نظر میں اوپننگ کیلیے غیر موزوں قرار پانیوالے سرفراز احمد کو چارو ناچارموقع دیاگیا تو انھوں نے سب اندازے غلط ثابت کردیے، جنوبی افریقہ کے بعد آئرلینڈ کیخلاف مقابلے میں بھی وہ مین آف دی میچ رہے۔
وکٹ کیپر بیٹسمین نے میگا ایونٹ میں پاکستان کی جانب سے سنچری بنانے کا اعزاز بھی حاصل کیا، سابق کپتان انضمام الحق بھی ان کے کھیل سے بیحد متاثر ہیں، آئی سی سی کیلیے خصوصی کالم میں انھوں نے تحریر کیاکہ سرفراز احمد کو شامل نہ کیے جانے کی وجہ سے ٹیم کا بہتر کمبی نیشن تشکیل نہ دیا جا سکا، جوں ہی اسپیشلسٹ کھلاڑیوں کو کامیابی کی چابی سمجھ کر درست فیصلے کیے گئے مثبت نتائج سامنے آنے لگے، 7 بیٹسمین کھلانا منفی سوچ کا نتیجہ ہوتا ہے۔
5بولرز شامل کرنے کا مقصد ہے کہ ٹیم کا مزاج جارحانہ ہوگا، انھوں نے کہا کہ سرفراز احمد نے بطور اوپنر عمدہ کھیل سے مڈل آرڈر کو اچھی بنیاد فراہم کرنے کی ذمہ داری بخوبی اٹھائی، اسکور بورڈ کو متحرک رکھنے میں ان کی مہارت دیکھیں تو سابق کپتان جاوید میانداد کی یادیں ذہن میں تازہ ہو جاتی ہیں، جب بھی کوئی بیٹسمین تسلسل کے ساتھ سنگلز اور ڈبلز بنائے بولرز تشویش کا شکار ہوجاتے ہیں۔
انھیں بیٹسمین کی کمزوریاں آشکار کرنے کا موقع اور حوصلہ نہیں ملتا۔ انضمام نے سرفراز احمد کی بطور کھلاڑی اسپرٹ کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ عمر اکمل نے انھیں سنچری کا موقع فراہم کیا تو جواب میں انھوں نے بھی وننگ اسٹروک خود کھیلنے کے بجائے اپنے سینئر کو ترجیح دی۔
سابق کپتان نے کہا کہ محمد عرفان کی غیر موجودگی میں دیگرپیسرز نے اپنا کردار بخوبی نبھایا،احسان عادل نے بھی محسوس نہیں ہونے دیا کہ وہ کیریئر کا پہلا ورلڈکپ میچ کھیل رہے ہیں، پرانی گیند کے استعمال میں تو پاکستان کے بولرز کا کوئی جواب ہی نہیں۔