توانائی کے سستے ذرایع پر توجہ دینے کی ضرورت
پاکستان میں سولر انرجی سیکٹر میں سرمایہ کاری کے بہت زیادہ مواقع موجود ہیں
پاکستان میں گزشتہ کئی عشروں سے غیرملکی سرمایہ کار پاور سیکٹر میں بھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں. فوٹو: فائل
پاکستان میں توانائی کا روزافزوں بحران ملکی معاشی نمو کو شدید متاثر کر رہا ہے۔
اس بحران کے باعث ملکی صنعت' زراعت اور کاروباری سرگرمیاں معکوس سمت میں رواں ہیں۔ بجلی کی طلب کے مطابق بڑے پیداواری منصوبے شروع نہ کیے جانے کے باعث صورت حال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ ملک بھر میں بجلی کا شارٹ فال بڑھ رہاہے۔ اس وقت موسم بھی تبدیل ہوچکا ہے، اس کے باوجود لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ان ایام میں بھی شہری اور دیہی علاقوں میں 8' 8 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔ تیل کی قیمتیں بھی بہت بڑھ گئی ہیں، جب کہ لکڑی بھی مہنگی ہے۔ خوش آیند امر یہ ہے کہ پنجاب حکومت اور جرمنی کی سولر پاور پراجیکٹ ڈویلپمنٹ فرم کے درمیان برلن میں سولر انرجی پراجیکٹ کے حوالے سے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں۔
مفاہمت کی یادداشت کے مطابق جرمنی کی فرم پنجاب میں سولر انرجی کی پیداوار کے لیے بڑے پراجیکٹ پر کام کرے گی۔ جرمن پاور فرم کے نمایندے نومبر میں اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پنجاب کا دورہ کریں گے۔ پاکستان میں گزشتہ کئی عشروں سے غیرملکی سرمایہ کار پاور سیکٹر میں بھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ پاکستان میں اس سیکٹر میں سرمایہ کاری کے خاصے مواقع موجود ہیں ۔پاکستان میں چونکہ توانائی کا بحران شدت سے بڑھتا جا رہا ہے اس لیے پاور سیکٹر میں سرمایہ کاری کی طلب بھی اسی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ پاکستان اس وقت جن ذرایع سے بجلی بنا رہا ہے، وہ خاصے مہنگے پڑ رہے ہیں، اسی لیے بجلی کی قیمت بھی بڑھ رہی اور لوڈ شیڈنگ بھی ہورہی ہے۔
اس صورتحال سے نکلنے کے لیے توانائی کے متبادل اور سستے ذرایع تلاش کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ سولر انرجی بھی سستے ذرایع میں سے ایک ہے۔پاکستان میں سولر انرجی سیکٹر میں سرمایہ کاری کے بہت زیادہ مواقع موجود ہیں لہٰذا توانائی کی پیداوار بڑھانے کے لیے اس مفید ترین سیکٹر میں غیرملکی سرمایہ کاروں کو دعوت دینا وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔ اب پنجاب حکومت نے سولر انرجی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے جرمن فرم سے معاہدہ کر کے احسن قدم اٹھایا ہے۔ وفاقی حکومت کو بھی اس جانب توجہ دینی چاہیے اور ایک قومی پالیسی تشکیل دی جائے تاکہ ملک میں انرجی کا بحران کم ہوسکے۔
اس وقت دنیا بھر میں قدرت کے انمول عطیے شمسی توانائی سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ شمسی توانائی سے ریل گاڑیاں' کاریں' چولہے' بیٹری سیل اور دیگر بہت سے آلات چلائے جا رہے ہیں۔ وطن عزیز کو قدرت نے شمسی توانائی سے مالامال کر رکھا ہے۔ ضرورت اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے بہتر منصوبہ بندی کی ہے۔بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ مملکت خداداد میں سولر انرجی سے ایک لاکھ میگاواٹ اور ہوا سے 43 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس امر کا انکشاف بارہا ارباب اقتدار کی جانب سے بھی ہوتا رہتا ہے۔
سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی بھی اپنے دور حکومت میں پاکستان کے پہلے آن گرڈ سولر پاور جنریشن سسٹم کی افتتاحی تقریب میں اس امر کی جانب توجہ دلا چکے ہیں۔ ہمارے اہل اقتدار توانائی کے بحران کا بارہا ذکر تو کرتے رہتے ہیں مگر وہ ابھی تک کسی بھی ایسے بڑے منصوبے کا آغاز نہیں کر سکے جو توانائی کے بحران پر قابو پانے میں بھرپور کردار ادا کر سکے۔ یہ ہماری سب سے بڑی خامی ہے ۔دیامر بھاشا ڈیم کا منصوبہ بنایا گیا مگر بدقسمتی سے یہ ابھی تک تعطل کا شکار ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ یہ واضح کر چکی ہے کہ بارہ ارب ڈالر مالیت کے اس منصوبے کو ڈونرز کی طرف سے غیر محفوظ سرمایہ کاری تصور کیا جا رہا ہے۔کالا باغ ڈیم جو ایک قابل عمل اور بہتر منصوبہ ہے،سیاسی چپقلشوں کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔
پاکستان میں سیاستدان ایسے امور میں بھی مداخلت کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں جس کے بارے میں ان کا علم صفر ہوتا ہے۔ بجلی کے روزافزوں بحران کے باعث صنعتی اور زرعی شعبے میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے جس کے باعث یہ شعبے ترقی کی جانب پیش رفت کے بجائے زوال پذیری کا رجحان لیے ہوئے ہیں۔ توانائی کی کمی کے تاریک سائے ٹیکسٹائل انڈسٹری پر پڑے تو صنعت کاروں نے حکمرانوں کی روایتی غیرذمے داری اور عدم دلچسپی کے رجحان کے باعث اس صنعت کو ڈوبتا ہوا سورج تصور کرتے ہوئے بیرون ملک کا رخ کیا۔سرمایہ بیرون ملک منتقل ہوا تو ٹیکسٹائل انڈسٹری مزید بحران کا شکار ہوگئی جس سے ہزاروں مزدور بے روزگار ہو گئے۔
بجلی کی طلب میں جتنی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اسے دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل امر نہیں کہ اس جانب سنجیدگی سے توجہ نہ دی گئی تو مستقبل میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہو گا۔ تشویش ناک امر یہ ہے کہ ایوان اقتدار میں موجود ہمارے مقتدر حلقے تمام تر ادراک کے باوجود ابھی تک توانائی کا کوئی ایسا بڑا منصوبہ شروع کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے جس سے ہمارا مستقبل روشن اور بجلی کے بحران سے قطعی محفوظ ہو سکے۔ چھوٹے چھوٹے منصوبے بجلی کے بحران پر قابو پانے میں معمولی حد تک تو معاون ثابت ہو سکتے ہیں مگر بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث صنعتی' زرعی اور گھریلو ضروریات کی طلب میں جس قدر تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اس پر قابو پانے کے لیے طویل المدت بڑے منصوبے شروع کرنا ہوں گے۔
وطن عزیز میں بڑے پیمانے پر ہائیڈل پاور پوٹینشل موجود ہے اور اس سے فائدہ بھی اٹھایا جا رہا ہے مگر ابھی اس شعبے میں آگے بڑھنے کی بہت زیادہ گنجائش موجود ہے جس کی جانب توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ چھوٹے چھوٹے ڈیم بنا کر نہ صرف بجلی کی پیداوار میں مناسب اضافہ کیا جا سکتا ہے بلکہ آب پاشی کے نظام کو بہتر بنا کر زرعی شعبے میں بھی انقلاب لایا جا سکتا ہے۔ توانائی کے روایتی وسائل کے علاوہ قابل تجدید توانائی کے وسائل ہوا' شمسی توانائی اور بائیوماس سے فائدہ اٹھا کر ہم توانائی کے بحران پر قابو پا سکتے ہیں۔
گوبر اور کوڑا کرکٹ سے بائیو گیس پیدا کرنے کا عمل ابتدائی مرحلے میں ہے ،اسے زیادہ سے زیادہ توسیع دے کر ہم دیہی علاقوں میں خوشحالی لا سکتے ہیں۔اگر ہم اپنے انجینئروں اور ماہرین کو زیادہ سے زیادہ متحرک کرتے ہوئے انھیں مطلوبہ وسائل مہیا کریں تو وہ دن دور نہیں جب ہم توانائی کے بحران پر قابو پانے پر کامیاب ہو جائیں گے۔ ضرورت خلوص نیت کے ساتھ عملی طور پر آگے بڑھنے کی ہے۔
اس بحران کے باعث ملکی صنعت' زراعت اور کاروباری سرگرمیاں معکوس سمت میں رواں ہیں۔ بجلی کی طلب کے مطابق بڑے پیداواری منصوبے شروع نہ کیے جانے کے باعث صورت حال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ ملک بھر میں بجلی کا شارٹ فال بڑھ رہاہے۔ اس وقت موسم بھی تبدیل ہوچکا ہے، اس کے باوجود لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ان ایام میں بھی شہری اور دیہی علاقوں میں 8' 8 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔ تیل کی قیمتیں بھی بہت بڑھ گئی ہیں، جب کہ لکڑی بھی مہنگی ہے۔ خوش آیند امر یہ ہے کہ پنجاب حکومت اور جرمنی کی سولر پاور پراجیکٹ ڈویلپمنٹ فرم کے درمیان برلن میں سولر انرجی پراجیکٹ کے حوالے سے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں۔
مفاہمت کی یادداشت کے مطابق جرمنی کی فرم پنجاب میں سولر انرجی کی پیداوار کے لیے بڑے پراجیکٹ پر کام کرے گی۔ جرمن پاور فرم کے نمایندے نومبر میں اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پنجاب کا دورہ کریں گے۔ پاکستان میں گزشتہ کئی عشروں سے غیرملکی سرمایہ کار پاور سیکٹر میں بھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ پاکستان میں اس سیکٹر میں سرمایہ کاری کے خاصے مواقع موجود ہیں ۔پاکستان میں چونکہ توانائی کا بحران شدت سے بڑھتا جا رہا ہے اس لیے پاور سیکٹر میں سرمایہ کاری کی طلب بھی اسی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ پاکستان اس وقت جن ذرایع سے بجلی بنا رہا ہے، وہ خاصے مہنگے پڑ رہے ہیں، اسی لیے بجلی کی قیمت بھی بڑھ رہی اور لوڈ شیڈنگ بھی ہورہی ہے۔
اس صورتحال سے نکلنے کے لیے توانائی کے متبادل اور سستے ذرایع تلاش کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ سولر انرجی بھی سستے ذرایع میں سے ایک ہے۔پاکستان میں سولر انرجی سیکٹر میں سرمایہ کاری کے بہت زیادہ مواقع موجود ہیں لہٰذا توانائی کی پیداوار بڑھانے کے لیے اس مفید ترین سیکٹر میں غیرملکی سرمایہ کاروں کو دعوت دینا وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔ اب پنجاب حکومت نے سولر انرجی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے جرمن فرم سے معاہدہ کر کے احسن قدم اٹھایا ہے۔ وفاقی حکومت کو بھی اس جانب توجہ دینی چاہیے اور ایک قومی پالیسی تشکیل دی جائے تاکہ ملک میں انرجی کا بحران کم ہوسکے۔
اس وقت دنیا بھر میں قدرت کے انمول عطیے شمسی توانائی سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ شمسی توانائی سے ریل گاڑیاں' کاریں' چولہے' بیٹری سیل اور دیگر بہت سے آلات چلائے جا رہے ہیں۔ وطن عزیز کو قدرت نے شمسی توانائی سے مالامال کر رکھا ہے۔ ضرورت اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے بہتر منصوبہ بندی کی ہے۔بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ مملکت خداداد میں سولر انرجی سے ایک لاکھ میگاواٹ اور ہوا سے 43 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس امر کا انکشاف بارہا ارباب اقتدار کی جانب سے بھی ہوتا رہتا ہے۔
سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی بھی اپنے دور حکومت میں پاکستان کے پہلے آن گرڈ سولر پاور جنریشن سسٹم کی افتتاحی تقریب میں اس امر کی جانب توجہ دلا چکے ہیں۔ ہمارے اہل اقتدار توانائی کے بحران کا بارہا ذکر تو کرتے رہتے ہیں مگر وہ ابھی تک کسی بھی ایسے بڑے منصوبے کا آغاز نہیں کر سکے جو توانائی کے بحران پر قابو پانے میں بھرپور کردار ادا کر سکے۔ یہ ہماری سب سے بڑی خامی ہے ۔دیامر بھاشا ڈیم کا منصوبہ بنایا گیا مگر بدقسمتی سے یہ ابھی تک تعطل کا شکار ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ یہ واضح کر چکی ہے کہ بارہ ارب ڈالر مالیت کے اس منصوبے کو ڈونرز کی طرف سے غیر محفوظ سرمایہ کاری تصور کیا جا رہا ہے۔کالا باغ ڈیم جو ایک قابل عمل اور بہتر منصوبہ ہے،سیاسی چپقلشوں کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔
پاکستان میں سیاستدان ایسے امور میں بھی مداخلت کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں جس کے بارے میں ان کا علم صفر ہوتا ہے۔ بجلی کے روزافزوں بحران کے باعث صنعتی اور زرعی شعبے میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے جس کے باعث یہ شعبے ترقی کی جانب پیش رفت کے بجائے زوال پذیری کا رجحان لیے ہوئے ہیں۔ توانائی کی کمی کے تاریک سائے ٹیکسٹائل انڈسٹری پر پڑے تو صنعت کاروں نے حکمرانوں کی روایتی غیرذمے داری اور عدم دلچسپی کے رجحان کے باعث اس صنعت کو ڈوبتا ہوا سورج تصور کرتے ہوئے بیرون ملک کا رخ کیا۔سرمایہ بیرون ملک منتقل ہوا تو ٹیکسٹائل انڈسٹری مزید بحران کا شکار ہوگئی جس سے ہزاروں مزدور بے روزگار ہو گئے۔
بجلی کی طلب میں جتنی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اسے دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل امر نہیں کہ اس جانب سنجیدگی سے توجہ نہ دی گئی تو مستقبل میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہو گا۔ تشویش ناک امر یہ ہے کہ ایوان اقتدار میں موجود ہمارے مقتدر حلقے تمام تر ادراک کے باوجود ابھی تک توانائی کا کوئی ایسا بڑا منصوبہ شروع کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے جس سے ہمارا مستقبل روشن اور بجلی کے بحران سے قطعی محفوظ ہو سکے۔ چھوٹے چھوٹے منصوبے بجلی کے بحران پر قابو پانے میں معمولی حد تک تو معاون ثابت ہو سکتے ہیں مگر بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث صنعتی' زرعی اور گھریلو ضروریات کی طلب میں جس قدر تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اس پر قابو پانے کے لیے طویل المدت بڑے منصوبے شروع کرنا ہوں گے۔
وطن عزیز میں بڑے پیمانے پر ہائیڈل پاور پوٹینشل موجود ہے اور اس سے فائدہ بھی اٹھایا جا رہا ہے مگر ابھی اس شعبے میں آگے بڑھنے کی بہت زیادہ گنجائش موجود ہے جس کی جانب توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ چھوٹے چھوٹے ڈیم بنا کر نہ صرف بجلی کی پیداوار میں مناسب اضافہ کیا جا سکتا ہے بلکہ آب پاشی کے نظام کو بہتر بنا کر زرعی شعبے میں بھی انقلاب لایا جا سکتا ہے۔ توانائی کے روایتی وسائل کے علاوہ قابل تجدید توانائی کے وسائل ہوا' شمسی توانائی اور بائیوماس سے فائدہ اٹھا کر ہم توانائی کے بحران پر قابو پا سکتے ہیں۔
گوبر اور کوڑا کرکٹ سے بائیو گیس پیدا کرنے کا عمل ابتدائی مرحلے میں ہے ،اسے زیادہ سے زیادہ توسیع دے کر ہم دیہی علاقوں میں خوشحالی لا سکتے ہیں۔اگر ہم اپنے انجینئروں اور ماہرین کو زیادہ سے زیادہ متحرک کرتے ہوئے انھیں مطلوبہ وسائل مہیا کریں تو وہ دن دور نہیں جب ہم توانائی کے بحران پر قابو پانے پر کامیاب ہو جائیں گے۔ ضرورت خلوص نیت کے ساتھ عملی طور پر آگے بڑھنے کی ہے۔