بان کی مون کی ایران سے ہمدردی
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی ایران کے خلاف امریکی پالیسی پر تنقیدحیران کن اور کمزور اقوام کے لیے حوصلہ افزا ہے
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے ایران کے خلاف یکطرفہ پابندیوں کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ فوٹو: فائل
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے امریکا اور یورپی یونین کی طرف سے ایران کے خلاف عائد کردہ یکطرفہ پابندیوں کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ان پابندیوں سے ایرانی عوام شدید طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔
سیکریٹری جنرل بان کی مون کی طرف سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متذکرہ پابندیوں کی وجہ سے ایران میں کینسر' سانس اور دل کی بیماریوں سمیت دیگر مہلک اور جان لیوا امراض کے علاوہ عام بیماریوں کے علاج کے لیے بھی ادویات نایاب ہورہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے ایران کے خلاف یکطرفہ پابندیوں کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ جسے عرف عام میں امریکا اور مغربی یورپی ممالک کے زیر اثر تصور کیا جاتا ہے، یہ تاثر اس لیے بھی پختہ ہوا کہ جنرل اسمبلی ہو یا سلامتی کونسل بالعموم امریکا کے تمام فیصلوں کی باآسانی توثیق کردی جاتی ہے' اس تناظر میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے بارے میں یہی سمجھا جاتا ہے کہ وہ بھی امریکا کی پالیسی کے خلاف نہیں جاتے لیکن ان کی طرف سے ایران کے خلاف امریکی پالیسی پر تنقید یقیناً حیران کن اور کمزور اقوام کے لیے حوصلہ افزا ہے لیکن اس کے ساتھ کمزور اقوام کو یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اس عالمی ادارے کے سربراہ ہمہ گیر اختیارات کے مالک نہیں ہیں اور محض زبانی مذمت ہی کر سکتے ہیں' عملی طور پر وہ امریکا کا ہاتھ نہیں روک سکتے۔
یہ بات کسی کو نہیں بھولی ہو گی کہ افغانستان کے بعد عراق پر حملے کے لیے جب امریکا نے اقوام متحدہ سے حمایت طلب کی تھی تو ابتدا میں وہاں سے انکار ہو گیا تھا مگر اس کے باوجود امریکا حملہ کرنے سے باز نہ آیا کیونکہ عراق پر حملے کی منصوبہ بندی بھی امریکا نے پہلے سے ہی کر رکھی تھی اور اقوام متحدہ کو بھی امریکی موقف سے ہم آہنگ ہونا پڑا۔ اور ایسا کیوں نہ ہوتا کہ مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب کے بعد تیل کا سب سے بڑا ذخیرہ عراق میں ہی تھا۔ وہ تیل جو امریکی اور مغربی معاشرت کے لیے ''بلڈ لائن'' کی حیثیت رکھتا ہے۔ دنیا کو یہ بھی یاد ہو گا کہ عراق پر حملے سے قبل امریکا نے عراق پر بھی طویل عرصے سے اقتصادی پابندیاں عائد کر کھی تھیں جس کے نتیجے میں سیکڑوں کی تعداد میں عراقی باشندے ادویات کی عدم دستیابی کے باعث لقمہ اجل بن رہے تھے۔
ان میں بچوں کی تعداد بالخصوص بہت زیادہ تھی جنھیں دودھ کی فراہمی بھی بند ہو گئی تھی۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ایران پر امریکا اور یورپی ممالک کی پابندیاں بھی دراصل ایران کے خلاف جنگی کارروائیاں شروع کرنے کی پیش بندی کہی جا سکتی ہیں۔ عراقی صدر صدام حسین پر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار رکھنے کا جھوٹا الزام لگایا گیا تھا اور اس سے ملتا جلتا الزام ایران پر بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے حالانکہ ایران بار بار واضح کر چکا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام قطعی طور پر پُر امن ہے۔
وہ اس ذریعے سے اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنا چاہتا ہے اور ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کو وہ اصولی طور پر انسانیت کے خلاف سنگین جرم تصور کرتا ہے۔ ایسی صورت میں اس پر ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے الزام پر اصرار کا آخر کیا مقصد ہے؟ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے ایران کی حمایت میں جو رپورٹ جنرل اسمبلی میں پیش کی ہے، اس پر امریکا یا یورپی یونین کی طرف سے عمل درآمد کا تو کوئی امکان نہیں البتہ حربی طاقت کے نشے میں اندھی ہو جانے والی طاقتیں سیکریٹری جنرل کی مذمت ضرور کر سکتی ہیں۔ ان حالات کے پیش نظر ضرورت اس امر کی ہے کہ روس ، چین اور دنیا کی دوسری قوتیں ، امریکا کا راستہ روکنے کی کوشش کریں تاکہ دنیا کا امن خراب نہ ہو۔
سیکریٹری جنرل بان کی مون کی طرف سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متذکرہ پابندیوں کی وجہ سے ایران میں کینسر' سانس اور دل کی بیماریوں سمیت دیگر مہلک اور جان لیوا امراض کے علاوہ عام بیماریوں کے علاج کے لیے بھی ادویات نایاب ہورہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے ایران کے خلاف یکطرفہ پابندیوں کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ جسے عرف عام میں امریکا اور مغربی یورپی ممالک کے زیر اثر تصور کیا جاتا ہے، یہ تاثر اس لیے بھی پختہ ہوا کہ جنرل اسمبلی ہو یا سلامتی کونسل بالعموم امریکا کے تمام فیصلوں کی باآسانی توثیق کردی جاتی ہے' اس تناظر میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے بارے میں یہی سمجھا جاتا ہے کہ وہ بھی امریکا کی پالیسی کے خلاف نہیں جاتے لیکن ان کی طرف سے ایران کے خلاف امریکی پالیسی پر تنقید یقیناً حیران کن اور کمزور اقوام کے لیے حوصلہ افزا ہے لیکن اس کے ساتھ کمزور اقوام کو یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اس عالمی ادارے کے سربراہ ہمہ گیر اختیارات کے مالک نہیں ہیں اور محض زبانی مذمت ہی کر سکتے ہیں' عملی طور پر وہ امریکا کا ہاتھ نہیں روک سکتے۔
یہ بات کسی کو نہیں بھولی ہو گی کہ افغانستان کے بعد عراق پر حملے کے لیے جب امریکا نے اقوام متحدہ سے حمایت طلب کی تھی تو ابتدا میں وہاں سے انکار ہو گیا تھا مگر اس کے باوجود امریکا حملہ کرنے سے باز نہ آیا کیونکہ عراق پر حملے کی منصوبہ بندی بھی امریکا نے پہلے سے ہی کر رکھی تھی اور اقوام متحدہ کو بھی امریکی موقف سے ہم آہنگ ہونا پڑا۔ اور ایسا کیوں نہ ہوتا کہ مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب کے بعد تیل کا سب سے بڑا ذخیرہ عراق میں ہی تھا۔ وہ تیل جو امریکی اور مغربی معاشرت کے لیے ''بلڈ لائن'' کی حیثیت رکھتا ہے۔ دنیا کو یہ بھی یاد ہو گا کہ عراق پر حملے سے قبل امریکا نے عراق پر بھی طویل عرصے سے اقتصادی پابندیاں عائد کر کھی تھیں جس کے نتیجے میں سیکڑوں کی تعداد میں عراقی باشندے ادویات کی عدم دستیابی کے باعث لقمہ اجل بن رہے تھے۔
ان میں بچوں کی تعداد بالخصوص بہت زیادہ تھی جنھیں دودھ کی فراہمی بھی بند ہو گئی تھی۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ایران پر امریکا اور یورپی ممالک کی پابندیاں بھی دراصل ایران کے خلاف جنگی کارروائیاں شروع کرنے کی پیش بندی کہی جا سکتی ہیں۔ عراقی صدر صدام حسین پر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار رکھنے کا جھوٹا الزام لگایا گیا تھا اور اس سے ملتا جلتا الزام ایران پر بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے حالانکہ ایران بار بار واضح کر چکا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام قطعی طور پر پُر امن ہے۔
وہ اس ذریعے سے اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنا چاہتا ہے اور ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کو وہ اصولی طور پر انسانیت کے خلاف سنگین جرم تصور کرتا ہے۔ ایسی صورت میں اس پر ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے الزام پر اصرار کا آخر کیا مقصد ہے؟ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے ایران کی حمایت میں جو رپورٹ جنرل اسمبلی میں پیش کی ہے، اس پر امریکا یا یورپی یونین کی طرف سے عمل درآمد کا تو کوئی امکان نہیں البتہ حربی طاقت کے نشے میں اندھی ہو جانے والی طاقتیں سیکریٹری جنرل کی مذمت ضرور کر سکتی ہیں۔ ان حالات کے پیش نظر ضرورت اس امر کی ہے کہ روس ، چین اور دنیا کی دوسری قوتیں ، امریکا کا راستہ روکنے کی کوشش کریں تاکہ دنیا کا امن خراب نہ ہو۔