عوام کے نمایندے اور ان کا فرض

بدقسمتی سے پاکستان میں اسمبلیوں میں پہنچنے والے سیاستدانوں نے کبھی اپنی حقیقی اہمیت کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔

انتہائی حساس مقامات پر بھی دہشت گردی ہو چکی ہے۔ مسئلہ حفاظتی اقدامات کا نہیں ہے بلکہ نظریاتی کنفیوژن دور کرنے کا بھی ہے۔ فوٹو : فائل

قومی اسمبلی میں یوحنا آباد لاہور میں گرجا گھروں پر حملے میں ہلاک ہونیوالے افراد کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اور جاں بحق پولیس اہلکاروں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی جب کہ ارکان اسمبلی نے تجویز دی کہ حکومت عبادت گاہوں کی حفاظت کے لیے ٹاسک فورس بنائے، ایم کیو ایم کے جاں بحق کارکن وقاص کے لیے بھی دعا کرائی گئی۔

پیر کو قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس میں لاہور میں گرجاگھروں پر دہشت گردی کے واقعات پر بحث کی گئی۔پیپلز پارٹی کے رکن سید نوید قمر نے کہاکہ دہشت گردوں کے خلاف ہرطرح کے اقدامات کیے جائیں۔ آسیہ ناصر نے کہا کہ ان حملوں کا نشانہ بننے والے گرجا گھروں کی سیکیورٹی کم تھی، کچھ اہلکار میچ دیکھنے میں مصروف تھے، پنجاب حکومت اقلیتوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے۔

خلیل جارج نے کہا چرچ کی سیکیورٹی پر مامور دو جوانوں نے اپنی جان کا نذرانہ دیکر کئی لوگوں کی جانیں بچائیں۔ حکومت عبادت گاہوں کی حفاظت کے لیے ایک ٹاسک فورس بنائے جو مندر، مساجد اور گرجاگھروں کی فول پروف سیکیورٹی فراہم کرے، زندہ انسانوں کو جلانے کے واقعات نہیں ہونے چاہئیں۔ آصف حسنین نے کہا جو لوگ گرجا گھروں پر حملوں میں ملوث ہیں ان پر فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلایا جائے۔

جی جی جمال اور عائشہ سید نے کہا لاہور دھماکوں کے بعد جن دو افراد کو زندہ جلایا گیا یہ بھی دہشتگردی ہے، اس کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ غلام بلور نے کہا علماء دہشتگردی کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں۔ محمود اچکزئی نے کہا ہم حالت جنگ میں ہیں تو باقی باتوں کو چھوڑ کر توجہ دہشتگردی کے خاتمے پر مرکوز کرنی چاہیے، لوگوں کو مارنے کی اتھارٹی دی گئی تو ریاست کا اللہ ہی حافظ ہے، پاکستان افغانستان، چین اور ایران کو ساتھ ملائیں، امریکا سے جاسوسی آلات لیں، دو ماہ میں ملک دہشتگردی کی لعنت سے بالکل صاف ہو جائے گا۔

یہ امر خوش آیند ہے کہ قومی اسمبلی میں سانحہ یوحنا آباد پر بحث ہوئی ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عوام کے نمایندے اس سانحے سے لاتعلق نہیں ہیں'ہونا بھی یہ چاہیے ۔قومی اسمبلی میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے موجود ہیں۔ یہ امر خوش آیند ہے کہ دہشت گردی کے حوالے سے سب نے تقریباً یکساں موقف اختیار کیا۔ سینیٹ کے ارکان کو بھی ایسا کرنا چاہیے۔


ارکان اسمبلی نے جن معاملات پر روشنی ڈالی اور تجاویز پیش کی ہیں حکومت کو چاہیے کہ وہ ان پر غور کرے بلکہ اس سلسلے میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کا مشترکہ اجلاس ہونا چاہیے۔

اس مشترکہ اجلاس میں اتفاق رائے سے قرار داد پاس کی جائے جس کی روشنی میں حکومت ملک میں دہشت گردی کے خاتمے اور اقلیتوں کے تحفظ کے لیے جامع اور ٹھوس حکمت عملی اپنائے' عوام کے نمایندوں کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ صرف اپنی مراعات بڑھانے کے لیے قانون پاس کریں یا اپنے استحقاق کے لیے بحث کریں۔یا پھر ترقیاتی فنڈ لے کر ٹھیکیداروں میں بانٹیں یا سرکاری نوکریوں کے کوٹے حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کریں، عوام کے نمایندوں کو قانون ساز اداروں میں بیٹھ کر اپنی افادیت ثابت کرنی چاہیے۔

انھیں قانون ساز اداروں میں بیٹھ کر ایسی قانون سازی کرنی چاہیے جس سے ملک میں پسماندہ اور غریب طبقات کو فائدہ پہنچے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اسمبلیوں میں پہنچنے والے سیاستدانوں نے کبھی اپنی حقیقی اہمیت کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ ارکان کی زیادہ تر تعداد ذاتی اثرورسوخ کے لیے الیکشن لڑتی ہے۔ بعض ارکان تو ایسے ہوتے ہیں جنھیں قانون سازی کا علم ہی نہیں ہوتا۔ وہ حکومت کی ٹیم کے تیار کردہ مسودہ قانون کو پڑھنے کی بھی زحمت نہیں کرتے اور چپ چاپ اس پر اپنے دستخط کر دیتے ہیں۔ اگر وہ اپوزیشن کا رکن ہے تو اپنی پارٹی پالیسی کے مطابق بائیکاٹ کر دیتا ہے یا واک آؤٹ کر دیتا ہے۔

سانحہ لاہور پر ارکان اسمبلی میں بحث کر کے ایک مثبت سمت قدم بڑھایا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی سیکیورٹی کا انتظام اتنا اچھا نہیں ہے جتنا ہونا چاہیے۔ ویسے تو پاکستان میں کسی بھی عمارت یا مکان کی سیکیورٹی کو فول پروف قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دہشت گرد جہاں چاہیں بڑی آسانی سے واردات کر سکتے ہیں اور وہ ایسا کر بھی رہے ہیں ۔پاکستان میں کونسی ایسی جگہ ہے جو دہشت گردوں سے محفوظ رہی ہے۔

انتہائی حساس مقامات پر بھی دہشت گردی ہو چکی ہے۔ مسئلہ حفاظتی اقدامات کا نہیں ہے بلکہ نظریاتی کنفیوژن دور کرنے کا بھی ہے۔ پاکستان کے قانون ساز جب تک دہشت گردی کے حوالے سے اپنے ذہنوں کو واضح نہیں کرتے اور امور مملکت اور رموز مملکت کے باریک فرق کو نہیں سمجھتے اس وقت تک پاکستان میں دہشت گردی ختم ہو گی اور نہ ہی مستحکم حکومت کا قیام عمل میں آ سکے گا۔روز حادثے اور سانحے ہوتے ہیں اور اس کے بعد مذمتی بیانات جاری ہوتے ہیں، مالی امداد کا اعلان ہوتا ہے اور پھر کسی نئے سانحے کا انتظار شروع ہو جاتا ہے۔
Load Next Story