عوامی جمہوریت
کیجری وال کوئی بھگوان یا دیوتا نہیں وہ بھی بندہ بشر ہے، اس میں بھی بشری کمزوریاں ہوسکتی ہیں
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
لاہور:
جب ہم اشرافیائی جمہوریت کے خلاف لکھتے ہیں تو جمہوریت کے حامی یہ سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ ہم جمہوریت کے مخالف نہیں بلکہ اس اشرافیائی جمہوریت کے مخالف ہیں جو لوٹ مار سے شروع ہوتی ہے اور لوٹ مار پر ختم ہوتی ہے۔ غالباً یہ بھٹو صاحب کا وہ دور تھا جب ان کی حکومت مزدور کسان راج کے دعوے سے نکل کر وڈیرہ راج کی حدود میں داخل ہوگئی تھی اور بھٹو صاحب کی جمہوریت سے مایوس لوگ ایک بہتر متبادل نظام پر غور کر رہے تھے۔
لاہور کے ماڈل ٹاؤن میں ہمارے محترم ساتھی سید مطلبی فرید آبادی کے مکان پر ایک اجلاس میں اس بات پر غور ہو رہا تھا کہ عوام کے سروں پر سے گزر جانے والے انقلابی نعروں کے بجائے ایسا نعرہ بلند کیا جائے جو عوام کی سمجھ میں بھی آئے اور قابل عمل بھی ہو، یہ نعرہ یا ایجنڈا ''عوامی جمہوریت'' تھا۔ یعنی ایسی جمہوریت جس میں عوام کے نام پر قانون ساز اداروں اور حکومتوں میں چوروں ڈاکوؤں اور لٹیروں کے بجائے عوام کے ایماندار مخلص اور باصلاحیت نمایندے جاسکیں، پھر اس نام سے سید مطلبی فرید آبادی نے ایک ہفت روزہ بھی نکالنا شروع کیا جس میں تواتر سے لکھنے کا اعزاز ہمیں بھی حاصل ہوا۔
تقریباً اس وقت کے سارے دوست ہم سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ چکے ہیں اور عوامی جمہوریت کا خواب اب بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا۔ اشرافیائی جمہوریت کی پٹی آنکھوں پر باندھے عوام اور خواص سیاست کے صحرا میں بھٹک رہے ہیں، اس حوالے سے عوام کو رہنمائی فراہم کرنے والے بوجوہ اشرافیائی جمہوریت کی دہلیز پر سجدہ ریز ہیں۔ اس سے پہلے کہ ہم عوامی جمہوریت کا جائزہ لیں، بھارت کی سیاسی صورتحال پر ایک نظر ڈالیں گے۔
بھارت میں جاگیردارانہ نظام حصول آزادی کے فوری بعد ختم کردیا گیا جس کی وجہ سے بھارت کی سیاست میں یہ گند موجود نہیں لیکن چونکہ بھارت سرمایہ دارانہ نظام کا چولا اوڑھ چکا ہے، اس لیے وہ ساری مکروہات بھارتی سیاست میں در آئی ہیں جو سرمایہ دارانہ نظام کا لازمہ ہوتی ہیں، اس سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ بھارتی عوام نے مایوسیوں کے اندھیرے میں ایک ایسے جگنو کا دامن تھام لیا ہے جو اپنی فکر میں جاگیردارانہ نظام کی فکریت سے بھی گیا گزرا ہے اور بھارت جیسے فطری حوالے سے سیکولر ملک کو ہندو ریاست بنانے کی احمقانہ کوشش کر رہا ہے اور اس کوشش کے مضمرات سے واقف لوگ سر پکڑ کر رو رہے ہیں۔
ایسی مایوس کن صورتحال میں لوئر مڈل کلاس کا ایک سر پھرا شخص عام آدمی پارٹی کا پرچم تھام کر دہلی کے انتخابات میں کود پڑا اور بھارت کی نیم اشرافیائی نیم مذہبی جماعتوں کے خلاف ڈٹ گیا، اس کنگال شخص کے پاس صرف اور صرف ایمانداری اور خلوص کا سرمایہ تھا، ریاست کے عوام نے سرمایہ داروں اور مذہبی دیوتاؤں کو ٹھکرا کر اس مڈل کلاس اروند کیجری وال کی جھولی میں 70 کے ایوان میں سے 67 نشستیں ڈال دیں، صرف 3 سیٹیں مذہب کی ٹھیکیدار بی جے پی کو بھیک میں دیں اور عشروں تک عوام کو بے وقوف بنانے والی کانگریس کی جھولی میں نفرت اور بیزاری کا ووٹ ڈال دیا۔
یہی حال دوسری جماعتوں کا کردیا اور عام آدمی پارٹی کے سر دہلی کا تاج سجادیا۔ دہلی کی صورتحال سے روایتی لوٹ مار پارٹیوں میں سراسیمگی پھیلی ہوئی ہے اور ان عوام دشمن جماعتوں کو یہ خوف لاحق ہوگیا ہے کہ اگر یہ خطرناک ہوا دلی سے نکل کر سارے بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے لے تو ان کا کیا ہوگا؟
کیجری وال کوئی بھگوان یا دیوتا نہیں وہ بھی بندہ بشر ہے، اس میں بھی بشری کمزوریاں ہوسکتی ہیں لیکن وہ جس عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اگر یہ عزم سلامت رہے اور اس کے پیر نہ ڈگمگائیں تو عام آدمی پارٹی بھارت کے ڈیڑھ ارب عوام کو اپنی طرف راغب کرسکتی ہے۔ کیجری وال عوام کو جھوٹے وعدوں پر ٹرخانے والا نیتا نہیں ہے، اس نے انتخابی مہم کے دوران دلی کے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ انتخابات میں کامیابی کے فوری بعد دلی والوں کے گھروں میں صاف پانی مفت پہنچائیں گے، سو اس نے پانی کی کمی سے دو چار اہل دلی کے ہر گھر میں پانی پہنچادیا۔ اس نے دلی والوں سے وعدہ کیا تھا کہ بجلی کی قیمت میں 50 فیصد کمی کردے گا۔
اس نے یہ کمی کرکے دلی والوں سے کیا وعدہ پورا کردیا۔ کیجری وال نے عہد کیا ہے کہ وہ اپنی ریاست سے وی آئی پی کلچر ختم کردے گا اور حکمران لمبے لمبے حفاظتی اسکواڈ کے جھرمٹ میں عوام کے سروں سے نہیں گزریں گے انھیں بھی عوام کے ساتھ بسوں کے اسٹاپ پر لائن میں کھڑا ہونا پڑے گا۔ ترقی یافتہ ملکوں کے حکمران بھی عام ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے ہیں تو بھارتی حکمران ایسا کیوں نہیں کرسکتے؟ کیجری وال نے عہد کیا ہے کہ اگلے 5 سال میں اپنی ریاست کو کرپشن سے پاک کردے گا۔
کیجری وال نے وعدہ کیا تھا کہ اس کی تقریب حلف برداری میں VIPچور لٹیرے نہیں عوام شرکت کریں گے، اس نے یہ وعدہ بھی پورا کیا، اس کی تقریب حلف برداری میں شرکت کرنے والے دلی کے غریب نادار لوگ تھے ، سرمایہ دار نہیں تھے۔ کیجری وال جب گھر سے نکلتا ہے تو نہ سیٹیاں بجتی ہیں نہ ٹریفک کو روک دیا جاتا ہے، وہ عام آدمی کی طرح عام آدمی کے ساتھ عام ٹرانسپورٹ پر سفر کرتا ہے۔ اس نے اپنی تقریر میں کہا ''اس دیش کے نیتاؤں نے سمجھ لیا تھا کہ یہاں کے عوام مردہ ہیں۔
یہ کچلے ہوئے عوام ہمارا کیا بگاڑ لیں گے۔ لیکن یہ کچلے ہوئے عوام نے 2015ء کے انتخابات میں عام آدمی پارٹی کو 70 میں سے 67 سیٹیں دلا کر ثابت کردیا کہ وہ مردہ نہیں زندہ اور باشعور عوام ہیں۔ اس نے کہا جو اس کھیتوں میں ہل جوتتا ہے سیاستدان اس کے ساتھ ہل نہیں چلاتے۔ اس ملک کے عوام گھروں کی تعمیر کرتے ہیں، خواص اس کام کو کسر شان سمجھتے ہیں ، اس دیس کا عام آدمی رکشہ چلاتا ہے خواص رکشے میں بیٹھنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔اس دیس کا عام آدمی ہی تحقیق اور ایجاد کا کام کرتا ہے خواص یہ کام نہیں کرتے۔ جب یہ حرام خور عوام کا کوئی کام نہیں کرتے تو پھر انھیں حکومت کرنے کا کیا حق ہے۔
سو انھوں نے عام آدمی پارٹی کو اقتدار دے دیا۔ اب قانون ساز اداروں اور حکومت میں عام آدمی غریب آدمی ہے VIP کو ان ایوانوں سے نکال باہر کیا گیا ہے، اب غریبوں کی زندگیوں کو سنوارنے کا کام غریب ہی کریں گے۔ کیجری وال نے کہا بھگوان، ایشور، اللہ سچائی کا ساتھ دیتے ہیں بشرطیکہ کوئی سچا ان کے سامنے ہو۔ ہمارے عوام نے بھرشٹ راج نیتی (ناپاک حکومتی نظام) کو ختم کردیا ہے۔ ہماری لڑائی ناپاک نظام کو ختم کرکے سچائی اور ایمانداری کا نظام قائم کرنے کی لڑائی ہے۔
کیجری وال نے عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے عوام پر مشتمل درجنوں ٹاسک فورس قائم کر دی ہیں جو رات دن کام کر رہی ہیں نہ حرام کی کھا رہی ہیں نہ اربوں کی لوٹ مار کر رہی ہیں۔
کیجری وال چہرے نہیں نظام بدلنے کی جستجو کر رہا ہے اس نے یہ بڑا کام بھارت کے دارالحکومت دلی سے شروع کیا ہے اگر اس کی پارٹی اسی رفتار سے کام کرتی رہے گی تو بھارت کی تمام حرام خور پارٹیوں کا ڈبہ گول ہوجائے گا اور بھارت کی ہر ریاست کے قانون ساز اداروں میں مزدور،کسان اور غریب طبقات کے لوگ ہوں گے۔ یہی عوامی جمہوریت ہے جس میں جمہوریت کا مطلب ''عوام کی حکومت عوام کے لیے عوام کے ذریعے'' ہوتا ہے۔
پاکستان اسی مرحلے سے گزر رہا ہے، پاکستانی عوام کو گمراہ کرنے، دھوکا دینے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں، انھیں پاکستان کو جنت بنانے کے خواب دکھائے جا رہے ہیں، انھیں جمہوریت کے نام پر ViP کلچر کا یرغمالی بنایا جا رہا ہے، ان کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹانے کے لیے انھیں بجلی گیس کی لوڈشیڈنگ، مہنگائی کے مصنوعی مسائل میں الجھایا جا رہا ہے، انھیں اس ناپاک نظام سے باندھے رکھنے کے لیے ولی عہدوں، شہزادیوں کے جال میں پھنسایا جا رہا ہے۔
انھیں دھوکا دینے کے لیے ترقیاتی منصوبوں کی چکا چوند دکھائی جا رہی ہے لیکن جب حالات اپنی خرابی کی آخری حدوں کو چھوتے ہیں تو کوئی نہ کوئی اروند کیجری وال باہر نکلتا ہے اور 70 کے ایوان سے 67 نشستیں حاصل کرکے اشرافیہ کے کفن دفن کا انتظام کردیتا ہے۔ ہم نے سید مطلبی فرید آبادی مرحوم سکنہ ماڈل ٹاؤن کے مکان میں بیٹھ کر 45-40 سال پہلے جس عوامی جمہوریت کا خواب دیکھا تھا، یہ خواب جلد یا بدیر پورا ہوگا کیونکہ یہی قانون فطرت ہے۔
اس عوامی جمہوریت سے وہ نظام ابھرے گا جس میں کوئی بھوکا نہ ننگا نہ بیمار نہ بے کار ، سب خوش حال ہوں گے اور آدم کی اولاد انسان ہوں گے ، نفرت تعصب امتیازات رفع دفع ہوجائیں گے ، ہر طرف امن سکون اور محبت و خوشحالی ہوگی۔
جب ہم اشرافیائی جمہوریت کے خلاف لکھتے ہیں تو جمہوریت کے حامی یہ سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ ہم جمہوریت کے مخالف نہیں بلکہ اس اشرافیائی جمہوریت کے مخالف ہیں جو لوٹ مار سے شروع ہوتی ہے اور لوٹ مار پر ختم ہوتی ہے۔ غالباً یہ بھٹو صاحب کا وہ دور تھا جب ان کی حکومت مزدور کسان راج کے دعوے سے نکل کر وڈیرہ راج کی حدود میں داخل ہوگئی تھی اور بھٹو صاحب کی جمہوریت سے مایوس لوگ ایک بہتر متبادل نظام پر غور کر رہے تھے۔
لاہور کے ماڈل ٹاؤن میں ہمارے محترم ساتھی سید مطلبی فرید آبادی کے مکان پر ایک اجلاس میں اس بات پر غور ہو رہا تھا کہ عوام کے سروں پر سے گزر جانے والے انقلابی نعروں کے بجائے ایسا نعرہ بلند کیا جائے جو عوام کی سمجھ میں بھی آئے اور قابل عمل بھی ہو، یہ نعرہ یا ایجنڈا ''عوامی جمہوریت'' تھا۔ یعنی ایسی جمہوریت جس میں عوام کے نام پر قانون ساز اداروں اور حکومتوں میں چوروں ڈاکوؤں اور لٹیروں کے بجائے عوام کے ایماندار مخلص اور باصلاحیت نمایندے جاسکیں، پھر اس نام سے سید مطلبی فرید آبادی نے ایک ہفت روزہ بھی نکالنا شروع کیا جس میں تواتر سے لکھنے کا اعزاز ہمیں بھی حاصل ہوا۔
تقریباً اس وقت کے سارے دوست ہم سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ چکے ہیں اور عوامی جمہوریت کا خواب اب بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا۔ اشرافیائی جمہوریت کی پٹی آنکھوں پر باندھے عوام اور خواص سیاست کے صحرا میں بھٹک رہے ہیں، اس حوالے سے عوام کو رہنمائی فراہم کرنے والے بوجوہ اشرافیائی جمہوریت کی دہلیز پر سجدہ ریز ہیں۔ اس سے پہلے کہ ہم عوامی جمہوریت کا جائزہ لیں، بھارت کی سیاسی صورتحال پر ایک نظر ڈالیں گے۔
بھارت میں جاگیردارانہ نظام حصول آزادی کے فوری بعد ختم کردیا گیا جس کی وجہ سے بھارت کی سیاست میں یہ گند موجود نہیں لیکن چونکہ بھارت سرمایہ دارانہ نظام کا چولا اوڑھ چکا ہے، اس لیے وہ ساری مکروہات بھارتی سیاست میں در آئی ہیں جو سرمایہ دارانہ نظام کا لازمہ ہوتی ہیں، اس سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ بھارتی عوام نے مایوسیوں کے اندھیرے میں ایک ایسے جگنو کا دامن تھام لیا ہے جو اپنی فکر میں جاگیردارانہ نظام کی فکریت سے بھی گیا گزرا ہے اور بھارت جیسے فطری حوالے سے سیکولر ملک کو ہندو ریاست بنانے کی احمقانہ کوشش کر رہا ہے اور اس کوشش کے مضمرات سے واقف لوگ سر پکڑ کر رو رہے ہیں۔
ایسی مایوس کن صورتحال میں لوئر مڈل کلاس کا ایک سر پھرا شخص عام آدمی پارٹی کا پرچم تھام کر دہلی کے انتخابات میں کود پڑا اور بھارت کی نیم اشرافیائی نیم مذہبی جماعتوں کے خلاف ڈٹ گیا، اس کنگال شخص کے پاس صرف اور صرف ایمانداری اور خلوص کا سرمایہ تھا، ریاست کے عوام نے سرمایہ داروں اور مذہبی دیوتاؤں کو ٹھکرا کر اس مڈل کلاس اروند کیجری وال کی جھولی میں 70 کے ایوان میں سے 67 نشستیں ڈال دیں، صرف 3 سیٹیں مذہب کی ٹھیکیدار بی جے پی کو بھیک میں دیں اور عشروں تک عوام کو بے وقوف بنانے والی کانگریس کی جھولی میں نفرت اور بیزاری کا ووٹ ڈال دیا۔
یہی حال دوسری جماعتوں کا کردیا اور عام آدمی پارٹی کے سر دہلی کا تاج سجادیا۔ دہلی کی صورتحال سے روایتی لوٹ مار پارٹیوں میں سراسیمگی پھیلی ہوئی ہے اور ان عوام دشمن جماعتوں کو یہ خوف لاحق ہوگیا ہے کہ اگر یہ خطرناک ہوا دلی سے نکل کر سارے بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے لے تو ان کا کیا ہوگا؟
کیجری وال کوئی بھگوان یا دیوتا نہیں وہ بھی بندہ بشر ہے، اس میں بھی بشری کمزوریاں ہوسکتی ہیں لیکن وہ جس عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اگر یہ عزم سلامت رہے اور اس کے پیر نہ ڈگمگائیں تو عام آدمی پارٹی بھارت کے ڈیڑھ ارب عوام کو اپنی طرف راغب کرسکتی ہے۔ کیجری وال عوام کو جھوٹے وعدوں پر ٹرخانے والا نیتا نہیں ہے، اس نے انتخابی مہم کے دوران دلی کے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ انتخابات میں کامیابی کے فوری بعد دلی والوں کے گھروں میں صاف پانی مفت پہنچائیں گے، سو اس نے پانی کی کمی سے دو چار اہل دلی کے ہر گھر میں پانی پہنچادیا۔ اس نے دلی والوں سے وعدہ کیا تھا کہ بجلی کی قیمت میں 50 فیصد کمی کردے گا۔
اس نے یہ کمی کرکے دلی والوں سے کیا وعدہ پورا کردیا۔ کیجری وال نے عہد کیا ہے کہ وہ اپنی ریاست سے وی آئی پی کلچر ختم کردے گا اور حکمران لمبے لمبے حفاظتی اسکواڈ کے جھرمٹ میں عوام کے سروں سے نہیں گزریں گے انھیں بھی عوام کے ساتھ بسوں کے اسٹاپ پر لائن میں کھڑا ہونا پڑے گا۔ ترقی یافتہ ملکوں کے حکمران بھی عام ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے ہیں تو بھارتی حکمران ایسا کیوں نہیں کرسکتے؟ کیجری وال نے عہد کیا ہے کہ اگلے 5 سال میں اپنی ریاست کو کرپشن سے پاک کردے گا۔
کیجری وال نے وعدہ کیا تھا کہ اس کی تقریب حلف برداری میں VIPچور لٹیرے نہیں عوام شرکت کریں گے، اس نے یہ وعدہ بھی پورا کیا، اس کی تقریب حلف برداری میں شرکت کرنے والے دلی کے غریب نادار لوگ تھے ، سرمایہ دار نہیں تھے۔ کیجری وال جب گھر سے نکلتا ہے تو نہ سیٹیاں بجتی ہیں نہ ٹریفک کو روک دیا جاتا ہے، وہ عام آدمی کی طرح عام آدمی کے ساتھ عام ٹرانسپورٹ پر سفر کرتا ہے۔ اس نے اپنی تقریر میں کہا ''اس دیش کے نیتاؤں نے سمجھ لیا تھا کہ یہاں کے عوام مردہ ہیں۔
یہ کچلے ہوئے عوام ہمارا کیا بگاڑ لیں گے۔ لیکن یہ کچلے ہوئے عوام نے 2015ء کے انتخابات میں عام آدمی پارٹی کو 70 میں سے 67 سیٹیں دلا کر ثابت کردیا کہ وہ مردہ نہیں زندہ اور باشعور عوام ہیں۔ اس نے کہا جو اس کھیتوں میں ہل جوتتا ہے سیاستدان اس کے ساتھ ہل نہیں چلاتے۔ اس ملک کے عوام گھروں کی تعمیر کرتے ہیں، خواص اس کام کو کسر شان سمجھتے ہیں ، اس دیس کا عام آدمی رکشہ چلاتا ہے خواص رکشے میں بیٹھنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔اس دیس کا عام آدمی ہی تحقیق اور ایجاد کا کام کرتا ہے خواص یہ کام نہیں کرتے۔ جب یہ حرام خور عوام کا کوئی کام نہیں کرتے تو پھر انھیں حکومت کرنے کا کیا حق ہے۔
سو انھوں نے عام آدمی پارٹی کو اقتدار دے دیا۔ اب قانون ساز اداروں اور حکومت میں عام آدمی غریب آدمی ہے VIP کو ان ایوانوں سے نکال باہر کیا گیا ہے، اب غریبوں کی زندگیوں کو سنوارنے کا کام غریب ہی کریں گے۔ کیجری وال نے کہا بھگوان، ایشور، اللہ سچائی کا ساتھ دیتے ہیں بشرطیکہ کوئی سچا ان کے سامنے ہو۔ ہمارے عوام نے بھرشٹ راج نیتی (ناپاک حکومتی نظام) کو ختم کردیا ہے۔ ہماری لڑائی ناپاک نظام کو ختم کرکے سچائی اور ایمانداری کا نظام قائم کرنے کی لڑائی ہے۔
کیجری وال نے عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے عوام پر مشتمل درجنوں ٹاسک فورس قائم کر دی ہیں جو رات دن کام کر رہی ہیں نہ حرام کی کھا رہی ہیں نہ اربوں کی لوٹ مار کر رہی ہیں۔
کیجری وال چہرے نہیں نظام بدلنے کی جستجو کر رہا ہے اس نے یہ بڑا کام بھارت کے دارالحکومت دلی سے شروع کیا ہے اگر اس کی پارٹی اسی رفتار سے کام کرتی رہے گی تو بھارت کی تمام حرام خور پارٹیوں کا ڈبہ گول ہوجائے گا اور بھارت کی ہر ریاست کے قانون ساز اداروں میں مزدور،کسان اور غریب طبقات کے لوگ ہوں گے۔ یہی عوامی جمہوریت ہے جس میں جمہوریت کا مطلب ''عوام کی حکومت عوام کے لیے عوام کے ذریعے'' ہوتا ہے۔
پاکستان اسی مرحلے سے گزر رہا ہے، پاکستانی عوام کو گمراہ کرنے، دھوکا دینے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں، انھیں پاکستان کو جنت بنانے کے خواب دکھائے جا رہے ہیں، انھیں جمہوریت کے نام پر ViP کلچر کا یرغمالی بنایا جا رہا ہے، ان کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹانے کے لیے انھیں بجلی گیس کی لوڈشیڈنگ، مہنگائی کے مصنوعی مسائل میں الجھایا جا رہا ہے، انھیں اس ناپاک نظام سے باندھے رکھنے کے لیے ولی عہدوں، شہزادیوں کے جال میں پھنسایا جا رہا ہے۔
انھیں دھوکا دینے کے لیے ترقیاتی منصوبوں کی چکا چوند دکھائی جا رہی ہے لیکن جب حالات اپنی خرابی کی آخری حدوں کو چھوتے ہیں تو کوئی نہ کوئی اروند کیجری وال باہر نکلتا ہے اور 70 کے ایوان سے 67 نشستیں حاصل کرکے اشرافیہ کے کفن دفن کا انتظام کردیتا ہے۔ ہم نے سید مطلبی فرید آبادی مرحوم سکنہ ماڈل ٹاؤن کے مکان میں بیٹھ کر 45-40 سال پہلے جس عوامی جمہوریت کا خواب دیکھا تھا، یہ خواب جلد یا بدیر پورا ہوگا کیونکہ یہی قانون فطرت ہے۔
اس عوامی جمہوریت سے وہ نظام ابھرے گا جس میں کوئی بھوکا نہ ننگا نہ بیمار نہ بے کار ، سب خوش حال ہوں گے اور آدم کی اولاد انسان ہوں گے ، نفرت تعصب امتیازات رفع دفع ہوجائیں گے ، ہر طرف امن سکون اور محبت و خوشحالی ہوگی۔