سعودی شہری نے ’’واٹس ایپ ‘‘ پر نامناسب میسج پر بیوی کو طلاق دیدی
بیوی نے اسٹیٹس میں لکھا تھا "میں دعا کرتی ہوں کے مجھے تمہیں برداشت کرنے کا صبر مل سکے۔"
بیوی کے میسیج کی وجہ سے مجھے اپنے دوستوں کی بیویوں اور رشتہ داروں کے سامنے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا، سعودی شہری۔ فوٹو: فائل
سعودی عرب میں ایک شہری نے'' واٹس ایپ ''پر ناپسندیدہ اسٹیٹس کی وجہ سے اپنی اہلیہ کو طلاق دیدی۔
ایک سعودی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک شہری نے پیغام رسانی کی ایپلیکیشن 'وٹس ایپ' پر ناپسندیدہ اسٹیٹس کی وجہ سے اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی ہے۔ خاوند نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بیوی نے اسٹیٹس میں لکھا تھا "میں دعا کرتی ہوں کے مجھے تمہیں برداشت کرنے کا صبر مل سکے۔"
اس عبارت کے بعد سعودی خاوند کے نام کے ابتدائی حروف درج تھے۔ خاوند کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی ایک رشتہ دار سے کہا کہ وہ پتہ چلائیں کہ یہ عبارت میرے لیے ہے۔ انھوں نے تصدیق کی اور مجھے اپنے دوستوں کی بیویوں اور رشتہ داروں کے سامنے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ سال واٹس ایپ پر رابطے کے دوران شوہر نے بے رخی کا مظاہرہ کرنے والی بیوی کو موقع پر ہی طلاق دے دی تھی جب کہ گزشتہ دنوں ایک اور سعودی خاتون کی جانب سے واٹس ایپ پر ایک شخص کی بے عزتی کرنے پر سعودی نے خاتون کو 70 کوڑوں اور 20 ہزار ریال جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
ایک سعودی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک شہری نے پیغام رسانی کی ایپلیکیشن 'وٹس ایپ' پر ناپسندیدہ اسٹیٹس کی وجہ سے اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی ہے۔ خاوند نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بیوی نے اسٹیٹس میں لکھا تھا "میں دعا کرتی ہوں کے مجھے تمہیں برداشت کرنے کا صبر مل سکے۔"
اس عبارت کے بعد سعودی خاوند کے نام کے ابتدائی حروف درج تھے۔ خاوند کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی ایک رشتہ دار سے کہا کہ وہ پتہ چلائیں کہ یہ عبارت میرے لیے ہے۔ انھوں نے تصدیق کی اور مجھے اپنے دوستوں کی بیویوں اور رشتہ داروں کے سامنے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ سال واٹس ایپ پر رابطے کے دوران شوہر نے بے رخی کا مظاہرہ کرنے والی بیوی کو موقع پر ہی طلاق دے دی تھی جب کہ گزشتہ دنوں ایک اور سعودی خاتون کی جانب سے واٹس ایپ پر ایک شخص کی بے عزتی کرنے پر سعودی نے خاتون کو 70 کوڑوں اور 20 ہزار ریال جرمانے کی سزا سنائی تھی۔