کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن میں ایڈمنسٹریٹر کا تقرر نہ ہوسکا
شہریوں کا کہنا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کا ادارہ مکمل طور پر لاوارث ہو گیا ہے
شہریوں نے منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انتہائی اہمیت کے حامل اس ادارے کے انتظامی ڈھانچے کو فعال کریں اور میٹروپولیٹن کارپوریشن میں کسی سنجیدہ افسر کی تقرری کی جائے۔ فوٹو: فائل
سندھ پیپلزمیٹروپولیٹن کارپوریشن آرڈیننس 2012کو جاری ہوئے ایک ماہ گزر جانے کے باوجود کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن میں ایڈمنسٹریٹر کا تقرر نہیں کیا گیا ہے۔
جس کے باعث بلدیہ عظمیٰ میں انتظامی ڈھانچہ قائم نہ ہونے کے باعث شہری امور کی انجام دہی کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل یہ ادارہ مکمل طور پر عضو معطل بنا ہوا ہے اور جس کا خمیازہ کراچی کے شہریوں کو اپنے بڑھتے ہوئے مسائل کی صورت میں برداشت کرنا پڑرہا ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کا ادارہ مکمل طور پر لاوارث ہو گیا ہے ، صور تحال سے شدید ذہنی و جسمانی اذیت کا سامنا ہے۔
شہریوں نے منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انتہائی اہمیت کے حامل اس ادارے کے انتظامی ڈھانچے کو فعال کریں اور میٹروپولیٹن کارپوریشن میں کسی سنجیدہ افسر کی تقرری کی جائے، تفصیلات کے مطابق گورنر سندھ کی طرف سے ایک ماہ قبل سندھ پیپلز میٹروپولیٹن کارپوریشن آرڈیننس 2012کا اجراکیا گیا تھا تاہم ایک ماہ گزر جانے کے باوجود اس حوالے سے صوبائی حکومت نے بلدیہ عظمیٰ میں ایڈمنسٹریٹر کی تقرری نہیں کی ہے جس کے باعث بلدیہ عظمیٰ مکمل طورپر عضو معطل بنا ہوا ہے، اس اہم ادارے کے افسران نے اپنے دفاتر میں بیٹھنا چھوڑ دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جب تک باقاعدہ ایڈمنسٹریٹر یا دیگر افسران کی تقرری نہیں ہوجاتی ہم کس حیثیت سے دفتر میں بیٹھیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ کالعدم بلدیہ عظمیٰ کے ایڈمنسٹریٹر محمد حسین جو اپنے دفتر تو کئی ہفتے سے نہیں آئے مگر منصوبوں کا افتتاح ضرور کررہے ہیں جس پر افسران نے حیرت کا اظہار کیا ہے کہ محمد حسین سید کس حیثیت سے یہ تقاریب منعقد کررہے ہیں اور صوبے میں کسی بھی سطح سے بلدیہ عظمیٰ میں ایڈمنسٹریٹر کی تقرری پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جارہا ہے، بلدیہ عظمیٰ میں اس وقت بدترین صورتحال ہے۔
محکمے کے اعلیٰ افسران اول تو دفتر آتے ہی نہیں اور آتے ہیں تو صرف گپ شپ کے لیے آتے ہیں جبکہ اس صورتحال سے سب سے زیادہ کراچی کے شہری پریشان ہورہے ہیں، یہ شہری اپنے مختلف مسائل کے حل کے لیے سوک سینٹر کے دفتر کے چکر لگارہے ہیں مگر کوئی افسر ان کی بات سننے کو بھی تیار نہیں ہیں، ان شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر کے اتنے اہم ادارے کو مکمل طور پرلاوارث چھوڑ دیاگیا ہے اور اس صورتحال سے کراچی کے شہریوں کو ذہنی وجسمانی اذیت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ان کا کوئی پرسان حال ہی نہیں ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ کسی بھی طرف سے اس بات کا معمولی نوعیت کا نوٹس نہیں لیا جارہا ہے۔
جس سے واضح طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی کو اس بات سے دلچسپی نہیں ہے کہ شہریوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے کن کن مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، کراچی کے شہریوں نے کراچی کے منتخب نمائندوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس صورتحال کا سخت نوٹس لیں، کراچی کے اس اہم ادارے میں فوری طور پر ایڈمنسٹریٹر کا تقرر کرکے یہاں اس کے انتظامی ڈھانچے کو فعال کیا جائے اور فوری طور پر اس میٹروپولیٹن کارپوریشن میں کسی سنجیدہ اور شہریوں کے مسائل کا درد رکھنے والے افسر کی تقرری کی جائے۔
جس کے باعث بلدیہ عظمیٰ میں انتظامی ڈھانچہ قائم نہ ہونے کے باعث شہری امور کی انجام دہی کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل یہ ادارہ مکمل طور پر عضو معطل بنا ہوا ہے اور جس کا خمیازہ کراچی کے شہریوں کو اپنے بڑھتے ہوئے مسائل کی صورت میں برداشت کرنا پڑرہا ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کا ادارہ مکمل طور پر لاوارث ہو گیا ہے ، صور تحال سے شدید ذہنی و جسمانی اذیت کا سامنا ہے۔
شہریوں نے منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انتہائی اہمیت کے حامل اس ادارے کے انتظامی ڈھانچے کو فعال کریں اور میٹروپولیٹن کارپوریشن میں کسی سنجیدہ افسر کی تقرری کی جائے، تفصیلات کے مطابق گورنر سندھ کی طرف سے ایک ماہ قبل سندھ پیپلز میٹروپولیٹن کارپوریشن آرڈیننس 2012کا اجراکیا گیا تھا تاہم ایک ماہ گزر جانے کے باوجود اس حوالے سے صوبائی حکومت نے بلدیہ عظمیٰ میں ایڈمنسٹریٹر کی تقرری نہیں کی ہے جس کے باعث بلدیہ عظمیٰ مکمل طورپر عضو معطل بنا ہوا ہے، اس اہم ادارے کے افسران نے اپنے دفاتر میں بیٹھنا چھوڑ دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جب تک باقاعدہ ایڈمنسٹریٹر یا دیگر افسران کی تقرری نہیں ہوجاتی ہم کس حیثیت سے دفتر میں بیٹھیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ کالعدم بلدیہ عظمیٰ کے ایڈمنسٹریٹر محمد حسین جو اپنے دفتر تو کئی ہفتے سے نہیں آئے مگر منصوبوں کا افتتاح ضرور کررہے ہیں جس پر افسران نے حیرت کا اظہار کیا ہے کہ محمد حسین سید کس حیثیت سے یہ تقاریب منعقد کررہے ہیں اور صوبے میں کسی بھی سطح سے بلدیہ عظمیٰ میں ایڈمنسٹریٹر کی تقرری پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جارہا ہے، بلدیہ عظمیٰ میں اس وقت بدترین صورتحال ہے۔
محکمے کے اعلیٰ افسران اول تو دفتر آتے ہی نہیں اور آتے ہیں تو صرف گپ شپ کے لیے آتے ہیں جبکہ اس صورتحال سے سب سے زیادہ کراچی کے شہری پریشان ہورہے ہیں، یہ شہری اپنے مختلف مسائل کے حل کے لیے سوک سینٹر کے دفتر کے چکر لگارہے ہیں مگر کوئی افسر ان کی بات سننے کو بھی تیار نہیں ہیں، ان شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر کے اتنے اہم ادارے کو مکمل طور پرلاوارث چھوڑ دیاگیا ہے اور اس صورتحال سے کراچی کے شہریوں کو ذہنی وجسمانی اذیت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ان کا کوئی پرسان حال ہی نہیں ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ کسی بھی طرف سے اس بات کا معمولی نوعیت کا نوٹس نہیں لیا جارہا ہے۔
جس سے واضح طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی کو اس بات سے دلچسپی نہیں ہے کہ شہریوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے کن کن مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، کراچی کے شہریوں نے کراچی کے منتخب نمائندوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس صورتحال کا سخت نوٹس لیں، کراچی کے اس اہم ادارے میں فوری طور پر ایڈمنسٹریٹر کا تقرر کرکے یہاں اس کے انتظامی ڈھانچے کو فعال کیا جائے اور فوری طور پر اس میٹروپولیٹن کارپوریشن میں کسی سنجیدہ اور شہریوں کے مسائل کا درد رکھنے والے افسر کی تقرری کی جائے۔